پاکستان کا 2022 تک خلاء میں پہلا مشن بھجوانے کا اعلان

25 اکتوبر 2018

ای میل

پاکستان پہلا شخص چینی تعاون سے خلاء میں بھیجے گا—فائل فوٹو: فیس بک
پاکستان پہلا شخص چینی تعاون سے خلاء میں بھیجے گا—فائل فوٹو: فیس بک

وفاقی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خلائی پروگرام کے تحت پہلا پاکستانی آئندہ 4 سالوں کے اندر خلاء میں بھیجا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت نے پہلے پاکستانی خلاباز کو خلاء میں بھیجنے کی منظوری دے دی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ پہلا پاکستانی شخص فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنے والے چینی ادارے ‘چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی‘ (سی ایم ایس اے) کے تعاون سے خلاء میں جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اس حوالے سے ‘سی ایم ایس اے‘ اور فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنے والے پاکستانی ادارے ‘سپارکو‘ کے درمیان معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ 2 سیٹلائٹس خلاء میں بھیج دیں

وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کام کو پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیکنالوجی اور اسپیس پروگرام کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے وفاقی کابینا کے اجلاس میں ہونے والے دیگر فیصلوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے رواں برس جولائی میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے 2 سیٹلائٹس کو بھی پہلی بار خلاء میں بھیجا تھا۔

جولائی میں پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پی آر ایس ایس) ون اور پاکستان ٹیکنالوجی ایوالیوشن سیٹلائٹ (پاک ٹیس ون اے) نامی سیٹلائٹس کو خلاء میں بھیجا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت 2022 تک پہلا انسان بردار خلائی مشن بھیجنے کا خواہشمند

ان سیٹلائٹس سے پاکستان کو زمین کی نقشہ سازی، زراعت کی درجہ بندی اور تشخیص سمیت شہری اور دیہی منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی، قدرتی آفات کے انتظام سنبھالنے، ملک کی سماجی-اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے اور پانی کے وسائل کے انتظام سے متعلق مدد ملے گی۔

پاکستان نے اپنا پہلا خلاباز ایک ایسے وقت میں خلاء میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ بھارت بھی اپنا پہلا خلابار بھیجنا کا ارادہ رکھتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بھارت بھی 2022 تک پہلا شخص خلا میں بھیجے گا۔