10 لاکھ حیاتیاتی نوع، انسانوں کی وجہ سے معدومیت کے خطرے سے دوچار

24 اپريل 2019

ای میل

آئندہ چند دہائیوں میں 5 لاکھ سے 10 لاکھ نوع کو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں—تصویر اے ایف پی
آئندہ چند دہائیوں میں 5 لاکھ سے 10 لاکھ نوع کو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں—تصویر اے ایف پی

پیرس: اقوامِ متحدہ کی مرتب کردہ دستاویز کے مطابق انسانی اثر و نفوذ کے باعث تقریباً 10 لاکھ حیاتیاتی نوع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مرتب کردہ نقشہ—تصویر:اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق مرتب کردہ نقشہ—تصویر:اے ایف پی

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو حاصل ہونے والی رپورٹ میں بڑی محنت سے ان انسانی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے جو ان قدرتی وسائل کو ختم کررہی ہیں جس پر بقا کا انحصار ہے۔

مذکورہ رپورٹ 6 مئی کو جاری کی جائے گی جس کے مطابق تیزی سے کم ہوتی صاف ہوا، پینے کے لائق پانی، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہوئے جنگلات، پولینیشن کرنے والے کیڑے مکوڑے، پروٹین سے بھرپور مچھلیاں اور طوفان کو روکنے والے منگروز فطرت کی فراہم کردہ چند خدمات میں شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے قدرت پر سائنسی ادب کا جائزہ لے کر 18 سو صفحات پر مشتمل جائزہ مرتب کیا جس سے پالیسی میکرز نے 44 صفحات پر مشتمل خلاصہ مرتب کیا، اس خلاصے کے مطابق مختلف نوع کا خاتمہ اور گلوبل وارمنگ کا آپس میں قریبی تعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جدید سائنس انسانی بقا کیلئے ممکنہ خطرہ، سٹیفن ہاکنگز

خیال رہے کہ 130 اقوام کے وفود 29 اپریل کو پیرس میں اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس خلاصے کا سطر بہ سطر جائزہ لیا جائے گا جس کے الفاظ تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن رپورٹ میں درج اعداد و شمار تبدیل کرنا ممکن نہیں۔

اس ضمن میں رپورٹ مرتب کرنے والی اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ واٹسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور فطرت کا ضیاع دونوں یکساں طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس طریقے سے ہم اپنی غذا اور توانائی پیدا کررہے ہیں اس سے فطرت سے حاصل ہونے والی خدمات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور صرف تغیراتی تبدیلی ہی اس نقصان کو روک سکتی ہے‘۔

مزید پڑھیں: ہمارے ماحول کی بقا کے ضامن جنگلی حیات خطرے میں

مختلف نوع پر بین الحکومتی سائنس پالیسی پلیٹ فارم اور ایکو سسٹم سروس کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’حیاتیاتی نوع کی معدومیت کی عالمی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے‘۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نقصانات کی رفتار گزشتہ 10 لاکھ سال کے اوسط کے حوالے سے سینکڑوں گنا تک زائد ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ چند دہائیوں میں 5 لاکھ سے 10 لاکھ نوع کو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اس حوالے سے بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ گشتہ 50 کروڑ سال میں ہونے والی معدومیت کے چھٹے حصے کے برابر ہے۔

سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق آج زمین پر تقریباً 80 لاکھ نوع موجود ہیں جس میں زیادہ تر کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ماحول کو بچانے کے لیے ٹیکس دیں

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان انواع کے خاتمے کی براہِ راست وجہ زمین کے استعمال میں تبدیلی اور ان کا سکڑتا مسکن، خوراک کے لیے شکار اور اعضا کی غیر قانونی تجارت، ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور حملہ آنور جانور مثلاً چوہے، مچھر اور سانپ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انواع کی معدومیت اور ماحولیاتی تبدیلی کی بلا واسطہ وجہ دنیا کی آبادی ہے جس سے وسائل کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔