سول ایوی ایشن کی زمین کا تنازع، لاہور کے ماسٹر پلان کی نظرثانی کا عندیہ

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2019

ای میل

آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سول ایوی ایشن اپنی اربوں روپے مالیت کی زمین پر سے قبضہ ختم نہیں کرا سکا— تصویر بشکریہ فیس بک
آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سول ایوی ایشن اپنی اربوں روپے مالیت کی زمین پر سے قبضہ ختم نہیں کرا سکا— تصویر بشکریہ فیس بک

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی زمین کے آڈٹ سے متعلق اعتراضات پر لاہور کے ماسٹر پلان کا جائزہ لینے کا عندیہ دے دیا۔

کمیٹی کا اجلاس سینیٹر شبلی فراز کی زیر سربراہی منعقد ہوا جس میں سول ایوی ایشن کی زمین سے متعلق اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’نیشنل سیکیورٹی‘ کے نام پر لی گئی زمین ہاؤسنگ اسکیم میں تبدیل

اجلاس میں کہا گیا کہ حقائق جاننے کے لیے 1947 سے اب تک کے ریونیو ریکارڈز کا جائزہ لینا پڑے گا۔

سول ایوی ایشن کا دیگر حکومتی اداروں کے ساتھ زمین کا تبادلہ ہوا اورآڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ان ڈیلز میں متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔

چونکہ ذیلی کمیٹی لاہور میں سول ایوی ایشن کی زمین سے متعلق پیراگراف کا جائزہ لے کر بے ضابطگیوں کی چھان بین کر رہی تھی، سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کمیٹی شاید لاہور کے ماسٹر پلان کا جائزہ لے۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی: لالچ اور قبضے کا لامحدود سلسلہ

سول ایوی ایشن لاہور کی زمین کی پاکستان ایئرفورس کی ہاؤسنگ اسکیم میں منتقلی کے حوالے سے آڈٹ پیراگراف کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے ریاست کی زمین پر ہاؤسنگ اسکیم کی تعمیر کے لیے سول ایوی ایشن اور ایئر فورس کے درمیان معاہدے کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی سول ایوی ایشن(جی ایم والٹن ایروڈوم لاہور) والٹن ایروڈوم پر واقع سول ایوی ایشن کی 19.21 ایکڑ کی زمین خالی نہیں کرا سکتا، اس کے نتیجے میں ایک ارب 92کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کی سول ایوی ایشن کی زمین پر قبضہ کر لیا گیا۔