'پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا گیا تو امریکا کو جواب دیں گے'

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2019

ای میل

پاسداران انقلاب کو ایران کی مسلح افواج میں مرکزی حیثیت حاصل ہے—فوٹو:اے ایف پی
پاسداران انقلاب کو ایران کی مسلح افواج میں مرکزی حیثیت حاصل ہے—فوٹو:اے ایف پی

ایران کے اراکین پارلیمنٹ نے امریکا کو خبردار کردیا ہے کہ اگر اس نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا تو وہ بھرپور جواب دیں گے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق اراکین پارلیمان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا تو امریکا کے خلاف ایران جوابی کارروائی کرے گا۔

برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا کے تین عہدیداروں نے پہلی مرتبہ کسی ملک کی فوج کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد قرار دینے کی مثال قائم ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد قرار دیا جائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے 290 میں 255 اراکین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اگر اس فورس کے خلاف کارروائی کی گئی تو ہم اس پر جوابی کارروائی کریں گے’۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘امریکا خود مشرق وسطیٰ میں دہشت گردوں کا تخلیق کار اور حامی ہے اور اس کے رہنما اس نامناسب اور احمقانہ کارروائی پر نادم ہوں گے’۔

مزید پڑھیں:امریکا، ایرانی پاسداران انقلاب کو جلد ہی دہشت گرد قرار دے گا، رپورٹ

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکام اپنے مفاد سے بڑھ کر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مفاد کی خاطر پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دے کر ‘امریکا کو ایک نئی دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نیتن یاہو پہلے کی رٹ لگانے والے ہمیشہ سے پاسداران انقلاب کو بیرونی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالنے کی سوچ میں لگے رہتے ہیں اور وہ خطے میں امریکی فورسز کو درپیش اس کے خطرناک انجام سے بھی آگاہ ہیں’ ۔

جواد ظریف نے کہا کہ’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ امریکا کو کسی نئے المیے میں ڈالنے سے پہلےحقیقی صورت حال کو سمجھ لیں'۔

خیال رہے کہ امریکی عہدیداروں نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ طویل عرصے سے زیر غور فیصلے کا اعلان متوقع طور پر پیر تک کردے گی اور متعلقہ دفاعی عہدیدار اس کے اثرات سے آگاہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران پر پابندی کیس: امریکا نے عالمی عدالت کا دائرہ اختیار مسترد کردیا

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے پر تنقید کے ساتھ ساتھ خبردار بھی کیا گیا تھاکہ اس طرح کے اقدام سے امریکی فوجیوں اور انٹیلی جنس عہدیداروں کو بھی اس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایران اور اسرائیل خطے میں ایک دوسرے سخت حریف ہیں۔

یاد رہے کہ اسلامی پاسداران انقلاب کی بنیاد 1979 میں رکھی گئی تھی جس کا مقصد انقلابی رہنماؤں کی سیکیورٹی تھا اور اب بھی روایتی فوجی یونٹ کے بجائے سیکیورٹی کی ذمہ داری پاسدران انقلاب کی ہے۔

پاسداران انقلاب کو ایران کی مسلح افواج میں اہم مقام حاصل ہے جس میں خاص معاشی فوائد بھی دیئے گئے ہیں۔