سری لنکا میں پاکستانیوں سمیت مصری باشندہ ’تفتیش‘ کیلئے گرفتار

اپ ڈیٹ 25 اپريل 2019

ای میل

حکام کے مطابق حملوں کے حوالے سے خفیہ اطلاعات ملی تھیں—فوٹو:اے ایف پی
حکام کے مطابق حملوں کے حوالے سے خفیہ اطلاعات ملی تھیں—فوٹو:اے ایف پی

سری لنکن حکام نے ایسٹر کے موقع پر سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے پاکستانیوں سمیت مصری باشندے کو حراست میں لیا۔

خبررساں ادارے ’اےایف پی‘ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ گزشتہ رات کریک ڈاؤن میں 16افراد کو حراست میں لیا گیا تاہم بم دھماکوں میں ان کی معاونت یا ملوث ہونے کے بارے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حکمرانوں کی چپقلش نے سری لنکا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا؟

پولیس نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات گرفتار کیے گئے افراد میں سے ایک کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے ہے لیکن دعویٰ کے حق میں مزید معلومات فراہم نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک اور شخص کو فیس بک پر نفرت آمیز مواد ڈالنے کی بنیاد پر گرفتار کیا۔

پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ’زیر حراست شخص سوشل میڈیا پر دہشت گردی کے پھیلاؤ اور اس کی تبلیغ میں ملوث پایا گیا‘۔

پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک مصری شخص کو زائد المیعاد ویزا اور پاسپورٹ کی وجہ سے گرفتار کیا جو گزشتہ 7 سے مقامی اسکول میں عربی کی تعلیم دے رہا تھا۔

مزیدپڑھیں: سری لنکن حکومت کے اندرونی اختلاف سے کیا مراد؟

انہوں نے بتایا کہ ’اسکول دارالحکومت سے محض 70 کلومیٹر کی مسافت پر قائم ہے‘۔

علاوہ ازیں پولیس نے مزید بتایا کئی پاکستانیوں سمیت درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا جو زائد المعیاد ویزا کے باوجود رہائش پذیر تھے۔

خیال رہے کہ صدر میتھری پالا سری سینا مختلف مذاہب کے نمائندوں سے آج ملاقات کریں گے تاکہ ملک کو فرقہ واریت سے بچایا جا سکے۔

تقریباً سوا دو کروڑ آبادی پر مشتمل سری لنکا میں عیسائی، مسلمان اور ہندو اقلیت میں موجود ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی قسم کی فرقہ واریت کا خطرہ پیدا نہیں ہوا لیکن بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد مسلمانوں کی بڑی تعداد سری لنکا کے مغربی ساحلی علاقے نیگومبو منتقل ہو گئی۔

عیسائی برادری کے ممکنہ پرتشدد ردعمل کے پیش بدھ کو سیکڑوں پاکستانی ساحلی شہر پہنچ گئے جہاں مقامی مسلمان رہنماؤں نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے بسوں کا انتظام کیا تھا۔

ایک پاکستانی عدنان علی نے رائٹرز کو بتایا کہ بم دھماکوں کے سبب مقامی سری لنکن افراد نے ہمارے گھروں پر حملہ کیا۔

سری لنکن حکام کا ماننا ہے کہ ایسٹر کے موقعے پر ہونے والے حملے 15مارچ کو نیوزی لینڈ میں کیے حملے کا بدلہ ہو سکتے ہیں جس میں ایک سفید فار انتہاپسند مسلح شخص نے دو مساجد میں فائرنگ کر کے 50 نمازیوں کو شہید کردیا تھا۔

تاہم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا تھا کہ انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو سری لنکن حکام کے دعوے کی حقیقت ثابت کر سکے۔

ادھر پاکستان نے سری لنکا میں حراست میں لیے گئے پاکستانیوں کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی غیرذمے دارانہ رپورٹنگ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے دعوے کو مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی توحید جماعت اتنی منظم کیسے ہوگئی؟

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیاکہ بھارتی میڈیا کے ایک حلقے کی جانب سے پاکستانیوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعے کو حالیہ واقعات سے جوڑنا انتہائی غیرذمے دارانہ فعل ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ سری لنکن حکام نے جو معلومات شیئر کی ہیں ان کے مطابق 7پاکستانیوں کو ویزا ختم ہونے کے باوجود سری لنکا میں رہائش اختیار کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔