شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کردیا، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 06 مئ 2019

ای میل

شبر زیدی سینیئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور سابق صوبائی وزیر ہیں — فوٹو بشکریہ یوٹیوب/اسکرین شاٹ
شبر زیدی سینیئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور سابق صوبائی وزیر ہیں — فوٹو بشکریہ یوٹیوب/اسکرین شاٹ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ شبر زیدی کو چیئرمین فیڈرل بورڈ بیورو (ایف بی آر) تعینات کردیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نیا بلدیاتی نظام پوری دنیا کے نظام کے مطالعے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں کونسل کے الیکشن براہ راست ہوں گے اور 22 ہزار دیہاتوں میں کونسلز کو 40 ارب روپے کا فنڈ براہ راست دیا جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پنچایت کے لیے بھی بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور نئے نظام میں یونین کونسل کا نظام ختم کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر اپنے عہدوں سے فارغ

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ترقیاتی فنڈز کا 30 فیصد بلدیات کو جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس نظام کے تحت فنڈ براہ راست گاؤں تک جاتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی جبکہ اس نظام کو خیبرپختونخوا میں آزمایا جاچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرانے نظام کے تحت یوسی ارکان ضلع ناظم کو بلیک میل کرتے تھے، دنیا میں کہیں بھی ارکان پارلیمنٹ کو فنڈز نہیں دیئے جاتے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں تحصیل ناظم کا انتخاب براہ راست ہوگا جبکہ بڑے شہروں میں میئر براہ راست منتخب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اضلاع بڑے ہوگئے ہیں، اب ہم نے تحصیل کی سطح تک یونٹ بنا دیئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے تحت 2 سطح پر انتخاب ہوگا، نئے نظام میں تمام فنڈز عوام پر خرچ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بوسیدہ نظام کی وجہ سے شہر کھنڈرات بنتے جارہے ہیں اور پرانے نظام کے تحت مقامی سطح پر زیادہ کرپشن ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’اسد عمر کو ہٹانے کے پیچھے سیاسی وجوہات تھیں‘

انہوں نے کہا کہ کراچی سال میں صرف دو کروڑ 10 لاکھ ڈالر اکٹھے کرتا ہے، کراچی کی حالت دیکھیں، وہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی، پرانے نظام کے تحت مقامی سطح پر زیادہ کرپشن ہوتی تھی، ضلع جتنا بڑا ہوگا اس کا انتظام چلانا اتنا ہی مشکل ہوگا۔

وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو بتایا کہ شہروں میں توسیع سے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے.

انہوں نے واضح کیا کہ صدارتی نظام کی بات ہماری جانب سے نہیں ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ صدارتی نظام سے متعلق بات کہاں سے آرہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے کہا تھا کہ پہلا سال مشکل گزرے گا۔

شبر زیدی کون ہیں؟

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور سابق نگراں صوبائی وزیر شبر زیدی کو وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کو چیئرمین تعینات کرنے کا اعلان کے بعد ان کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن آنا باقی ہے۔

شبر زیدی پاکستان کی معروف آڈٹ فرم اے ایف فرگسن اینڈ کمپنی کے سینیئر شراکت دار ہیں جو پرائس واٹر ہاؤس اینڈ کوپرز کا رکن ادارہ ہے۔

انہوں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں جن میں ’پاناما لیکس: اے بلیسنگ ان ڈسگائس آفشور ایسٹس آف پاکستانی سٹیزن، اے جرنی فور کلیریٹی اینڈ پاکستان: ناٹ اے فیلڈ اسٹیٹ‘ شامل ہیں۔

انہیں پاکستان کے ٹیکس قوانین اور مالی حکمت عملی کے لیے پالیسی امور، کارپوریٹ ریگولیشنز اور غیر ملکی زر مبادلہ کے امور میں مہارت حاصل ہے اور انہوں نے ان امور پر کئی مرتبہ لکھا بھی ہے۔

2015 میں ڈان میں شائع ہونے والے ان کے ایک آرٹیکل میں ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیکسز رہائش اختیار کرنے کی قیمت ہوتی ہے، ریونیو کے موثر نظام کے بغیر نہ کوئی ریاست ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی قانون اور ریونیو ٹیکس حکام کے دروازوں پر چل کر نہیں آتا، اسے حاصل کرنا پڑتا ہے پینالٹی کی مد میں‘۔

وزارت خزانہ میں ذرائع جو اس پیش رفت کے حوالے سے معلومات رکھتے ہیں، کا کہنا تھا کہ سابق ایف بی آر چیئرمین کو وزیر اعظم عمران خان خاص نہیں سمجھتے تھے اور ان کی تعیناتی کے بعد سے ریونیو کی کارکردگی میں کمی پر بھی ان ہی کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا تھا۔

خیال رہے کہ ایف بی آر رواں مالی سال کے اختتام پر تاریخ کے سب سے بڑے شارٹ فال کا سامنا کرسکتا ہے جو اندازے کے مطابق 350 ارب روپے کا ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں تعینات ہونے والے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سابق ایف بی آر چیئرمین کی کارکردگی پر وزیر اعظم سے متفق ہیں۔