پی ایس ایل 4: کئی خوبیاں بھی تھیں تو چند خامیاں بھی

20 مارچ 2019

ای میل

تمام تر خدشات اور خطرات کے باوجود پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چوتھا سیزن بھی کئی خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام کو پہنچا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب آغاز سے اختتام تک ہر گزرتے دن کے ساتھ کامیابی کی امیدیں کم ہوتی جا رہی تھیں۔ انتظامیہ کو اتنی رکاوٹوں کا سامنا تو شاید پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں بھی نہیں کرنا پڑا ہوگا جتنی اس بار سامنے آئیں اور ان کا آغاز اس وقت سے ہی ہو گیا تھا جب سیزن 4 کے لیے ٹیموں کے انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا۔

اہم کھلاڑیوں کی عدم دستیابی

شاید ہی کسی پی ایس ایل سیزن میں ایسا ہوا ہو کہ دنیائے کرکٹ کی 10 میں سے 8 ٹیمیں مصروف ہوں۔ جن دنوں پاکستان سپر لیگ کے میچز جاری تھے، انہی ایّام میں آسٹریلیا بھارت کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیل رہا تھا، جنوبی افریقہ سری لنکا سے دو، دو ہاتھ کرنے میں مصروف نظر آیا، بنگلہ دیشی ٹیم دورۂ نیوزی لینڈ پر تھی کہ جس کا اختتام سانحہ کرائسٹ چرچ کی وجہ سے بہت ہی بھیانک انداز میں ہوا، جبکہ ویسٹ انڈیز انگلینڈ کی میزبانی کر رہا تھا۔

یعنی دنیائے کرکٹ کے سرِفہرست کھلاڑیوں میں سے 80 فیصد سرے سے دستیاب ہی نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کئی ایسے اسٹارز اِس سیزن میں نظر نہیں آئے جو پچھلے سال پی ایس ایل میں موجود تھے جیسے جے پی ڈومنی، سیم بلنگز، جو ڈینلی، ایون مورگن، شکیب الحسن، مستفیض الرحمٰن، تمیم اقبال، جیسن روئے، عمران طاہر اور بہت سارے۔ انگلینڈ کے ایلکس ہیلز بالکل آخر میں جوائن کرسکے اور صرف 2 میچز کھیلے جبکہ آندرے رسل ابتدائی 4 مقابلے کھیلنے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے بلاوے کی وجہ سے وطن واپس چلے گئے۔

اس کے باوجود سیزن 4 میں تمام فرنچائزز نے بہت اچھی ٹیموں کا انتخاب کیا اور سب میں ملکی و غیر ملکی بڑے ناموں اور نوآموز کھلاڑیوں کا بہت عمدہ ملاپ نظر آیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ٹیموں کی مجموعی کارکردگی میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آیا اور ہمیں وہی اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور کراچی ہی پلے آف میں نظر آئے۔ یعنی کئی نئے ناموں کے ساتھ بھی ان ٹیموں نے اپنی کارکردگی کو برقرار رکھا جو ایک مشکل صورتحال میں خوش آئند بات رہی۔

تمام اہم غیر ملکی ٹیموں کی سیریز ہونے کی وجہ سے یہ خطرہ بھی تھا کہ کئی اہم کمنٹیٹرز بھی شاید نہ آسکیں، لیکن ایلن وِلکنز، ڈینی موریسن، جونٹی رہوڈز، رمیز راجہ کے علاوہ گریم اسمتھ، میتھیو ہیڈن نے بھی گرما گرم تبصرے کیے۔ اس مرتبہ پریزینٹرز یعنی میزبانوں کا پینل بہت شاندار تھا کہ جس میں فخرِ عالم کا ساتھ دینے کے لیے زینب عباس بھی تھیں اور آسٹریلیا کی معروف گلوکارہ، میزبان اور ماڈل ایرن ہالینڈ بھی۔

پاک-بھارت کشیدگی اور پی ایس ایل پر بزدلانہ وار

غیر ملکی اہم کھلاڑیوں کی عدم دستیابی تو سیزن کے آغاز سے پہلے ایک معمولی سی رکاوٹ تھی، جسے عبور کرنے میں اتنی زیادہ دشواری پیش نہیں آئی لیکن لیگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایک طوفان برپا کیا گیا۔ جس دن پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب تھی اسی روز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ایک خودکش حملے میں 44 بھارتی فوجی مارے گئے، جس کا الزام ہمارے ’پیارے پڑوسی‘ نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر لگایا۔

کشیدگی اس قدر بڑھ گئی کہ لیگ کے آغاز کے محض چوتھے دن IMG ریلائنس نے پی ایس ایل کی نشریات جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ اس بھارتی ادارے نے پاکستانی لیگ کے چوتھے سیزن کی نشریات پیش کرنے کا ٹھیکا لیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان تمام چھوٹی بڑی کرکٹ ویب سائٹس نے بھی پی ایس ایل کی کوریج بند کردی کہ جن کا تعلق بھارت سے تھا۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ایسے بزدلانہ وار کرنے اور پیٹھ پر چھرا گھونپنے سے پاکستان بالخصوص سپر لیگ کو وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی۔ محض 2 دن میں انتظامیہ نے متبادل براڈکاسٹر کا انتخاب کرکے اسی معیار کی نشریات بلا روک ٹوک پیش کردی اور کسی کو گمان بھی نہیں ہوا کہ کوئی مسئلہ بھی پیش آیا تھا۔

پے در پے واقعات اور TRPs

ابھی لیگ انتظامیہ نے سکون کا سانس لیا ہی ہوگا کہ پاک-بھارت کشیدگی اس نہج پر پہنچ گئی کہ بھارت نے پاکستان کی سرحدی حدود کی کھلی خلاف ورزی کر ڈالی اور ایک بھونڈی کارروائی میں پاکستانی علاقوں پر بمباری کی کوشش کی جو بُری طرح ناکام ہوئی۔ ایک دن بعد پاکستان کی جوابی فوجی کارروائی میں بھارت کے 2 لڑاکا طیارے تباہ ہوئے کہ جن میں سے ایک کا پائلٹ بھی پاکستان کے ہاتھوں قیدی بن گیا۔

اب ہر وہ ٹیلی وژن چینل کہ جس پر ان دنوں صرف پاکستان سپر لیگ کی باتیں ہو رہی تھیں، وہاں نیلے، پیلے، کالے ٹِکرز کے ساتھ پاک-بھارت کشیدگی کی خبریں تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس مرتبہ پی ایس ایل کے ٹیلی وژن ریٹنگ پوائنٹس (TRPs) بہت گریں گے لیکن پی ایس ایل کے دلچسپ مقابلوں نے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھی۔ پی ایس ایل کو 'اِگنور' کرنا اتنا آسان نہیں صاحب!

کراچی میں بین الاقوامی ستاروں کی آمد

سرحدوں پر تناؤ میں کچھ کمی تو آئی لیکن اتنی نہیں کہ کراچی اور لاہور دونوں شہروں میں طے شدہ شیڈول کے مطابق مقابلے کروائے جاسکیں۔ ایسا لگتا تھا کہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے تمام میچز متحدہ عرب امارات میں ہی کھیلنا پڑیں گے۔ لیکن پی ایس ایل انتظامیہ نے ایک اور بہت بڑا فیصلہ لیا اور وہ تمام 8 میچز جو لاہور اور کراچی میں طے شدہ تھے، انہیں کراچی میں کروانے کا ارادہ ظاہر کردیا۔

نت نیا نیشنل اسٹیڈیم تو ان میچز کے لیے تیار ہی تھا لیکن کیا غیر ملکی کھلاڑی اس کشیدہ اور جنگی ماحول میں پاکستان آنے کو راضی تھے؟ اس خدشے کو بھی پی ایس ایل انتظامیہ نے اس طرح ختم کیا گویا یہ کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔

سیزن 4 میں تو وہ کھلاڑی بھی پاکستان آنے کے لیے تیار ہوگئے جو ماضی میں آنے سے بارہا انکاری رہے تھے۔ آسٹریلیا کے شین واٹسن کی آمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے بہت بڑی خبر تھی کہ جو پچھلے سال بھی ان کے نہ آنے کی سزا بھگت چکے تھے۔ اس بار لگ بھگ 40 غیر ملکی کھلاڑی پاکستان سپر لیگ کے سلسلے میں کراچی آئے جن میں واٹسن کے علاوہ کولن منرو، ایلکس ہیلز، کیرون پولارڈ اور ڈیوین براوو جیسے بڑے نام بھی موجود تھے۔

بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل واپسی قریب تر

10 سے 17 مارچ تک پی ایس ایل کے آخری 8 میچ کراچی میں منعقد ہوئے جنہیں کھیلنے کے لیے تمام 6 ٹیمیں پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں آئیں۔ انگلینڈ سے لے کر آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز سے لے کر نیوزی لینڈ اور زمبابوے سے لے کر نیپال تک کے کھلاڑیوں نے اس مرحلے میں شرکت کی۔

ان میچز کے انعقاد اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا آپس میں بہت گہرا تعلق تھا۔ ایک تو پہلی بار اتنے زیادہ میچز پاکستان میں ہوئے اور دوسری وجہ یہ کہ اس بار شاید ہی کسی کھلاڑی نے پاکستان آنے سے انکار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل سمیت کئی ممالک قائل ہوگئے ہوں گے۔ پی ایس ایل 4 کے بعد ہمیں امید ہے کہ 2019ء میں ہی ہمیں چند بڑی کرکٹ ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرتی نظر آئیں گی اور 10 سال بعد بالآخر پاکستانی میدانوں پر چھائے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے۔

قومی زبان اردو کو اہمیت دینے کی ضرورت

اس پہلو پر پچھلے سال بھی توجہ دلائی گئی تھی لیکن اس بار بھی اردو زبان میں کمنٹری کی کمی شدّت سے محسوس کی گئی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دو تہائی آبادی انگریزی زبان کو بخوبی نہیں سمجھتی، ان کے لیے ڈینی موریسن کی آواز کی اہمیت چند چیخوں سے زیادہ نہیں ہے۔ بلاشبہ وہ بہت دلچسپ تبصرے کرتے ہیں لیکن جب آبادی کا بڑا حصہ ان کی حسِ ظرافت کو نہ سمجھ پائے تو کیا فائدہ؟ اس لیے ضرورت ہے کہ جہاں انگریزی کمنٹری کے لیے ایک زبردست پینل موجود ہے، وہیں اچھے اردو کمنٹیٹرز کو بھی میچ کے دوران، قبل اور بعد میں تبصروں کے لیے منتخب کیا جائے۔ اس سے پاکستان میں پی ایس ایل کے اثرات میں مزید اضافہ ہوگا۔

افتتاحی و اختتامی تقاریب

پاکستان سپر لیگ کے چوتھے سیزن کی افتتاحی تقریب بھی مجموعی طور پر پھیکی رہی۔ پھیکی اس لحاظ سے کہ اس میں وہی پرانی غلطیاں دہرائی گئیں جو پچھلے تینوں سیزنز میں کی گئی تھیں یعنی دوسرے، بلکہ تیسرے، درجے کے غیر ملکی فنکاروں کو بلایا گیا جبکہ اپنے ثقافتی رنگ کو پیش کرنے سے بڑی حد تک اجتناب کیا گیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب پاکستانیوں کے لیے ہو۔ BoneyM کو بلا کر اگر یہ سمجھا گیا کہ غیر ملکی ناظرین پی ایس ایل میں دلچسپی لیں گے تو یہ خام خیالی ہے۔

اختتامی تقریب کی تو اس سال سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی۔ خود سوچیں اسی روز حکومتِ پاکستان نے سانحہ کرائسٹ چرچ پر اگلے روز یومِ سوگ کا اعلان کیا تھا بلکہ میدان میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے تقریب کے آغاز سے قبل ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی اور کھلاڑی بھی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلے۔ ایسے موقع پر دھوم دھڑکّا اچھا نہیں لگ رہا تھا جبکہ واقعے میں 9 پاکستانی بھی جان سے گئے ہوں۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ اختتامی تقریب میں ہونے والے کنسرٹ کو ملی نغموں تک محدود کردیا جائے۔

ایک تجویز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے

بالآخر اپنے تیسرے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کامیابی حاصل کر ہی لی۔ اب چونکہ گلیڈی ایٹرز صوبہ بلوچستان اور شہرِ کوئٹہ کے نمائندے ہیں لہٰذا اس جیت کے ساتھ ٹیم کوئٹہ کی انتظامیہ پر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے اور وہ یہ کہ بلوچستان میں کرکٹ کے فروغ اور وہاں نئے ٹیلنٹ کی تلاش کا کام شروع کیا جائے۔ بالکل ویسے ہی جیسے لاہور قلندرز نے صوبہ پنجاب بلکہ دیگر صوبوں میں بھی کیا ہے اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

اگر ایک 'ٹیلنٹ ہنٹ' کے نتیجے میں وہ بلوچستان سے 3، 4 کھلاڑی بھی ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے اور ان میں سے 2 بھی قومی سطح پر اجاگر ہوئے تو یہ ان کی بلوچستان کے لیے بہت بڑی خدمت ہوگی۔ پی ایس ایل ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بالکل نیا ٹیلنٹ راتوں رات شہرت پاسکتا ہے اور اگر کسی علاقے کے باصلاحیت کھلاڑی اس مقبولیت کا حق رکھتے ہیں تو وہ بلاشبہ بلوچستان ہے۔