نریندر مودی کا مسجد پر حملے کرنے والی خاتون امیدوار کا بھرپور دفاع

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2019

ای میل

اگر کانگریس رہنما ضمانت پر رہائی کے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں تو بی جے پی کی امیدوار پر ہنگامہ کیوں؟ نریندر مودی — فائل فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام
اگر کانگریس رہنما ضمانت پر رہائی کے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں تو بی جے پی کی امیدوار پر ہنگامہ کیوں؟ نریندر مودی — فائل فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتہاپسند خاتون امیدوار پراگیا سنگھ ٹھاکر کے دفاع میں سامنے آکر ہندوتا مہم کی کھلم کھلا حمایت کردی۔

خیال رہے کہ پراگیا سنگھ ٹھاکر مالے گاؤں میں قائم ایک مسجد میں بم دھماکے کروانے کے الزام میں گرفتار تھیں، جنہیں انتخابات سے قبل ہی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

اپنی رہائی کے فوراً بعد پراگیا نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور پارٹی نے انہیں بھوپال سے اپنا انتخابی امیدوار بھی نامزد کردیا تھا۔

انتہاپسند خاتون امید وار کے حوالے سے نریندر مودی نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’پراگیا کی حمایت ان تمام لوگوں کے لیے ایک جواب ہے جنہوں نے قدیم ہندو تہذیب پر دہشت گرد کا لیبل لگادیا تھا اور اب اس سے کانگریس کو کافی نقصان پہنچے گا۔‘

مزید پڑھیں: بھارت: الیکشن کمیشن نے مودی پر بنی ویب سیریز روک دی

بی جے پی نے اپنی سب سے بڑی حریف جماعت کانگریس کے اہم رہنما ڈگ وجے سنگھ کے مقابلے میں بھوپال میں پراگیا ٹھاکر کو انتخابی امید وار نامزد کیا تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ کانگریس نے اپنے کاندرے استعمال کرتے ہوئے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے اور جج بی ایچ لویا کی موت پر جھوٹا بیانیہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔

پراگیا سنگھ ٹھاکر کے دفاع میں نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی اور ان کی والدہ سونیا گاندھی بھی ضمانت پر رہا ہیں اور دونوں امتھ اور رائے بریلی سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، تو ان کے انتخابی دوڑ میں شامل ہونے پر سوالات کیوں نہیں اٹھائے جاتے۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ایک خاتون جو خود بھی سادھوی (نیک خاتون) ہیں، الزمات لگا کر ان کی تذلیل کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات: الیکشن کمیشن سے منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا جواب طلب

حریف جماعت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’ان (کانگریس) کا ایک امیدوار امتھ سے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے اور ایک رائے بریلی سے حصہ لے رہا ہے اور دونوں ہی ضمانت پر رہا ہوں، تو پھر ایک ایسا امیدوار جو بھوپال (بی جے پی) سے ہے اور ضمانت پر رہا ہے تو اس کے الیکشن میں حصہ لینے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟‘

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ’میں گجرات میں رہ چکا ہوں، میں نے وہاں کانگریس کے طریقہ کار کو سمجھا ہے، وہ فلم کے اسکرپٹ کی طرح سیاسی اسکرپٹ لکھتے ہیں، وہ جگہ کی تلاش کرتے ہیں وہاں ایک ہیرو اور ایک ولن لے کر آتے ہیں اور فلم بناتے ہیں، یہی ان کا طریقہ کار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کا فیصلہ آیا اس میں کیا تھا؟ بغیر ثبوت دنیا کی ایک قدیم ترین تہذیب کو دہشت گرد تہذیب کہہ دیا‘۔

مزید پڑھیں: بھارت: پارٹی پوسٹر میں ابھی نندن کی تصویر لگانے پر بی جے پی رہنما کو شوکاز نوٹس

سکھ برادری پر 1984 میں ہونے والے کریک ڈاؤن کا تذکرہ کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ جب سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل ہوا تو اس کے بعد ان کے بیٹے (راجیو گاندھی) نے کہا تھا کہ جب ایک بڑا درخت گرتا ہے تو زلزلہ آتا ہے، اب اس کے فوراً بعد سکھ برادری کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا اور پھر راجیو گاندھی وزیراعظم بنے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ اس قتل عام کے چشم دید گواہ تھے انہیں بعد میں وزیر بنایا گیا، اور حال ہی میں ان میں سے ایک کو مدھیا پردیش کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا، جب کہ ان قتل عام کے الزام میں قید افراد کو جیلوں میں گلے سے لگایا گیا۔


یہ خبر 21 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی