شام: جنگجوؤں کے حملے میں شامی فورسز کے 21 اہلکار ہلاک

03 مارچ 2019

ای میل

شامی جمہوری فورسز نے چند روز میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا  — فوٹو: اے ایف پی
شامی جمہوری فورسز نے چند روز میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا — فوٹو: اے ایف پی

شام میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے شامی فورسز کے 21 اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کے مطابق صوبے ادلب کے قریب حملہ کیا گیا جو شامی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین معاہدے کے 6 ماہ بعد سب سے خوفناک حملہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں کردش ملیشیا کی امریکی حمایت ایک بڑی غلطی تھی، ترکی

سیرین آبزرویٹری کے مطابق انصار التوحید سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے صبح کے وقت شامی فورسز پر حملہ کرکے 21 اہلکاروں کو قتل کردیا۔

برطانوی نگراں ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ ’شامی فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 جنگجوبھی ہلاک ہوئے‘۔

واضح رہے کہ شام میں انصار التوحید، حراس الدین کا ایک گروپ ہے جو مذکورہ علاقے میں فعال ہے اور دونوں تنظیموں کو القاعدہ کی شاخیں سمجھا جاتا ہے۔

شام کے صوبے حلب اور حما سمیت ادلب کے بعض حصوں میں حریف جماعت ہیئہ تحریرالشام (ایچ ٹی ایس) کا کنٹرول ہے اور ایچ ٹی ایس میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سابق جنگجو شامل ہیں۔

مزیدپڑھیں: شام میں امریکا کی موجودگی ابتدا ہی سے’غیر منطقی‘ تھی، ایران

دوسری جانب عسکری ذرائع نے ریاستی نیوز ایجنسی صنعا کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ صوبہ حلب کے قریب حملے میں کئی سپاہی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

شام کے وزیر خارجہ نے حملے سے متعلق بیان میں کہا کہ ’شام دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو ہرگز حملوں کی اجازت نہیں دے گا، ان کے حملے میں شہری اور مسلح فورسز کے اہلکار ہلاک ہوتے ہیں‘۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے دسمبر 2018 میں شام سے فوجی انخلا کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ داعش نے 2014 کے موسم سرما میں عراق کے شمال مغرب میں دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔

بعد ازاں امریکا نے فضائی کارروائی کے ذریعے عراق کی سرحدوں پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مسلح مہم شروع کردی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد فوج نے نومبر 2017 میں موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’شام سے امریکی فوج کے انخلا میں 4ماہ لگ سکتے ہیں‘

واضح رہے کہ شام میں امریکا کی سربراہی میں ڈیموکریٹک فورسز نے اکتوبر میں الرقہ پر قبضہ حاصل کرلیا تھا۔

امریکا اور روس دونوں نے اپنی اپنی اتحادی فورسز کے ساتھ خصوصی تعاون کیا تھا اور فضائی کارروائیاں کی تھیں۔

روس کی جانب سے شام میں صدر بشارالاسد کی زیرسرپرستی حکومتی فورسز کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔