اسلاموفوبیا پورے معاشرے کیلئے خطرہ ہے، نمائندہ یورپی یونین

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی اور فیڈریکاموگیرینی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے  دانشمندانہ اقدام کی تعریف کی۔ 
— فوٹو: دفتر خارجہ
شاہ محمود قریشی اور فیڈریکاموگیرینی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے دانشمندانہ اقدام کی تعریف کی۔ — فوٹو: دفتر خارجہ

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرنی نے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا نہ صرف مسلمانوں بلکہ یورپ کے پورے معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔

اس بات کا اعتراف انہوں نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سوالات کا جوابات دیتے ہوئے کیا۔

فیڈریکا موگیرنی کے اس رواں دورے کے دوران پاکستان اور یوپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک مذاکرات کا یہ چوتھا دور تھا۔

یورپی نمائندہ نے مزید کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو یورپی مارکیٹوں میں ہر ممکن رسائی فراہم کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: برسلز: یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کے قریب بم کی اطلاع

پریس کانفرنس کے دوران یورپی یونین کی نمائندہ سے اسلامو فوبیا سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسلامو فوبیا سے صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشروں کی طاقت ان میں موجود مختلف اکائیوں میں ہے، تاہم اگر کوئی کسی ایک قوم پر بھی حملہ کرتا ہے تو کسی ایک طبقے کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے پر حملے کے مترادف ہوگا۔

فیڈریکاموگیرنی نے کہا کہ میرے اور یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک کی اولین ترجیح ہے کہ اس بات کو یقین بنایا جائے کہ اسلامو فوبیا ہمارے معاشروں میں کوئی جگہ نہ بنائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں پاکستانی شہریوں کے قتل پر اظہارِ افسوس کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سلک روڈ منصوبے میں اٹلی کی شمولیت پر جرمنی کا یورپی یونین سے ویٹو کا مطالبہ

دونوں رہنماؤں نے کرائسٹ چرچ حملے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے دانشمندانہ اقدام کی تعریف کی۔

اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یورپی یونین کے لیے بھی باعث تشویش ہے، کیونکہ ان ممالک میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قیام پزیر ہے۔

یورپی یونین کی نمائندہ سے آج نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) اور انتہا پسندی سمیت دیگر مسائل پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتایا کہ 'یورپی یونین سے نئے اسٹریٹجک تعلقات کا معاہدہ طے پاگیا ہے'۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والا دہشت گرد عدالت میں پیش

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین میں باہمی تعلقات اور تعاون کے فروغ پر گفتگو ہوئی۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور حکومتِ پاکستان کی پالیسیوں میں مماثلت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اسلامو فوبیا سے لڑنے کا ایک الگ طریقہ دکھا دیا اور دنیا کو بتایا کہ کس طرح معاشرے متحد ہوکر پروان چڑھتے ہیں۔

یورپی یونین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

— فوٹو: پی آئی ڈی
— فوٹو: پی آئی ڈی

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ فیڈریکا موگیرینی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جبکہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات تعاون کے تمام پہلوؤں میں مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے انسانی حقوق کے بارے میں یورپی یونین کے حالیہ فیصلے کو سراہا جس سے مذہبی خیالات اور عقیدے کے حوالے سے آزادی اظہار رائے اور نفرت کو ہوا دینے میں توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان، آزادی اظہار رائے کے حق کے ذمہ دارانہ استعمال پر یقین رکھتا ہے کیونکہ آزادی اور ذمہ داری کا گہرا تعلق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے خواہ ایسا کرنے والے افراد گروپ یا ملک ہوں۔

انہوں نے یورپی یونین کو د عوت دی ہے کہ وہ بہتر کاروباری ماحول سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔

عارف علوی نے کہا کہ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائی گروپ کے رہنما اصولوں پر عملدرآمد کا اعلان کیا ہے اور اس میں شرکت کے لیے باقاعدہ درخواست بھی جمع کرا دی ہے، گروپ میں شمولیت سے پاکستان کو ٹھوس فوائد حاصل ہوں گے۔

انہوں نے گروپ پر زور دیا کہ غیر جانبدار ملکوں کے لیے غیر امتیازی اور آزادانہ معیار پر رکنیت دینے کا جائزہ لیا جائے جو بیک وقت ان سب پر لاگو ہیں۔

ملاقات کے دوران فیڈریکا موگیرینی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے وسیع امکانات ہیں جن سے بھرپور طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔