بھارتی انتخابات، بی جے پی کا مغربی بنگال میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2019

ای میل

پولنگ کے دوران بی جے پی اور ترینامول کانگریس کے  کارکنان کے درمیان تصادم  ہوا — فوٹو: این ڈی ٹی وی
پولنگ کے دوران بی جے پی اور ترینامول کانگریس کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا — فوٹو: این ڈی ٹی وی

بھارت میں لوک سبھا ( ایوانِ زیریں) کے 17ویں انتخابات کے چوتھے مرحلے میں پولنگ کے دوران بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) اور ترینامول کانگریس کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوگیا۔

اس کے ساتھ ہی پولنگ کے بعد بی جے پی نے مغربی بنگال کے بعض حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کر دیا۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کے شہر آسنسول میں پولنگ کے دوران بی جے پی اور ترینامول کانگریس کے درمیان تصادم کے بعد پولیس کی جانب سے مشتعل افراد پر لاٹھی چارج کیا گیا۔

پولنگ کے دوران تصادم کے باعث کارکنان نے بی جے پی ایم پی اور آسنسول کی نشست سے پارٹی امیدوار بابل سپریو کی گاڑی کی بھی توڑ پھوڑ کی۔

مزید پڑھیں: بھارتی انتخابات کا چوتھا مرحلہ: 9 ریاستوں کی 72 نشستوں پر پولنگ

ایشین نیوز انٹرنیشنل سے بات کرتے ہوئے بابل سپریو نے کہا کہ ’میں بذات خود اپنے ہمراہ سینٹرل فورسز کو پولنگ اسٹیشن لے کر جاؤں گا، یہ بہت اچھا ہے کہ مغربی بنگال میں لوگ اس بات سے آگاہ ہیں اور مرکزی فورسز چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں، اسی لیے ممتا بینرجی بھی خوف زدہ ہیں‘۔

آسنسول کے پولنگ اسٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ووٹرز نے شکایت کی تھی کہ وہاں سینٹرل فورسز تعینات نہیں کی گئیں اور انہیں اپنی جان کا خدشہ ہے۔

بعد ازاں ووٹرز کے درمیان جموا گاؤں میں قائم پولنگ مختلف بوتھ میں تلخ کلامی ہوئی اور یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ سینٹرل فورسز کو گزشتہ شب تعینات کیا گیا تھا لیکن صبح میں انہیں ریاستی فورسز سے تبدیل کردیا گیا۔

اسکرول ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ترینامول کانگریس کے کارکنان نے پارٹی رہنما سسجیت مکھرجی کی سربراہی میں جموا گاؤں پہنچ کر ان پر ڈنڈوں سے حملہ کیا جس کے بعد پولیس نے پہنچ کر مشتعل افراد پر لاٹھی چارج کیا۔

دوسری جانب آسنسول کی نشست سے ترینامول کانگریس کی امیدوار مون مون سین نے دعویٰ کیا کہ وہ حلقے میں ہونے والے جھگڑے سے لاعلم تھیں کیونکہ وہ صبح دیر سے جاگی تھیں۔

اس کے ساتھ ہی مختلف علاقوں سے شکایات بھی موصول ہوئیں سابق یونین منسٹر جتن پرسادا کا کہنا تھا کہ ان کی بہن اتر پردیش میں دھرہارا کی نشسست پر ووٹ دینے میں ناکام رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’جب میری بہن پولنگ بوتھ گئیں تو ان کے نام پر نشان لگا ہوا تھا اور پریزائیڈنگ آفیسر نے بتایا کہ ان کا ووٹ کاسٹ ہوچکا ہے، اسی طرح جعلی ووٹنگ ہوتی ہے۔

نیوز 18 کی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے الیکشن کمیشن سے چھاپرا میں کرشن نگر کے حلقے میں، چک دہا میں رانا گھاٹ حلقے میں، بارا بانی، آسنسول، آسنسول حلقے میں پندویشر اور بربھوم کے تمام پولنگ بوتھ پر دوبارہ انتخاب کروائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ: مودی کے حلقے سمیت 117 نشستوں پر ووٹنگ

دوسری جانب بیجو جناتا دال جماعت نے اوڑیسہ میں چیف الیکٹورل آفیسر کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈوں نے جے پور پارلیمانی حلقے کے 12 بوتھ پر پولنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔

ترینامول کانگریس نے الیکشن کمیشن کو بربھوم کے علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ فائرنگ کی شکایت کی۔

ٹی ایم سی نے اپنے خط میں لکھا کہ ’سینٹرل فورسز نے ووٹرز کے دماغ میں دہشت گردی کا خوف پیدا کردیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہیں بی جے پی کو ووٹ دینے پر زور دیا ہے‘۔

مغربی بنگال کے علاقے سیرام پور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے الزام عائد کیا کہ ’ ٹی ایم سی کے غنڈے لوگوں کو ووٹنگ سے روک رہے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ بی جے پی کے رہنماؤں کو مہم نہیں چلانے دے رہے ‘۔

خیال رہے کہ 29 اپریل کو بھارتی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 9 ریاستوں کی 72 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔

بھارتی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں جن ریاستوں میں 12 کروڑ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا گیا ان میں بہار کی 5 نشستیں، مہاراشٹر کی 17 نشستیں، راجستھان کی 13 نشستیں، اترپردیش کی 13 نشستیں، اوڈیسا کی 6 نشستیں، مدھیا پردیش کی 6 نشستیں، مغربی بنگال کی 8، جھارکھنڈ کی 3 اور بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی ایک نشست شامل ہے۔

خیال رہے کہ 11 اپریل سے شروع ہونے والے بھارت کے 17ویں عام انتخابات 7 مراحل میں ہورہے ہیں، جو 19 مئی تک جاری رہیں گے جبکہ 23 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

ان عام انتخابات میں بھارت میں مجموعی طور پر 89 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔