پاک-بھارت کشیدگی: مذاکرات کا راستہ کھلنا چاہیے، اماراتی ولی عہد

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2019

ای میل

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد نے دونوں ممالک میں مسائل کے جلد حل کی امید کا اظہار کیا — فائل فوٹو/ٹوئٹر اکاؤنٹ شیخ زید
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد نے دونوں ممالک میں مسائل کے جلد حل کی امید کا اظہار کیا — فائل فوٹو/ٹوئٹر اکاؤنٹ شیخ زید

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر دباؤ کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے دونوں ممالک کے وزرا اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’یو اے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زید بن سلطان النہیان نے عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ قائم کیا ہے‘۔

اماراتی حکام کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کرتے ہوئے ولی عہد زید بن النہیان نے دونوں ممالک میں کشدیدگی میں کمی کرنے اور مذاکرات کے لیے راستے کھولنے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: حقیقی مدبر: بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے پر عمران خان کی تعریفیں

انہوں نے عمران خان اور نریندر مودی سے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک میں بہتر تعلقات کی حمایت کی اور ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے سربراہان اپنے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق شہزادہ زید بن النہیان نے عمران خان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ’اسٹیٹس مین لائیک اسپیچ‘ (مدبرانہ خطاب) اور پر امن طریقے سے تمام معاملات کے حل کی خواہش کے اظہار کی تعریف کی۔

علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اروان نے بھی وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے گرفتار پائلٹ کو جذبہ خیر سگالی کے تحت کل رہا کردیں گے، وزیراعظم

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ترک صدر نے وزیر اعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب اور بھارت کو کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے کام کرنے پر مدبرانہ پیشکش پر مبارک باد دی'۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام امن پسند مذہب ہے جو تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنا سکھاتا ہے‘۔

ترک صدر نے وزیر اعظم کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کو سراہا اور نشاندہی کی کہ ان کا یہ عمل قوت کا نشان ہے۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردوان سے موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہیں گے۔

وزیر اعظم نے گزشتہ چند دنوں میں سامنے آنی والی صورتحال کے حوالے سے ترک صدر کو بتایا اور موجودہ بحران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کاوشوں کا بتایا۔

مزید پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی: لائن آف کنٹرول پر پاک فوج ہائی الرٹ

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جاری کشیدگی اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کا بھی بتایا۔

وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر کی پاکستان اور کشمیری عوام کے لیے مسلسل تعاون اور حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان واحد ملک ہے جو ہمیشہ ترکی کے ساتھ کھڑا رہے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ امن چاہتے ہیں اور اسے کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوششیں کی ہیں‘۔


یہ خبر ڈان اخبار میں یکم مارچ 2019 کو شائع ہوئی