وفاقی کابینہ میں آج رات یا کل تک مزید تبدیلیاں ہوں گی، اسد عمر

اپ ڈیٹ 18 اپريل 2019

ای میل

نیا پاکستان کے وژن میں عمران خان کے ساتھ رہوں گا— فوٹو: اے ایف پی
نیا پاکستان کے وژن میں عمران خان کے ساتھ رہوں گا— فوٹو: اے ایف پی

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے اور نئے وزیر خزانہ کو بھی معاشی چیلنجر کا سامنا ہوگا۔

وزارت خزانہ کے قلمدان سے استعفیٰ کے اعلان کے کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کرنے جارہے ہیں، مجھ سے پہلی مرتبہ وزارت سے متعلق بات کل رات ہوئی ہے جبکہ کابینہ میں مزید تبدیلیاں آج رات یا کل تک ہوں گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھے توانائی کی وزارت کی پیش کش کی ہے اور اس سلسلے میں میری گزشتہ رات ان سے بات ہوئی جبکہ صبح ملاقات بھی ہوئی جس میں وزیر اعظم کو راضی کرلیا کہ میں کابینہ چھوڑ دوں، تاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے ساتھ نہیں، میں ان کے نئے پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 18 اپریل 2012 کو میں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور پی ٹی آئی کے ساتھ 7 سال کا یہ سفر بہت اچھا گزرا اور عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کےلیے ہمارے ساتھ آئیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسد عمر وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی

اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے نوجوان کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب کے بغیر آج عمران خان وزیر اعظم اور اسد عمر وزیر خزانہ نہیں ہوسکتے تھے، ساتھ ہی انہوں نے اپنے حلقے این اے 48 اور 54 کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم کے بعد وزیرخزانہ کی نوکری مشکل ترین

معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بننے کے وقت جہاں معیشت کھڑی کی تھی وہ پاکستان کی معیشت کی بدترین صورتحال تھی اور اس سے نکلنے کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے، جس سے اعداد و شمار میں بہتری بھی آئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب معیشت کے بہت اچھے حالات ہوگئے، جو نیا وزیر خزانہ آئے گا وہ بھی ایک مشکل معیشت کو سنبھالے گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں وزیر اعظم کے بعد وزیر خزانہ کی نوکری مشکل ترین ہے لیکن میں نئے وزیر خزانہ کےلیے امید کرتا ہوں کہ انہیں مکمل حمایت ملے گی۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں، معیشت میں بڑی جان ہے، صرف تھوڑے مشکل فیصلوں اور صبر و تحمل کی ضرورت ہے، اگر ہم یہ فیصلے نہیں کریں گے، جلد بازی کریں گے تو معیشت کا کھائی میں گرنے کا دوبارہ خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، کوئی یہ توقع نہ کرے کہ معجزے ہوں گے اور دودھ و شہد کی نہریں بہیں گی۔

مشکل فیصلے کرنے سے گھبرانے والا نہیں ہوں

اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں مشکل فیصلے لینے سے گھبراتا نہیں ہوں، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں جارہے ہیں، آئندہ بجٹ پر اس کا اثر ہوگا لیکن یہ مشکل بجٹ ہوگا اور مشکل فیصلے کرنے کا استحقاق نئے وزیر خزانہ کے پاس ہونا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں سازشوں کا حصہ بننے نہیں بلکہ ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے آیا تھا، مجھے اس بارے میں علم نہیں کہ کوئی سازش ہوئی ہے یا نہیں، کپتان نے مجھے کہا کہ میں آپ کو اس رول میں دیکھنا چاہتا ہوں لیکن میرے حساب سے یہ مناسب نہیں تھا اس لیے ان سے اجازت لے لی، تاہم ہم ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

مستعفی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر خزانہ کی ذمہ داری ملک کے 21 کروڑ عوام پر ہے، میں پاکستان کے عوام کا کچومر نکالنے کے لیے نہیں تیار تھا اور ہم نے یہ کرکے دکھایا، آئی ایم ایف کا معاہدہ جن بنیادوں پر ہوا وہ بہت بہتر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسد عمر کے مستعفی ہونے پر سیاسی رہنماؤں، صحافیوں کا ردعمل

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ نیاپاکستان بنے گا اور عمران خان اس کی قیادت کریں گے، میں نے کبھی شرط نہیں رکھی کہ مجھے وزیر بنایا جائے، جب میں نے نوکری چھوڑی تھی اس وقت تو تحریک انصاف پارلیمنٹ میں ہی نہیں تھی، بہتر پاکستان کے لیے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی۔

نئی ٹیم کو وقت دینا ہوگا

تحریک انصاف کو خیرباد کہنے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ میں جماعت کو نہیں چھوڑ رہا، میرا یقین ہے عمران خان نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے، وزارت سے متعلق پہلی مرتبہ بات کل رات میں ہوئی۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان سے میری جو بات ہوئی ہے، اس کے مطابق آج رات یا کل تک کابینہ میں جو تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں اس کا اعلان ہوجائے گا۔

گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، ایک نئی ٹیم آکر کام کرے گی تو ہوسکتا ہے بہتری نظر بھی آئے لیکن انہیں وقت دینا ہوگا۔

اپنی کارکردگی سے متعلق سوال پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ بحرانی صورتحال کے باوجود پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے دور کے پہلے 8 ماہ اور ہماری کارکردگی کا موازنہ کرلیں تب بھی عمران خان کی حکومت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ عمران خان کی حمایت کابینہ میں شمولیت سے بالکل مشروط نہیں تھی، میرا آج بھی ان پر اعتماد ہے کہ وہ نیا پاکستان کا وژن پورا کریں گے۔

نیا وزیرخزانہ نیک سیرت، قابل اور محنتی ہوگا

نئے وزیرخزانہ سے متعلق سوال پر انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ نئے وزیر خزانہ میں یہ خصوصیات ہوں گی کہ اسے وزیر اعظم منتخب کریں گے، وہ نیک سیرت، قابل اور محنتی ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف میں نان الیکٹبل کے الیکٹبل پر زیادہ حاوی ہونے سے متعلق ایک سوال پر اسد عمر نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے، ایسے بہت سے لوگ ہیں جو الیکٹڈ ہیں جو وزن اور بے تحاشہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں جبکہ بہت سے نان الیکٹڈ بھی ایسے ہیں جو اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کی بنیادی چیزوں کو جب تک ٹھیک نہیں کریں گے تب تک معیشت آگے نہیں بڑھے گی، آئی ایم ایف کی جانب سے جو معاہدہ ہمارے سامنے رکھا تھا اس میں اور جو معاہدہ ہونے جارہا ہے اس میں بہت فرق ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ 8 ماہ میں ہم نے جو کام کیے اس میں کچھ میں بہت اچھے نتائج ملے جبکہ کچھ میں وہ نتائج نہیں مل سکے۔

مزید پڑھیں: وزرا کے قلمدان میں تبدیلی کی خبروں میں صداقت نہیں، وزیر اطلاعات

واضح رہے کہ پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔

ایک ٹوئٹ میں اسد عمر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسد عمر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج پر گفتگو کے لیے واشنگٹن گئے تھے اور ان کی وہاں عالمی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

تاہم اسی دورے کے دوران ان کو عہدے سے ہٹائے جانے اور کابینہ میں اہم تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں جسے حکومت نے مسترد کردیا تھا۔

’ممکن ہے کہ دباؤ کم کرنے کیلئے استعفیٰ طلب کیا‘

سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے استعفے سے متعلق کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں معشیت پر دباؤ کی وجہ سے اپوزیشن کو بھرپور تنقید کا موقع ملا تاہم ممکن ہے کہ میرے استعفیٰ سے وزیراعظم عمران کے ذہن میں ہو کہ ’فریش اسٹارٹ‘ کی بدولت دباؤ میں کمی آئے اور ’فریش ٹیم اور فریش آئیڈیاز‘ سے معیشت میں بہتری آسکے۔

مستعفیٰ ہونے والے وزیر خزانہ اسد عمر نے نجی چینل اے آر وائی پر خصوصی انٹرویو دیتے کہا کہ ’ممکن ہے کہ پارٹی میں ان کے خلاف سازش ہوئی ہو لیکن اس امر پر کبھی بھی تشویش نہیں رہی تاہم اگر ایسا ہوا بھی تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ نہیں ہوگا‘۔

مزید پڑھیں: اسد عمر وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی

ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ رات وزیراعظم عمران خان نے قلمدان سے سبکدوش ہونے کا کہا تھا‘۔

سابق وزیرخزانہ نے اپنے اور وزیراعظم عمران کے مابین گفتگو کا تذکرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے عمران خان سے ازخود استعفیٰ دینے کی خبراور میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت چاہی، جسے انہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’جب مجھے وزارت خزانہ کا قلمدان ملا تو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج سے پہلے پاکستان کی اقتصادی صورتحال اس سے زیادہ خطرناک نہیں رہی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری تیاری کا تعلق ترجیحات سے تھا تاہم جن معاشی امور پر ہم نے کام کیا اس کے مثبت اشاریے سامنے آئے جسے عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: کابینہ میں تبدیلی کی جعلی خبر نشر کرنے پر نجی چینلز کو نوٹس

کیا وزیراعظم نے وہ مثبت اشاریے نہیں دیکھے؟ کے سوال پر اسد عمر نے واضح کیا کہ عمران خان نے مثبت اعداد وشمار دیکھے لیکن ممکن ہے کہ وزیراعظم کو درپیش موجودہ دباؤ کم کرنے کے لیے مذکورہ فیصلہ لینا پڑا اور یہ بھی ممکن ہے کہ فریش ٹیم کی بدولت بہتر معاشی پالیسی مل جائے۔

اسد عمر نے کہا کہ ’استعفے کے فیصلے سے حکومت دفاعی دائرے سے باہر نکل سکتی ہے یا پھر یہ اقدام اقتصادی لحاظ سے مثبت ہے تو یقیناً یہ بہترین فیصلہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’آنے والا وقت فیصلے کے نتائج کو واضح کردے گا‘۔

سابق وزیرخزانہ نے بتایا کہ ’گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمت میں کمی لائی جاسکتی ہے لیکن اس کے ثمرات غیرمعمولی طورپر خطرناک ہوں گے‘۔

مزیدپڑھیں: ’آئی ایم ایف سے پروگرام میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے‘

ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن سے قبل مسلم لیگ (ن) نے عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے بجلی، گیس، پیٹرولیم اور ٹیکس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جس سے اقتصادی نقصان بدترین سطح پر پہنچا‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ حکومت نے عوام کو لاعلم رکھا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے رہے۔

اسد عمرنے کہا کہ کارکردگی کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اسد عمر کا موازنہ کرنا غیر موزوں ہے‘۔

سابق وزیر خزانہ نے اس امر کی نفی کی کہ وہ کسی دوسری وزارت کا قلمدان سنبھالیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری تمام ترصلاحیت اور قابلیت شعبہ فنانس سے منسلک ہیں‘۔