اسرائیل: مسجد شراب خانے میں تبدیل کردی گئی

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2019

ای میل

اس مقام پر آنے والے مسلمانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے—تصویر :سوشل میڈیا
اس مقام پر آنے والے مسلمانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے—تصویر :سوشل میڈیا

قاہرہ: اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں قائم تاریخی مسجد کو شراب خانے میں تبدیل کردیا۔

عربی اخبار گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی مسلمان عہدیدار نے بتایا کہ شمالی فلسطین کے علاقے صفد کی مقامی انتظامیہ نے 13 ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی الاحمر (سرخ) مسجد کو شراب خانے اور شادی ہال میں بدل دیا۔

تبدیل شدہ مسجد کے اندرونی حصے کا منظر—تصویر بشکریہ مڈل ایسٹ مانیٹر
تبدیل شدہ مسجد کے اندرونی حصے کا منظر—تصویر بشکریہ مڈل ایسٹ مانیٹر

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی وقف کے سیکریٹری خیر طباری نے بتایا کہ ’جب میں نے مسجد کے اندر ہونے والی تخریب کاری دیکھی تو مجھے شدید صدمہ ہوا، وہاں منبر پر موجود قرآنی ایات کی خطاطی کو عبرانی میں 10 احکامات سے تبدیل کردیا گیا تھا‘۔

دی نیو عرب نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق صفد کے علاقے میں موجود کئی مساجد کی یہی کہانی ہے، 1319 میں بنائی گئی ایک یونانی مسجد کو بھی آرٹ گیلری میں تبدیل کر کے یہاں عبادت کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق خیر طباری نے کئی سال پہلے ناصرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں اس مسجد کو اسلامی وقف کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

لیکن عدالت کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر فیصلہ نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: طیب اردوان کا مسلمانوں، عیسائیوں کے درمیان متنازع مقام کو مسجد بنانے کا فیصلہ

خیر طباری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست کے ساتھ اس مسجد کی ملکیت کی اصل دستاویزات اور یہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے معاوضوں کی فہرست بھی جمع کروائی تھی۔

اور اب مذکورہ مقام کا نام تبدیل کر کے ’خان الاحمر‘رکھ دیا گیا تا کہ بطور مسجد اس کی حرمت کی طرف سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

اس سے قبل 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد متعدد مرتبہ اس مسجد کی بے حرمتی کی جاچکی ہے اور ابتدا میں اسے یہودی عبادت گاہ اور یہودی اسکول میں تبدیل کیا گیا تھا۔

داخلی مقام پر نصب کتبہ 1276 عیسوی میں مسجد کی تعمیر کا پتہ دیتا ہے —تصویر بشکریہ دی نیو عرب
داخلی مقام پر نصب کتبہ 1276 عیسوی میں مسجد کی تعمیر کا پتہ دیتا ہے —تصویر بشکریہ دی نیو عرب

بعدازاں 2006 میں کپڑوں کے گودام میں تبدیل کرنے سے پہلے اسے اسرائیلی سیاسی جماعت کادیما کے الیکشن آفس کی شکل دے دی گئی تھی۔

اس بارے میں صفد کے رہائشی اور تاریخ دان مصطفیٰ عباس نے بتایا کہ ’الاحمر مسجد کا نام اس میں استعمال ہونے والی سرخ اینٹوں کی وجہ سے رکھا گیا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس مقام پر آنے والے مسلمانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مسجد تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے خاصی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اسے 1223-1277 عیسوی میں مملوک سلطان الداہر نےتعمیر کروایا تھا۔

مزید پڑھیں: مسجد نبوی میں ایک اسرائیلی یہودی کی تصویر پر تنازع

مسجد کے داخلی مقام پر نصب کتبہ 1276 عیسوی میں مسجد کی تعمیر کا پتہ دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام پر فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کی شناخت کو مسخ کرنے کے لیے اسلامی مقامات پر منظم طریقے سے قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج مقبوضہ علاقے میں قائم مسجدِ اقصیٰ پر بھی باربار کارروائی کرتی ہے جو مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس مقام ہے۔

اس حوالے سے فلسطینی وزیر اوقاف و مذہبی امور یوسف ادائیس کا کہنا تھا کہ ’یہودیوں نے اکثر فلسطینی اوقاف کے مقامات اور مسجدیں بدل دی ہیں اور ایسا زیادہ تر ان علاقوں میں کیا گیا ہے جہاں کے مقامی لوگوں کو جبری طور پر بے دخل کر کے یہودیوں نے قبضہ کرلیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’یہودیوں نے ان مقامات کی بڑی تعداد کو نائٹ کلبس اور یہودی عبادت گاہوں میں تبدیل کیا ہے جبکہ بعض کو تباہ بھی کردیا ہے۔