محسن عباس کے بعد دیگر شخصیات بھی لکس ایوارڈ نامزدگیوں سے ناخوش

ای میل

کوئی چاند رکھ ڈرامے کو نظر انداز کرنے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا گیا—پرومو فوٹو
کوئی چاند رکھ ڈرامے کو نظر انداز کرنے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا گیا—پرومو فوٹو

پاکستان کے سب سے بڑے ایوارڈ کا اعزاز رکھنے والے ’لکس ایوارڈز‘ کی نامزدگیوں کا اعلان 31 مارچ کو کیا گیا تھا۔

اس سال کے ایونٹ میں کئی نئی کیٹیگریز کو شامل کیا گیا ہے جن میں بیسٹ فلم ایکٹر کریٹکس، بیسٹ فلم ایکٹریس کریٹکس، بیسٹ ٹی وی ایکٹر کریٹکس اور بیسٹ ٹی وی ایکٹریس کریٹکس قابل ذکر ہیں۔

اسی طرح ٹی وی کیٹیگری میں بیسٹ ایمرجنگ ٹیلنٹ کو بھی پہلی بار اس ایونٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مجموعی طور پر24 میں سے 9 ایوارڈز کا فیصلہ لوگوں کے آن لائن ووٹ پر ہوگا اور اس کے لیے ووٹنگ اگلے ہفتے شروع ہوگی۔

یہ خدشات پہلے ہی کیے جا رہے تھے کہ اس بار لکس ایوارڈز کی نامزدگیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ان کا اعلان ہوتے ہی سب سے پہلے اداکار محسن عباس حیدر نے ان پر اعتراض کیا تھا۔

بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق شعور اجاگر کرنے والے ڈرامے میری گڑیا میں دبیر کا منفی کردار ادا کرنے والے اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر نے لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ڈرامے کو کسی بھی کیٹیگری میں نامزد نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لکس اسٹائل ایوارڈز 2019 کی نامزدگیوں کا اعلان

اگرچہ محسن عباس حیدر کو ان کے گانے ’نہ جا‘ پر بہترین گلوکار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے ڈرامے ’میری گڑیا‘ کو نظر انداز کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

اور اب دیگر شخصیات کی جانب سے لکس ایوارڈز پر اٹھائے گئے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔

میوزک کمپوزر شانی ارشد نے ’کوئی چاند رکھ‘ کو بھی نظر انداز کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’کوئی چاند رکھ‘ بہترین ڈراموں میں سے ایک تھا، تاہم اسے لکس ایوارڈز ٹیم نے نظر انداز کیا، ایوارڈز انتطامیہ کو مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

پروڈیوسر عبداللہ سیجا نے بھی لکس ایوارڈز کی نامزدگیوں پر اعتراض اٹھایا اور نظر انداز کی گئی شخصیات اور ڈراموں کی نشاندہی کی۔

مزید پڑھیں: محسن عباس حیدر لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر مایوس کیوں؟

اگرچہ انہوں نے نامزد ہونے والی شخصیات کو مبارکباد پیش کی، تاہم انہوں نے توجہ دلائی کی فیصل قریشی کو ’حیوان‘ جیسے ڈرامے میں شاندار کردار ادا کرنے پر بھی نامزد نہیں کیا گیا۔

ساتھ ہی عبداللہ سیجا نے شکایت کی کہ عائزہ خان کو بھی ’کوئی چاند رکھ‘ جیسے ڈرامے میں شاندار اداکاری کے باوجود نظر انداز کیا گیا۔

انہوں اریبہ حبیب اور صحیفہ جبار کو بھی نامزد نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

ڈائریکٹر احسان رحیم نے لکس ایوارڈز میں فلم ’طیفا ان ٹربل‘ کی ایک سے زائد نامزدگیوں پر بھی اعتراض کیا۔

اداکار ہمایوں سعید نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکس ایوارڈز میں نامزد ہونے والی شخصیات کو مبارک پیش کی اور بتایا کہ اگرچہ انہیں نامزد نہیں کیا گیا، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ میں احمد علی بٹ سے زیادہ اچھی اداکاری کسی اور نے نہیں کی۔

احمد علی بٹ کو اسی فلم میں بہترین اداکاری کرنے پر بہترین اداکار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔