'مقتول صحافی خاشقجی کے بچوں کو 'خون بہا' میں گھر، لاکھوں ڈالر دیے گئے'

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2019

ای میل

خون بہا میں لاکھوں ڈالر دینے کا دعویٰ کیا جارہا ہے — فوٹو: اے ایف پی/فائل
خون بہا میں لاکھوں ڈالر دینے کا دعویٰ کیا جارہا ہے — فوٹو: اے ایف پی/فائل

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے 4 بچوں کو 'خون بہا' میں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دی ہے۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام اور دیگر افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمال خاشقجی کے 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو آئندہ چند ماہ میں سعودی صحافی کے قاتلوں کا ٹرائل مکمل ہونے پر خون بہا سے متعلق مذاکرات کے تحت مزید لاکھوں ڈالر دیئے جاسکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت، جمال خاشقجی کے اہلخانہ سے طویل المدتی مفاہمت کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ انہیں سعودی صحافی کے قتل پر تنقید سے باز رہنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل پر عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی تھی، لیکن ان کے اہلخانہ کسی قسم کی سخت تنقید سے باز رہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب خاشقجی قتل کا ’اوپن ٹرائل‘ کرے، اقوام متحدہ

سابق عہدیدار کے مطابق گزشتہ برس کے آخر میں شاہ سلمان کی جانب سے ان گھروں اور 10 ہزار ڈالر یا اس سے زائد ماہانہ آمدن کی منظوری دی گئی تھی اور اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’ایک بڑی ناانصافی ہوچکی ہے اور یہ غلط کو صحیح کرنے کی کوشش ہے‘۔

تاہم شاہی خاندان، نامور صحافی جمال خاشقجی جنہیں حکومت مخالف کالمز کی وجہ سے قتل کیا گیا، کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دولت کا سہارا لے رہا ہے۔

دوسری جانب سعودی عہدیدار نے جمال خاشقجی کے اہلخانہ کو دی گئی رقم کو ملک میں طویل عرصے سے انتہا پسند جرائم یا قدرتی آفات کے متاثرین کو فراہم کی جانے والے مالی تعاون کی روایت قرار دیا۔

انہوں نے اس بات کو مسترد کردیا کہ ان ادائیگیوں کے بدلے جمال خاشقجی کے خاندان کو خاموشی اختیار کرنی ہوگی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ تعاون ہماری روایت اور ثقافت کا حصہ ہے، یہ کسی اور چیز سے نہیں جڑا ہوا‘۔

ابتدائی طور پر جمال خاشقجی کے تمام بچوں کو جدہ میں گھر دیئے گئے ہیں اور ہر گھر کی مالیت 40 لاکھ ڈالر ہے، یہ جائیدادیں ایک ہی کمپاؤنڈ میں موجود ہیں جن میں ان کے بڑے بیٹے صلاح خاشقجی کو مرکزی حصہ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی قتل: سعودی عرب کا 'ٹرائل' ناکافی ہے، اقوام متحدہ

جمال خاشقجی کے خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق صلاح خاشقجی جدہ میں بینکر کے طور پر کام کررہے ہیں اور مستقبل میں سعودی عرب میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سعودی صحافی کے باقی بچے امریکا میں مقیم ہیں اور ان کی جانب سے یہ نئی جائیدادیں بیچنے کی توقع ہے۔

صلاح، جنہوں نے سعودی حکام سے مالی معاملات پر مذاکرات کیے، سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

جدہ میں اہلخانہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کی وجہ سے ان کے بہن، بھائی حکام کا احترام کرتے ہیں اور گزشتہ 6 ماہ سے عوام میں دیئے گئے بیانات میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔

گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی حکومت نے صلاح محمد کی محمد بن سلمان سے مصافحے کی تصاویر جاری کیں تھیں، جن سے متعلق کہا گیا تھا کہ ولی عہد نے ان سے تعزیت کی جبکہ اسے شاہی خاندان کی جانب سے جمال خاشقجی کے بچوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کے استعمال کے عندیے کے طور پر بھی دیکھا گیا۔

مزید پڑھیں: ’خاشقجی کے بیٹے نے اس سے ہاتھ ملایا جو شاید اس کے والد کا قاتل ہے‘

مقتول سعودی صحافی کی بیٹیوں نوحہ خاشقجی اور رزان خاشقجی نے گزشتہ برس واشنگٹن پوسٹ میں شائع کیے گئے مضمون میں سعودی عرب میں تبدیلی کے لیے اپنے والد کی امیدوں کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے اپنے مضمون میں اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ حکام کے خلاف نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے سعودی حکام یا ولی عہد پر اپنے والد کی موت کا الزام عائد کیا۔

نوحہ نے اس حوالے سے جواب نہیں دیا اور رزان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

سعودی حکومت کی جانب سے طویل المدتی مالی تعاون کے بعد جمال خاشقجی کے بچوں کی جانب سے خاموشی اختیار کر لی جائے گی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سعودی عرب کے ناقدین ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جمال خاشقجی کے دوسرے بیٹے عبداللہ نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کردیا جبکہ ان کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل ولیم ٹیلر نے بھی اس حوالے سے بات چیت سے معذرت کی۔

سعودی ولی عہد کے بھائی اور امریکا میں سعودی سفیر خالد بن سلمان نے صحافی کے اہلخانہ سے مذاکرات کیے تھے۔

واضح رہے کہ سعودی حکام نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 21 افراد کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے جن میں سعود القحطانی بھی شامل ہیں۔

اگر ان ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے تو سعودی نظام انصاف جمال خاشقجی کے اہلخانہ کو خون بہا کے تحت اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، جس میں انہیں کروڑوں ڈالر دیئے جانے کا امکان ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ رقم وصول کرنے کے لیے جمال خاشقجی کو قاتلوں کو معاف کرنے کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

مزید پڑھیں: ‘لاپتہ صحافی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا’

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’جمال خاشقجی کا قتل سعودی ولی عہد کے حکم پر ہوا‘

17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ ماہ امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

مزید برآں دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی، چند روز قبل اس ٹیم کی سربراہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔