پرویز مشرف پر بنی فلم ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی نمائش

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2019

ای میل

دستاویزی فلم میں پرویز مشرف کے حقیقی انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں—اسکرین شاٹ
دستاویزی فلم میں پرویز مشرف کے حقیقی انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں—اسکرین شاٹ

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے، ان کی جانب سے ایک دہائی تک حکومت کرنے اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں ہونے والے مسائل پر بنی دستاویزی فلم ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی پہلی بار کراچی میں خصوصی نمائش کی گئی۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کو محمد علی نقوی نے 2013 سے قبل بنایا تھا اور اسے متعدد عالمی فلم فیسٹیول میں پیش کیا جا چکا ہے۔

دستاویزی فلم میں سابق صدر و (ر) آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے انٹرویوز سمیت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی و سابق حکومتی عہدیداروں کے حقیقی انٹرویوز شامل ہیں۔

فلم میں میڈیا پر چلنے والے پرویز مشرف اور نواز شریف کے انٹرویوز شامل ہیں—اسکرین شاٹ
فلم میں میڈیا پر چلنے والے پرویز مشرف اور نواز شریف کے انٹرویوز شامل ہیں—اسکرین شاٹ

دستاویزی فلم کا مرکزی کردار پرویز مشرف ہی ہیں اور اس میں ان کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی جیسے معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

فلم میں نواز شریف کے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز کی کلپس بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ دستاویزی فلم میں میڈیا اور عام لوگوں سے اوجھل سیاسی حقائق کو بھی دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ پرویز مشرف اور نواز شریف

دستاویزی فلم میں 1990 کے بعد ابھرتے ہوئے کراچی اور وہاں ہونے والے نسلی فسادات کی جھلک دکھائی گئی اور مشکلات، مسائل میں پلتی اور آگے بڑھتی جمہوریت کو بھی دکھایا گیا ہے۔

فلم کو بنانے میں 5 سال لگے، فلم ساز—فوٹو: انشاء اللہ ڈیموکریسی فیس بک
فلم کو بنانے میں 5 سال لگے، فلم ساز—فوٹو: انشاء اللہ ڈیموکریسی فیس بک

یہ پہلا موقع تھا کہ فلم کی کراچی کے سینما میں خصوصی نمائش کی گئی۔

ڈان اخبار کے مطابق ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی خصوصی اسکریننگ کراچی کے کیپری سینما میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے کی گئی۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی اسکریننگ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے تین دستاویزی فلم کی نمائش کا حصہ تھیں اور اس فلم سے قبل دیگر 2 ڈاکیومینٹریز عوام کو دکھائی گئیں۔

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ سے قبل ’گھنگھرو‘ اور ’گندا نالا‘ پیش کی گئیں، جنہیں ناظرین نے سراہا۔

فلم میں پرویز مشرف کی جانب سے کیے گئے اہم فیصلوں کو بھی دکھایا گیا —فوٹو: انشاء اللہ ڈیموکریسی فیس بک
فلم میں پرویز مشرف کی جانب سے کیے گئے اہم فیصلوں کو بھی دکھایا گیا —فوٹو: انشاء اللہ ڈیموکریسی فیس بک

’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ کی اسکریننگ کے موقع پر فلم ساز محمد علی نقوی بھی موجود تھے، انہوں نے فلم کی نمائش سے قبل ناظرین سے خطاب بھی کیا اور فلم کی تیاری سے متعلق پیش آنے والے مسائل پر بھی بات کی۔

علی نقوی نے کہا کہ انہوں نے فلم بنانے سے قبل ہی فیصلہ کیا تھا کہ انہوں نے سب سے بہترین دستاویزی فلم بنانی ہے، اس لیے ہی انہوں نے فلم میں صرف پرویز مشرف پر تنقید نہیں کی بلکہ ان کے اچھے کارنامے اور فیصلے بھی شامل کیے۔

فلم دیکھنے کے لیے آنے والے متعدد افراد نے اس کی تعریف بھی کی اور بتایا کہ انہیں فلم دیکھ کر ملکی جمہوریت سے متعلق بہت ساری باتیں پتہ چلیں۔

ایسے ہی شائقین میں فاطمہ نامی خاتون بھی تھیں جو ایک گھریلو خاتون ہیں اور انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں جمہوریت اور سیاست سے متعلق اتنا علم نہیں تھا لیکن ’انشاء اللہ ڈیموکریسی‘ دیکھنے کے بعد انہیں کافی باتیں سمجھ آئیں۔

فاطمہ کی بہن تسنیم جو ریٹائرڈ لائبریرین ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انہیں فلم کے ذریعے دیا گیا پیغام بہت ہی اچھا لگا اور انہیں فلم ساز کی جانب سے پیش کیے گئے حقائق دیکھ کر کئی باتیں آسانی سے سمجھ میں آئیں۔