ٹارگٹ کی تلاش میں تھا، پاک فضائیہ نے میراطیارہ مارگرایا، بھارتی پائلٹ کا دوسرا بیان

اپ ڈیٹ 02 مارچ 2019

ای میل

پاک فضائیہ کی جانب سے گرائے گئے بھارتی طیارے کے پائلٹ ابھی نندن نے رہائی سے قبل اپنے دوسرے ویڈیو بیان میں کہا کہ ٹارگٹ تلاش کررہا تھا کہ پاک فضائیہ نے میرا طیارہ مار گرایا جبکہ بھارتی میڈیا چھوٹی سی چیز کو آگ لگاکر بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے رہائی سے قبل ویڈیو بیان میں کہا کہ ‘میرا نام ونگ کمانڈر ابھی نندن ہے اور میں ٹارگٹ ڈھونڈنے کی کوشش کررہا تھا کہ پاکستانی ایئر فورس نے گرایا، اس کے بعد مجھے اپنا جہاز چھوڑنا پڑا جو ٹوٹ گیا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جیسے ہی میں نے پیرا شوٹ کھولا اور جب میں نیچے گرا تو میرے پاس پستول تھی اور لوگ بہت زیادہ تھے، مجھے بچاؤ کے لیے پستول چلانا پڑی اور میں نے بھاگنے کی کوشش کی'۔

بھارتی پائلٹ نے کہا کہ 'میرے پیچھے لوگ آئے جن کا جوش کافی اونچا تھا، اسی وقت پاکستانی آرمی کے دو جوان آئے جنہوں نے مجھے لوگوں سے بچایا اور کچھ نہیں ہونے دیا'۔

مزید پڑھیں: گرفتار بھارتی پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا

پاکستانی جوانوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'وہ مجھے اپنی یونٹ تک لے کر گئے جہاں مجھے ابتدائی طبی امداد دی جس کے بعد مجھے ہسپتال منتقل کردیا گیا اور مزید علاج کیا گیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'بھارتی میڈیا بات ہمیشہ بڑھا چڑھا کر کہتا ہے اور جو چھوٹی سی چیز ہوتی ہے اس کو اتنا آگ اور مرچ لگا کر بولتا ہیں کہ لوگ اس کے بہکاوے میں آجاتے ہیں'۔

بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن نے اپنے بیان میں کہا کہ 'پاکستانی آرمی بہت ہی پروفیشنل سروس ہے، میں نے پاکستانی آرمی کے ساتھ وقت گزارا اور میں بہت متاثر ہوں'۔

بعد ازاں بھارتی پائلٹ کو واہگہ بارڈر میں بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو تمام کاغذی کارروائی کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا اور وہ واپس اپنے ملک پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مشتعل ہجوم سے بچانے پر پاک فوج کے جوانوں کا شکر گزار ہوں، بھارتی پائلٹ

پائلٹ کی حوالگی کے موقع پر بھارت کی جانب سے اپنی سرحد پر پرچم اتارنے کی تقریب کو بھی منسوخ کردیا گیا جبکہ پاکستان کی جانب سے واہگہ بارڈر پر حسب معمول پرچم اتارنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

واہگہ بارڈر پر بھارتی پائلٹ کی حوالگی سے قبل ابھی نندن کا طبی معائنہ بھی کیا گیا۔

یاد رہے کہ 27 فروری کو پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فضائیہ کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس حوالے سے کہا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دونوں طیاروں کو مار گرایا گیا جس میں سے ایک کا ملبہ آزاد کشمیر اور دوسرے کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے ساتھ ساتھ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار مقبوضہ کشمیر میں 6 اہداف کا انتخاب کیا کیونکہ بھارت نے ہم پر جارحیت کی تھی، ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کیا اور 350 دہشت گردوں کو مارا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی دراندازی کی کوشش کے بعد جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا لیکن جواب کیسے دیا جاتا، کیا اسی طریقے سے جس طرح بھارت نے دیا یا پھر ایسے جیسے ایک ذمہ دار ملک دیتا ہے، جب رب ہمیں صلاحیت دیتا ہے تو اس میں شکر کا عنصر آتا ہے، وہ استعمال کرنے سے زیادہ اپنے خود کے دفاع کے لیے ہوتی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے پاس صلاحیت بھی ہے اور جذبہ بھی جبکہ عوام کا ساتھ اور ہر قسم کی چیز موجود ہے لیکن ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں۔

بعد ازاں 28 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے گرفتار بھارتی پائلٹ کو خیرسگالی کے جذبے کے تحت رہا کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی جانب سے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ 26 جولائی کو جب میں وزیراعظم نہیں بنا تھا تب بھی میں نے یہ بیان دیا تھا کہ ہندوستان ایک قدم ہماری جانب بڑھائے پاکستان 2 قدم بڑھائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پوری قوم متحد ہے، مشکل وقت میں اکٹھے ہونے پر اپوزیشن کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں دنیا کے سب سے زیادہ غریب لوگ رہتے ہیں، برصغیر کے آگے بڑھنے کے لیے امن ضروری ہے۔