کراچی میں پانی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

26 مارچ 2019

پانی کو ترسنے والے کراچی کے باسیو کیا آپ کو معلوم ہے کہ جیمز اسٹارچن کون تھے؟

انہیں 1873 میں کراچی میونسپلٹی کے چیف انجینئر اور سیکریٹری کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے اپنی دانشمندانہ صلاحیتوں کے ساتھ کراچی کو اس وقت کے سب سے صاف ستھرے اور خوش انتظام شہروں میں سے ایک بنا دیا تھا۔

یہ ان کی ہی جدت کی طرف گامزن سوچ کا نتیجہ ہے کہ جس نے 140 سال قبل کراچی میں ہر ایک گھر کے لیے پانی کا کنیکشن ممکن ہوسکا، حالانکہ ان کے افسران بالا نے انہیں صرف چھاؤنی، اہم کولونیوں اور کشادہ سڑکوں کے لیے منصوبہ بندی اور شہر کے (غریب) رہائشوں کی پرواہ نہ کرنے کا کہا تھا۔

آج جب ہمارے شہر میں پانی کی شدید قلت ہے تو دورِ حاضر کے کسی جیمز اسٹارچن کی بہت زیادہ کمی محسوس ہوتی ہے یا پھر کراچی کو پانی کے اس بحران سے نکالنے کے لیے ان کے جیسی سوچ کی طلب محسوس کی جاتی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔

کراچی پاکستان کا ایک سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا شہر ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ ملک کا تجارتی مرکز بھی ہے، جی ڈی پی میں اس شہر کا حصہ 20 فیصد ہے، حکومت کو وصول ہونے والے ٹیکسوں کا ایک بڑا حصہ اسی شہر سے حاصل ہوتا ہے، یہ شہر کاروبار شروع کرنے اور ملازمتوں کا ایک سب سے بڑا مرکز ہے۔ تاہم شہر کے ارتقائی عمل کے مخلتف پہلوؤں، اس کی معیشت، آبادی کی بہتات، مختلف نسلی اور سماجی و سیاسی مسائل کے باعث یہ ان شہروں میں سے ایک بن گیا ہے جہاں کا انتظام سنبھالنا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ شہر کے اندر ایک ادارے کے ذریعے پانی کی فراہمی اور اس کا انتظام سنبھالنا بھی اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ پانی کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے، کراچی واٹر سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کی صورتحال میں فوری طور پر بہتری لانے کے لیے ایک حکمت عملی مرتب کی جائے۔ کے ڈبلیو ایس بی شہر کے شہریوں کو گھریلو استعمال کے پانی کی پیداوار، ترسیل، ٹریٹمنٹ اور تقسیم اور اس کے علاوہ شہر کے نکاس آب کا انتظام سنبھالنے کا ذمہ دار ہے۔ ان تمام ذمہ داریوں کو نبھانے میں بدقسمتی کے ساتھ اس ادارے نے کچھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے، اور جب تک اس ادارے میں موجود کام کرنے کے طریقہ کار اور گورننس ڈھانچہ میں بہتری نہیں لائی جاتی اور کے ڈبلیو ایس بی کو آزادی کے ساتھ اپنا کام نہیں کرنے دیا جاتا تب تک اس کی صورتحال جوں کی توں رہے گی۔

کے ڈبلیو ایس بی کو لاحق چیلنجز کو پوری طرح سے سمجھنے کے لیے اس کے دیرینہ یا ازلی مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ادارے میں مسلسل سیاسی مداخلت کا نتیجہ سنگین بدانتظامی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ خودمختاری کی کمی کے باعث بورڈ زیادہ آزاد نہیں۔ جبکہ خراب معیار کی حامل قیادت اور سینارٹی بنیادوں پر بھرتیوں کی پالیسیوں کا مطلب ہے جدید تقاضوں کے ساتھ پانی کی فراہمی کا نظام سنبھالنے کے لیے مطلوب پیشہ وارانہ افراد کی کمی۔

اس کا انفرااسٹریچر اور کام کرنے کا طریقہ کار اب جدید دور میں زیادہ قابل استعمال نہیں رہے، جبکہ ان کی بہتری کے لیے بھی کسی قسم کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کہیں نظر نہیں آتی۔ پانی کے معیار اور فراہمی میں کوتاہیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ پانی کی بڑھتی طلب اور کم ہوتی پانی کی فراہمی سے لیک ہورہے نظام پر اور بھی زیادہ دباؤ ڈال دیا ہے۔

کے ڈبلیو ایس بی گردشی قرضے میں جکڑا ہوا ہے، ریوینیو کی وصولی کی حالت ٹھیک نہیں، اور نان ریوینیو واٹر (وہ پانی جو صارف تک پہنچنے سے قبل ہی حادثاتی یعنی لیکنگ وغیر سے ضایع ہوجاتا ہے یا پھر چوری ہونے کی وجہ سے ضایع ہوجاتا ہے۔) کا کوئی احتساب نہیں۔ ایک شہری کے زوایہ نگاہ سے دیکھیں تو صارف کی خدمات پر کسی قسم کی توجہ نظر نہیں آتی۔

اس منظرنامے میں، جب تک گورننس اور انتظامیہ کا بنیادی مسئلہ حل نہیں کرلیا جاتا تب تک کراچی کے آبی بحران کو ختم کرنے کے لیے صرف ’پانی کے میگا منصوبوں‘ میں سرمایہ کاری کرنا بے کار ہے۔

گورنمنٹ انویسٹر پبلک پارٹنرشپ کے نام کے ساتھ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ ایک نئے قسم کی پیلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی تجویز رکھی جاتی ہے، جس کے تحت ادارہ حکومت کی ہی ملکیت رہے گا جبکہ اس کے کام کرنے کے طریقوں اور انتظامیہ پر سرمایہ کار/آپریٹر کو لیز پر یا ذیلی طور پر ٹھیکے پر دیا جائے گا، اس سرمایہ کار یا آپریٹر سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع میں سے مناسب حصہ دیا جائے گا اور ادارے کا نظام پیشہ ورانہ انداز میں چلانے کے لیے آزادی بھی دی جائے گی۔ سرکاری نمائندگان، سرمایہ کار کے نمائندگان، آزاد آبی ماہرین اور سیاست سے آزاد، ’غیرجانبدار‘ اظہار رائے فراہم کرنے والے شہر کے ممتاز شہری (’پبلک‘) پر مشتمل اراکین کے ساتھ ایک آزاد بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔

ادارے کو چلانے کے اس نئے ماڈل کا بنیادی مقصد خدمات پہنچانے، صارفین کو مطمئن کرنے، ریوینیو وصولی، سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور بنیادی ڈھانچوں کی بہتری پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے سے متعلق ہوگا۔ معاہدے کے تحت قابل تعین کارکردگی کے معیارات، اسٹاف کی پیداواری صلاحیت، آپریشنل قابلیت اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی اور/ بہتری کو بھی معاہدے کے تحت کور کیا جاسکتا ہے۔ شہر کی وسعت اور حجم کے پیش نظر ایک سے زائد سرمایہ کاروں/آپریٹرز کو ٹھیکے دیے جاسکتے ہیں۔

حکومت کا کام مطلوب گورننس اور ادارتی اصلاحات لانا، اختیارات میں لچک کے لیے ضروری ماحول پیدا کرنا، پانی کے نرخوں کا تعین کرنا ہوگا اور غربا کے لیے سبسڈی کے ساتھ یا مفت پانی کی فراہمی کے غرض سے پالیسیاں مرتب کرنا ہوگیں جبکہ سرمایہ کاروں/آپریٹرز کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا کہ جس میں وہ اپنا کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے سکیں۔

سرمایہ کاروں/آپریٹرز کو خدمات کا دائرہ کار میٹروپولیٹن کراچی کے تمام علاقوں تک پھیلانا ہوگا، تاکہ کوئی ایک بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ اس وقت جس آبادی کو ٹھیک انداز میں خدمات فراہم نہیں کی جا رہی ہے ان کے مفادات کو سبسڈی اور/یا مفت پانی اور تعمیراتِ عامہ پروگرامز میں متعلقہ علاقہ مکنیوں کی بھرتی کے ذریعے محفوظ بنایا جائے گا۔

کے ڈبلیو ایس بی میں ’شراکت داری‘ ایک ناآزمودہ تجربہ نہیں ہوگا۔ ایشیا کے کئی دیگر شہروں میں اس کی چند اچھی مثالیں اور کثیر شواہد موجود ہیں، جہاں ان تجربات سے زبردست بہتری آئی۔

منیلا میں حکومت کے ہاتھوں بدانتظامی کا شکار بے قاعدہ آبی ادارے کی ایک مؤثر پانی فراہم کرنے کی خدمات انجام دینے والے ادارے میں کامیاب تبدیلی کے عمل کو کے ڈبلیو ایس بی کے لیے ایک ماڈل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اپنے وطن سے قریب ہی ہم ان خدماتِ عامہ کے اداروں کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں جو سرکاری اختیار سے چھٹکارہ حاصل کرچکے ہیں، جو کہ حکومت اور صارفین دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔

کے ای ایس سی کو کے ای میں بدل کر اختیارات کی منتقلی اور نئے پی ٹی سی ایل سے اداروں کی خدمات میں بہتری آئی ہے اور یہ ادارے کے ڈبلیو ایس بی کی طرح سبسڈی پر چلنے کے بجائے ٹیکسوں کی صورت میں ملکی خزانے میں حصہ ڈالنے والے اہم ذرائع میں سے ایک بن رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اختیارات میں ایک حد تک رعایت دینے کے مثبت پہلوؤن کو ایچ بی ایل، ایم سی بی، یو بی ایل اور دیگر بینکوں کے ساتھ ہمارے تجربے کے ذریعے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

آج انہیں بہتر انداز میں کام کرنے والے اداروں کے طور پر تصور کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ ہر سال ٹیکسوں کی صورت میں ملکی خزانے میں بہت بڑا حصہ بھی ڈالتے ہیں اور ان میں آپریشنل معیار اس قدر بہتر ہوا ہے کہ یہ اب مقامی صارفین کو غیرملی بینکوں سے بھی زیادہ پرکشش آپشن کی پیش کش کرتے ہیں۔

جب تک فی الفور انداز میں کے ڈبلیو ایس بی میں مجوزہ منظم تبدیلی نہیں لائی جاتی تب تک نہ تو کراچی کی میگا سٹی بننے یا پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی مرکز کے طور پر پھیلاؤ کی خواہش، حقیقت کا روپ نہیں لے سکے گی۔

اب کراچی میں جیمز اسٹارچن تو آنے سے رہے لہٰذا ہم یہ امید کرسکتے ہیں کہ تمام شہریوں کے لیے مساوی انداز میں پانی کی فراہمی اور اس کے ساتھ ساتھ گندے پانی کی نکاسی کے فوری انتظام میں مؤثر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے کے ڈبلیو ایس بی میں تبدیلی لانے کی طرف پالیسی ساز فوری طور پر قدم بڑھائیں گے۔ جس کے بعد اس قسم کے ماڈل کو پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔

یہ مضمون 24 مارچ 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (4) بند ہیں

SyedShahidAli Mar 26, 2019 01:09pm
In presence of tanker Mafia this problem never be solved. At the back of this tanker Mafia there are Govt officer and some politcian who are making millions due this condition so they will stop and development.
KHAN Mar 26, 2019 05:15pm
پانی کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔ سرمایہ کار و سرمایہ دار کبھی عوام کی نہیں سوچتے، واٹر بورڈ کو نجی ادارہ بنانا ظلم ہوگا۔
KHAN Mar 26, 2019 10:34pm
پی ٹی سی ایل والے تو پاکستان کے 80 کروڑ ڈالر دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے ہی ملازمین کو سپریم کورٹ کے حکم کے باجود پنشن دینے سے انکاری ہیں، دوسری جانب کے ای ایس سی کو کے ای میں بدلنے سے بجلی کے بلوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا، مضمون نگار نے شاید کراچی میں 2006 سے جاری عوام کی چیخیں نہیں سنی، کے ای نے اکثر علاقے ٹھیکیداروں کے حوالے کرکے خود تمام ذمے داریوں سے استثنیٰ حاصل کرلیا ہے، انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرکے 2015 میں صلاحیت ہونے کے باوجود ہیٹ ویو کے دوران بجلی بند رکھی گئی جس سے سیکڑوں افراد جان سے گئے، خود کے ای کے کنٹریکٹ ورکرز کا برا حال ہے یہاں تک کہ خدانخواستہ موت کی صورت میں بھی جان چھڑا لی جاتی ہے، حکومت سے 6 روپے یونٹ حاصل کرکے 15 سے 25 روپے یونٹ فروخت کی جارہی ہیں، اگر واٹر بورڈ کو اس طرح بنایا گیا تو عوام کو پانی ملنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ بجلی، گیس کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے مگر پانی کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔ سرمایہ کار و سرمایہ دار کبھی عوام کی نہیں سوچتے، اس مناپلی کمپنی کو نجی ادارہ بنانا ظلم ہوگا۔ ہاں وال سسٹم نافذ کرکے عوام اور ملازمین کی تربیت کرکے سب کو پانی دیا جائے۔
یمین الاسلام زبیری Mar 29, 2019 06:38pm
گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل۔ حکومتی ادارے سست روی اور سیاست بازی کا شکار ہوجاتے ہیں؛ اور نجی ادارے گھائو گھپ کا۔ اگر چھوٹی برائی چننی ہے تو نجی اداروں کو لگانا زیادہ کار آمد ہوسکتا ہے۔ نجی ادارے اچھا کام کرتے ہیں اگر مقابلے کی صیحتمند فضا قائم کی جائے۔ خراب کارکردگی کے ساتھ نجی ادارے کا کام کرتے رہنا حکومت کی نااہلی مانا جائے۔ پائپوں کی مرمت کو سرمائہ کاری سمجھنا چاہیے۔ پانی پائپوں ہی سے ضائیہ نہیں ہوتا بلکہ میٹر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ نل کھلے چھوڑ دیتے ہیں اور پانی سڑکوں پر بہتا ہے۔ میٹر لگائیں۔ میں امریکہ میں ہوں یہاں جس شرح سے صاف پانی کا نرخ ہے، نکاسی کے پانی کا اس کا دگنا ہے۔ صاف پانی ایک یا دو ڈالر فی ہزار گیلن ہے۔ پاکستان میں یقیناً مختلف ہوگا۔ دو باتیں پائپ لائین ٹھیک ہو اور میٹر لگا ہو۔ نجی ادارے اگر لگائے جائیں تو ان سے ان کے ملازمین کے بارے میں تمام قوانین لکھوائے جائیں اور ان پر عمل کرایا جائے۔ حکومت کا کام صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی شعبے میں بد انتظامی اور بدعنوانی نہ ہونے دے، نہ کسی کو متاثرہ ہونے دے۔ ٹینکر سے پانی کی ترسیل بیوقوفی ہے۔ میں زوہیر عاشر صاحب کے ساتھ ہوں۔