ورلڈ کپ اسکواڈ، آغاز تو بسم اللہ انجام خدا جانے

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2019

ای میل

آسٹریلیا کے ہاتھوں 'ہوم گراؤنڈ' پر بدترین شکست کے بعد ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کا اگلا امتحان انگلینڈ کی سرزمین پر ہوگا، جہاں 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی کھیلا جائے گا۔

اس سیریز کے بعد ہوگا سال کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ یعنی ورلڈ کپ 2019ء۔ پاکستان پچھلے 10 سالوں میں انگلینڈ کے میدانوں پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی جیت چکا ہے اور 2 سال پہلے یہیں پر چیمپیئنز ٹرافی کی صورت میں ایک یادگار کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ اب وہی انگلش سرزمین پاکستان کو بلا رہی ہے لیکن کیا پاکستانی ٹیم اور اس کے کھلاڑی اس بڑے چیلنج کے لیے تیار ہیں؟ ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ سے تو لگتا ہے تیاریاں بہترین ہیں۔

محمد عامر پر دروازے بند، لیکن کھڑکی کھلی ہے

پاکستان نے ورلڈ کپ کے لیے جس 15 رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے اس میں فاسٹ باؤلر محمد عامر شامل نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ بات پاکستانی شائقین کے لیے حیران کُن ہو لیکن عامر کا اخراج نوشتہ دیوار تھا۔ چیمپیئنز ٹرافی 2017ء کے فائنل میں پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد سے آج کے دن تک ایک روزہ کرکٹ میں محمد عامر کی کارکردگی انتہائی مایوس کُن ہے۔

خود ہی اندازہ لگا لیں کہ پچھلے 2 سال میں کھیلے گئے 14 ون ڈے میچز میں عامر نے صرف 5 وکٹیں حاصل کی ہیں اور یہی کارکردگی ہے جس کی وجہ سے انہیں باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ خیر، تمام دروازے ابھی بند نہیں ہوئے، ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 17 رکنی ٹیم میں عامر شامل ہیں اور اگر وہاں غیر معمولی کارکردگی پیش کرتے ہیں تو ان کا پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

نوجوان لیکن متوازن دستہ

اعلان کردہ اسکواڈ مجموعی طور پر متوازن لگتا ہے۔ جہاں ٹیم کے لیے دستیاب وسائل کو استعمال کیا گیا ہے وہیں کھلاڑیوں کی فارم کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔ ان بنیادوں پر دیکھیں تو اس سے بہتر ٹیم بنانا ممکن نہیں تھا۔ عابد علی، شاہین آفریدی اور محمد حسنین بہترین کارکردگی کی بنیاد پر جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یاد رکھیں کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا امتزاج ہی کام کرتا ہے۔

پاکستان نے آخری بار جب ورلڈ کپ جیتا تھا تو بیشتر کھلاڑی نوجوان اور ناتجربہ کار تھے اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب بھی پاکستان نے انتہائی تجربہ کار اور گھاگ کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے لیے بھیجا، ٹیم کی کارکردگی بدترین رہی۔ 2003ء اور 2007ء کے ورلڈ کپ اس کے گواہ ہیں۔

—تصویر پاکستان کرکٹ ٹیم فیس بک پیج
—تصویر پاکستان کرکٹ ٹیم فیس بک پیج

موجودہ اسکواڈ میں سے صرف کپتان سرفراز احمد اور حارث سہیل ہی ہیں جنہوں نے پچھلا ورلڈ کپ کھیلا تھا، باقی کوئی کھلاڑی ورلڈ کپ 2015ء کے اسکواڈ کا حصہ نہیں تھا۔

پاکستان سپر لیگ کی گہری چھاپ

ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ ٹیم پر ہمیں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پی ایس ایل کے آغاز کے بعد ہونے والا پہلا ورلڈ کپ ہے۔ کھلاڑیوں کی فہرست دیکھیں تو کئی بڑے نام دراصل پی ایس ایل کی پیداوار ہیں۔ اوپنر فخر زمان سے لے کر اہم اسپنر شاداب خان تک، فہیم اشرف سے لے کر پیس بیٹری کے 3 اہم اراکین حسن علی، شاہین آفریدی اور محمد حسنین تک، ان سب کھلاڑیوں کو پی ایس ایل دنیا کے سامنے لے کر آیا۔

ایک معقول فیصلہ

محمد رضوان کی عدم شمولیت پر کئی حلقے حیران ہیں جس کی وجہ ان کی حالیہ کارکردگی ہے اور یہ بھی کہ وہ ایک مکمل فٹ کھلاڑی ہیں۔ دونوں پہلوؤں سے آگے رہنے کے باوجود ورلڈ کپ کے لیے منتخب نہ ہونے کی وجہ سادہ سی ہے کہ پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ میں صرف ایک وکٹ کیپر کی گنجائش نکلتی ہے۔ اگر بلے باز کی حیثیت سے بھی رضوان کو شامل کیا جاتا تو ایک آل راؤنڈر کی قربانی دینا پڑتی جس سے ایک متوازن اسکواڈ بنانا مشکل ہوجاتا۔ ہاں! اگر فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے والے عماد وسیم کا انتخاب کرنے کا فیصلہ نہ کیا جاتا تو رضوان کی جگہ نکل سکتی تھی لیکن مسئلہ وہی کہ پھر ایک اسپن باؤلر کی کمی ہوجاتی، جس کا خطرہ پاکستان مول نہیں لے سکتا تھا۔

سب سے بڑی کمزوری

گوکہ پاکستان کے پاس محمد حفیظ اور شعیب ملک جیسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جو 2007ء کا ورلڈ کپ تک کھیل چکے ہیں لیکن ان کی موجودگی کے باوجود پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری میچ فنِش کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کسی بیٹسمین کی کمی ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کہیں کہ شعیب ملک، عماد وسیم اور فہیم اشرف نچلے آرڈر میں اچھی بیٹنگ کرسکتے ہیں لیکن جدید کرکٹ میں ہمیں ضرورت ہے عبدالرزاق جیسے کھلاڑی کی جو تنِ تنہا حریف کے جبڑوں سے فتح چھین لانے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتا ہو۔

ہمیں پچھلے ڈیڑھ دو سال میں آصف علی پر کام کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ دستیاب کھلاڑیوں میں سے لمحوں میں بازی پلٹنے کے جراثیم انہی میں نظر آتے ہیں۔ لیکن مسئلہ وہی کہ نئے کھلاڑیوں کو کھل کر مواقع نہیں دیے جاتے اور اگر کسی مقابلے میں کارکردگی نہ دکھا پائیں تو جلد ہی باہر کردیے جاتے ہیں۔

آصف علی نے پی ایس ایل کے بعد حالیہ پاکستان کپ میں بھی اچھا پرفارم کیا ہے اور تکنیک میں کچھ بہتری کے بعد ان سے بہت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ بہرحال، محمد عامر کی طرح وہ بھی ورلڈ کپ کھیلنے کے امیدوار ضرور ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں غیر معمولی کارکردگی انہیں بھی ورلڈ کپ میں لا سکتی ہے۔

چھپے رستم

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ محمد حسنین کی شمولیت پر کئی حلقے حیران ہیں کہ جس اسکواڈ میں عثمان شنواری، وہاب ریاض اور محمد عامر کو جگہ نہیں ملی، اس میں یہ کھلاڑی کیسے شامل ہوگیا؟ بلاشبہ وہاب ریاض اس وقت بہترین فارم میں ہیں، عثمان بھی کچھ عرصے سے اچھا کھیل پیش کر رہے ہیں جبکہ محمد عامر بڑے مقابلوں کے بڑے کھلاڑی ہیں، لیکن 150 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کو چھونے والے حسنین ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے ترپ کا پتہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ بیٹنگ میں عابد علی حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف 112 رنز کی اننگز سے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے عابد نے حالیہ پاکستان کپ میں بھی شاندار پرفارمنس دی ہے۔

ایک متوازن دستے کے انتخاب کے بعد بھی ذہنوں میں کئی سوالات ہیں۔

  • کیا امام الحق متحدہ عرب امارات کی دوستانہ وکٹوں کے بعد انگلش کنڈیشنز میں سنبھل پائیں گے؟
  • بابر اعظم کا بلّا جم کے کھیلے گا؟
  • شاداب خان اور عماد وسیم کی موجودگی میں کیا کسی اسپنر کی کمی محسوس ہوگی؟
  • حسن علی، جنید خان اور شاہین آفریدی کی تکون سے وہ توقع رکھی جاسکتی ہے جو بھارت، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو اپنے فاسٹ باؤلرز سے ہے؟

ان میں سے بیشتر سوالوں کے جوابات 5 سے 19 مئی کے دوران انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ہی مل جائیں گے۔ امید یہی ہے کہ اس سیریز کا نتیجہ پاکستان کو حوصلہ دے گا اور بڑے اعزاز کے لیے تیار کرے گا۔