بلیک ہول کی پہلی تصویر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2019

ای میل

بلیک ہول کی پہلی تصویر — فوٹو بشکریہ  EHT Collaboration
بلیک ہول کی پہلی تصویر — فوٹو بشکریہ EHT Collaboration

بلیک ہول فلکیات کا شوق رکھنے والے لوگوں میں بالخصوص اور عام سائنس کے طالب علموں میں بالعموم سب سے زیادہ حیران کن چیزوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے.

بلیک ہول کے بارے میں بچے بڑے سب ہی متجسس ہوتے ہیں اور رواں ہفتے کی خبر دیکھیں تو سائنسدانوں کی طرف سے یہ پیغام سامنے آیا تھا کہ وہ 10 اپریل 2019 (یعنی بدھ) کو بلیک ہول کی حقیقی تصویر منظر عام پر لائیں گے. اس خبر کے بعد سے دنیا بھر کی نظریں ایونٹ ہورائیزن دوربینوں پر تھیں.

10 اپریل کو 'ایونٹ ہورائیزن دوربین' کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شیپرڈ ڈوئلیمن نے نیشنل پریس کلب، واشنگٹن ڈی. سی. میں میڈیا اور عام عوام کے سامنے ہماری زمین سے تقریبا 5.5 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع کہکشاں جس کا نام 'میسیئر 87' ہے، کے مرکز میں موجود بلیک ہول کی تصویر پیش کی.

'ایونٹ ہورائیزن دوربین' ایک دوربین نہیں ہے بلکہ کل آٹھ دوربینوں کا مجموعہ ہے. یہ دوربین نظر آنے والی روشنی کی بجاے ریڈیائی روشنی دیکھتی ہے. اس دوربین میں ایک تیکنیک کا استعمال کیا گیا ہے جسے 'ویری لونگ بیس لائن انٹرفیرومیٹری' کہا جاتا ہے.

اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں کل آٹھ ریڈیائی دوربینوں کو ایک دوسرے سے سیٹلائٹ کے ذریعے رابطے میں رکھا گیا اور ان تمام دوربینوں سے ایک ہی فلکیاتی جسم سے آنے والے ریڈیائی سگنلز حاصل کرکے ایک تصویر بنائی گئی، چونکہ اس تکنیک میں استعمال کی جانے والی دوربینیں دنیا کے آٹھ مختلف مقامات (ہوائی کے جزیرے، شمالی امریکا، جنوبی امریکا، جنوبی پول، یورپ) پر موجود تھیں اس لئے ان تمام کے ملنے سے بننے والی تصویر ایسی دوربین سے حاصل کی گئی تصویر کے مساوی ہوتی ہے جس کا حجم ہماری زمین کے برابر ہو.

اس تیکنیک کا استعمال اس لئے کیا گیا کیونکہ زمین جتنی دوربین بنانے کے لئے کئی سالوں کا وقت اور کھربوں ڈالر چاہیے جو کہ بہت مشکل ہے. اس تکنیک کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب ایک ہی جسم کو کئی دوربینیں دیکھیں گی تو ہمیں اس کی چیز کے بارے میں زیادہ ڈیٹا ملے گا اور اس وجہ سے تصویر کا معیار بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ معلومات بھی ملے گی. اس تیکنیک کا استعمال بہت سی دوربینوں میں کیا جاتا ہے.

فلکیاتی اصطلاح میں ایونٹ ہورائیزن بلیک ہول کے گرد اس مقام کو کہا جاتا ہے جس کو پار کرنے کے بعد کوئی بھی چیز، یہاں تک کہ روشنی خود بھی، واپس نہیں آسکتی.

چونکہ اس دوربین کو سائنسدانوں نے بلیک ہول کی تصویر لینے اور اس پر تحقیق کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا اس وجہ سے اس دوربین کا نام 'ایونٹ ہورائیزن دوربین' رکھ دیا گیا.

اس کی مدد سے جس بلیک ہول کی تصویر لی گئی وہ ایک 'سپر میسو بلیک ہول' (بہت بڑا بلیک ہول) ہے یعنی اس کا ماس ہمارے سورج سے تقریبا 6.5 کھرب گنا زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بلیک ہول میں 6.5 کھرب سورج سما سکتے ہیں.

اس بلیک ہول کا قطر 3 کروڑ 40 لاکھ کلومیٹر ہے اور یہ ہماری زمین سے تقریبا 5.5 کروڑ نوری سال (ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال کے عرصے میں طے کرتی ہے اور یہ فاصلہ تقریبا 9 کھرب کلومیٹر ہے) کے فاصلے پر موجود ہے.

واضح رہے کہ یہاں 'بلیک ہول کے قطر' سے مراد بلیک ہول کی ایونٹ ہورائیزن کا قطر ہے جو کہ دائرے کی شکل میں تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے.

جہاں دنیا بھر سے شائقین پرجوش ہیں وہیں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے دکھائی دیے کہ بلیک ہول تو سائنس کے مطابق کسی طرح کی روشنی خارج نہیں کرتا تو پھر یہ تصویر کس طرح لی گئی؟

یہ سوال بلیک ہول کے بارے میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والا سوال ہے. اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ آج تک سائنسدانوں نے نہ کبھی بلیک ہول کو دیکھا ہے اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں دیکھ سکیں گے.

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب بلیک ہول مادے کو نگلتا ہے تو ایونٹ ہورائزن سے پہلے، شدید کشش کی وجہ سے مادہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور انرجی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ایونٹ ہورائزن کے بہت قریب ایکس ریز اور ریڈیائی روشنی پیدا ہوتی ہیں جسے زمین پر موجود دوربینوں کی مدد سے تصویر میں قید کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم بلیک ہولز کا مشاہدہ کرتے ہیں.

اس کانفرنس سے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ اس دوربین کی مدد سے دو کہکشاؤں، جن میں ایک ہماری اپنی کہکشاں اور دوسری ایم 87 کہکشاں شامل ہے، کی تصویریں شائع کی جائیں گیں لیکن 10 اپریل کو صرف ایم 87 کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کی تصویر ہی دکھائی گئی.

اس کی وجہ یہ ہے کہ رواں سال جنوری میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ملکی وے کے درمیان موجود سپر میسو بلیک ہول سے خارج ہونے والے مادے کا رخ (جس کو جیٹس کہا جاتا ہے) زمین کی طرف ہے. اس وجہ سے دوربینوں کو بلیک ہول کی بجائے تیز روشنی دکھائی دی. اسی لئے آج ہماری کہکشاں کے بلیک ہول کی تصویر نہیں پیش کی گئی.

10 اپریل 2019 کا دن ایک نئی انسانی تاریخ رقم کرگیا کیونکہ آج سائنسدانوں نے جو چیز دیکھی وہ آج سے پہلی کسی سے نہیں دیکھی. بلیک ہول کی اس تصویر سے پہلے آپ نے انٹرنیٹ پر یا سائنس فکشن فلموں میں جتنی بھی تصاویر دیکھیں وہ صرف کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے بنائی گئی اسمولیشنز ہیں، لیکن یہ تصویر کسی سافٹ ویئر کی مدد سے نہیں بنائی گئی بلکہ اس پروجیکٹ میں شامل دنیا بھر کے سائنسدانوں کی ان تھک محنت اور لگن کا نتیجہ ہے.

آج انسان کو پچھلی اقوام پر یہ امتیاز حاصل ہوگیا کہ وہ اس سائنسی دور میں اتنی ترقی کرگیا ہے کہ اس نے کائنات کی چھپی ہوئی چیزوں میں سے ایک پر سے پردہ اٹھا دیا ہے.

آخر میں یہ کہوں گا کہ بلیک ہول کی یہ تصویر ریاضی اور فزکس کے ان تمام حسابات کے عین مطابق ہے جو ایک صدی پہلے بیسویں صدی کے مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن اور اکیسویں صدی کے نامور سائنسدان ڈاکٹر سٹیفن ہاکنگ نے کیے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ آج کی سائنس صحیح سمت میں جارہی ہے کیونکہ اگر اس کی سمت غلط ہوتی تو کائنات سائنس کی انکاری بن کر خود کو ثبوت کے طور پر پیش کردیتی۔


سید منیب علی فورمن کرسچن کالج یونیورسٹی، لاہور میں بی. ایس. فزکس کے طالب علم، اسٹروبائیولوجی نیٹ ورک آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں.انہیں علم فلکیات کا بہت شوق ہے اور اس کے موضوعات پر لکھنا ان کا من پسند مشغلہ ہے. ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں @muneeb227


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔