محسن عباس حیدر لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر مایوس کیوں؟

ای میل

میری گڑیا کا ایک سین — اسکرین شاٹ
میری گڑیا کا ایک سین — اسکرین شاٹ

لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیاں گزشتہ روز سامنے آگئی تھیں جن میں کچن ناموں کی کمی کافی محسوس کی گئی، جن میں سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق شعور اجاگر کرنے والا ڈرامہ میری گڑیا قابل ذکر ہے۔

اور اس میں دبیر کا منفی کردار ادا کرنے والے اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر نے لکس اسٹائل ایوارڈز کے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اگرچہ محسن عباس حیدر کو ایک گانے 'نہ جا' پر بہترین گلوکار کی کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے مگر انہوں نے اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ 'میری گڑیا' کو کسی ایوارڈز کے لیے کسی ایک زمرے میں بھی نامزد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے ایک انسٹاگرام پوسٹ پر لکھا کہ وہ اپنے گانے نا جا پر نامزدگی پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں مگر اس بات پر شدید مایوس ہیں کہ ان ڈرامے میری گڑیا کو کسی ایک ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے لکھا 'میں اس کی وجہ نہیں جانتا (جو کہ اگر کوئی ہے تو میں ضرور جاننا چاہوں گا)، مگر یہ میری گڑیا کی پوری ٹیم کے لیے دھچکا ہے اور میرے اس عقیدے کو مضبوط بنانے کے لیے شکریہ کہ بس پیسے کماﺅں اور اپنا کچن چلاﺅ، شکریہ'۔

فوٹو بشکریہ محسن عباس حیدر انسٹاگرام پیج
فوٹو بشکریہ محسن عباس حیدر انسٹاگرام پیج

اے آر وائی کا ڈرامہ میری گڑیا ہمارے معاشرے اور ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے نشر کیا گیا تھا اور بتایا گیا کہ کس طرح اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد بچ نکلتے ہیں۔

اس سے قبل اسی طرح کے ڈرامے اڈاری کو لکس اسٹائل ایوارڈز کے لیے متعدد زمروں میں نامزد کیا گیا تھا اور وہ کئی ایوارڈز جیتنے میں بھی کامیاب رہا تھا۔