پاکستان کی 'جوابی کارروائی' میں جے ایف-17طیارہ استعمال ہوا، رپورٹ

اپ ڈیٹ 04 مارچ 2019

ای میل

جے ایف-17 تھنڈر چینی ساختہ جنگی طیارہ ہے — فوٹو: پی پی آئی
جے ایف-17 تھنڈر چینی ساختہ جنگی طیارہ ہے — فوٹو: پی پی آئی

واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں بھارتی دراندازی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھارتی طیارے کو مار گرانے کے لیے ایف-16 کے بجائے جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے کا استعمال کیا۔

خیال رہے کہ جے ایف-17 تھنڈر چینی ساختہ جنگی طیارہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا۔

سی این این کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ممکن ہے کہ بھارتی طیارے کو گرانے اور نتیجتاً پائلٹ ابھی نندن کو حراست میں لینے کی کارروائی میں ان میں سے ایک طیارے کا استعمال کیا گیا ہو‘۔

واضح رہے کہ امریکی سفارت کار جاننا چاہتے تھے کہ کیا پاکستان نے اس کارروائی میں امریکی ساختہ طیارے ایف-16 کو استعمال کیا تھا؟

یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ میں جے ایف - 17 تھنڈر طیارہ کی شمولیت

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ بھارتی طیارہ روسی ساختہ ایم آئی جی-21 تھا، جو 1960 سے بھارتی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے اور ایسے 200 طیاروں میں سے ایک تھا۔

اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ایشیا اسپیسفک کالج آسٹریلیا کے ایک استاد نشانک موٹوانی نے سی این این کو بتایا کہ یہ طیارے مختلف حادثات کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی پائلٹس اس جہاز کو ’اڑتا تابوت‘ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کے بھاری دفاعی بجٹ کے باوجود ان طیاروں کا استعمال مسائل کی نشاندہی کرتا ہے کیوں کہ بجٹ میں ایک بڑی رقم اس کی دیکھ بھال اور تنخواہوں کی مد میں مختص کی جاتی ہے‘۔

رپورٹ میں بھارتی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیقات کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’طیاروں کو جدید بنانے کے لیے بجٹ کی رقم کا 14 فیصد حصہ خرچ ہوتا ہے جو قطعی طور پر ناکافی ہے‘۔

دوسری جانب اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اس بارے میں معلومات حاصل کررہا ہے کہ آیا پاکستان نے بھارتی طیارے کو مار گرانے کے لیے امریکی ساختہ ایف-16 طیارے کو استعمال کیا۔

اگر ایسا ہوا تو یہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ایف-16 کی خریداری کے لیے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں ایف-16 طیارے کا استعمال نہیں کیا گیا جبکہ بھارتی طیارے کو دراندازی کرنے پر مار گرانے کو دفاعی کارروائی بھی قرار دیا گیا۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں ان اطلاعات کی خبر ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کررہے ہیں، ہم دفاعی شقوں کے غلط استعمال کو نہایت سنجیدگی سے دیکھتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: دبئی ایئر شو میں پاکستانی طیارے کی دھوم

خیال رہے کہ امریکا عموماً فروخت کیے گئے دفاعی ساز و سامان کے استعمال میں نام نہاد ’اینڈ یوزر ایگریمنٹ‘ کے تحت رکاوٹیں حائل کرتا ہے۔

قبل ازیں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے حالیہ کارروائی میں اے آئی ایم-120سی-5 ایڈوانس میڈیم رینج فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل فائر کیا تھا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی کارروائی میں ایف-16 وائپر طیاروں کا استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ بھارت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک پاکستانی طیارے کو مار گرایا تھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے خلاف حالیہ کارروائی میں ایف-16 طیارے کا استعمال ہی نہیں کیا تو مار گرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


یہ خبر 4 مارچ 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔