سری لنکا دھماکوں میں 7 خود کش بمباروں کے ملوث ہونے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2019

ای میل

سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں میں 290 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے— فوٹو: رائٹرز
سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں میں 290 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے— فوٹو: رائٹرز

سری لنکا میں بدترین دہشت گردی اور 8 بم دھماکوں میں 290 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں 7خود کش بمباروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی فرانزک کرائم تفتیش کار آریا نندا ولیندا نے بتایا کہ حملہ آوروں کے جسمانی اعضا کی جانچ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس میں خود کش بمبار ملوث تھے۔

مزید پڑھیں: سری لنکا میں 8 بم دھماکے، ہلاکتیں 290 تک پہنچ گئیں

انہوں نے کہا کہ اکثر حملے خودکش تھے جبکہ کولمبو کے شنگریلا ہوٹل میں دو بم دھماکے کیے گئے۔

سری لنکا میں ایک دہائی قبل ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد ہونے والے بدترین حملے میں اتوار کو ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں غیرملکیوں سمیت کم از کم 290افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہیں۔

سری لنکن پولیس ان رپورٹس کی تفتیش کر رہی ہے جن کے مطابق خفیہ ایجنسیوں نے پہلے ہی حملوں کے بارے میں خبردار کر دیا تھا۔

یہ رپورٹس اس وقت سامنے آئیں جب دو وزرا کی جانب سے حملوں کو خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا گیا۔

وزیر مواصلات ہرن فرنینڈو نے ٹوئٹ میں کہا کہ خفیہ ایجنسی کے کچھ افسران کو واقعے کا علم تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے کارروائی میں تاخیر کی لہٰذا اس پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے کہ انہوں نے اس خطرے کو نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی میں تاخیر کیوں کی۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا: دھماکوں کے الزام میں 13 افراد گرفتار

اس کے علاوہ وزیر برائے قومی انضمام مانو گنیشن نے کہا کہ ان کی وزارت کے سیکیورٹی افسران نے پولیس کو خبردار کیا تھا کہ دو خودکش بمبار سیاستدانوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

معاملے کی تفتیش کرنے والی سری لنکن پولیس کے ترجمان روان گناسیکرا نے کہا کہ ہم ان رپورٹس کا جائزہ لیں گے۔

اس سے قبل وزیر دفاع نے ان دھماکوں کو مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے دہشت گرد حملہ قرار دیا تھا پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے 13مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے البتہ ابھی تک کسی نے بھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

سری لنکا میں خود کش حملوں میں مہارت رکھنے والے تامل ٹائیگرز کو 2009 میں حکومت نے کچل کر ختم کردیا تھا اور وہ ماضی میں مسیحیوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں جبکہ یہاں کسی بھی مسلمان شدت پسند تنظیم کے حملوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

سری لنکن حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک 290 افراد میں سے کم از کم 27 غیرملکی ہیں جن میں امریکا، چین، بھارت، برطانیہ، پرتگال اور ترکی کے باشندے شامل ہیں۔

سری لنکن وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس خونریزی سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے اور انہوں نے ذمے داران کے خلاف اپنی بھرپور قوت سے کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔

ادھر سری لنکن دارالحکومت کولمبو میں اتوار کو رات گئے ایئرپورٹ جانے والی سڑک پر ایک دھماکا خیز مواد ڈیوائس ملی جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔

ایئرفورس گروپ کے کپتان گیہان سینے ویرتنے نے پیر کو بتایا کہ حکام کو اتوار کو رات گئے ایئرپورٹ کے قریب ایک گھریلو ساختہ 50کلوگرام بم ملا جو 400 میٹر تک تباہی پھیلا سکتا تھا تاہم اسے ناکارہ بنا دیا گیا۔