ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے،اسرائیلی وزیراعظم

اپ ڈیٹ 08 مئ 2019

ای میل

ہم یورپی ممالک ہر صورت میں جوہری معاہدہ قائم رکھنا چاہتے ہیں، فرانس — فوٹو: اےا یف پی
ہم یورپی ممالک ہر صورت میں جوہری معاہدہ قائم رکھنا چاہتے ہیں، فرانس — فوٹو: اےا یف پی

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کا عہد کر لیا۔

خیال رہے کہ ایران نے دھکمی دی ہے کہ اگر تجارتی استثنیٰ میں امریکا نے توسیع نہیں دی تو وہ 2015 کے جوہری معاہدے کی تمام تمام شرائط کو پس پشت ڈال کر یورینیم کی آفزودگی شروع کردے گا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق تل ابیب میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’آج جب میں تقریب میں شرکت کے لیے راستے میں تھا تو مجھے مطلع کیا گیا کہ ایران، اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

روس

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ کے باعث ایران کو جوہری معاہدے سے دستبردار کرنے پر مجبور کیا گیا۔

کریملن کے ترجمان ڈیمرٹرے پیسکوف نے صحافیوں کو کہا کہ ’صدر ولادی میر پیوٹن نے متعدد مرتبہ ایران کے لیے بغیر سوچے سمجھے اقدام کے نتیجے میں سامنے آنے والے نتائج کی نشاندہی کی تھی اور اب نتائج بتدریج منظر عام پر آنا شروع ہو گئے‘۔

چین

اس ضمن میں چین نے بھی امریکا پر الزام عائد کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کی وجہ سے سیاسی بحران پیدا ہوا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شاینگ نے کہا کہ ’ایران جوہری معاہدے پر عمل پیرا رہا جو کہ قابل ستائش ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چین معاہدے کے فریق ممالک سے کشیدگی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: عالمی پابندیوں کا خطرہ، ایران کا جوہری معاہدے پر مزید لچک پیدا کرنے کا فیصلہ

برطانیہ

برطانیہ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے دوبارہ جوہری ہتھیار کے حصول کی کوشش کی تو نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کی ترجمان نے کہا کہ ’ایران کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات ہیں اور اس پر زور دیتے ہیں کہ وہ معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے‘۔

فرانس

فرانس کے وزیر دفاع نے ایرانی دھمکی پر شدید خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر جوہری معاہدے سے دستبرداری کی گئی تو اقتصادی پابندیوں کا سوال پیدا ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم یورپی ممالک ہر صورت میں جوہری معاہدہ قائم رکھنا چاہتے ہیں‘۔

جرمنی

جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے ترجمان اسٹیفن سیبفرڈ نے کہا کہ ’برلن کی خواہش ہے کہ جوہری معاہدہ اپنے اصل حالت میں قائم رکھے‘.

انہوں نے کہا کہ ’ہم یورپی اور بطور جرمن اپنا کردار ادا کریں گے اور ہم ایران سے معاہدے پر عملدرآمد چاہتے ہیں‘۔