گوادر: 'ہوٹل میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل، نیوی اہلکار سمیت 5 شہید'

اپ ڈیٹ 12 مئ 2019

ای میل

ایس ایچ او گوادر کے مطابق حملے کے وقت ہوٹل میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں تھا — فوٹو: اے ایف پی
ایس ایچ او گوادر کے مطابق حملے کے وقت ہوٹل میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں تھا — فوٹو: اے ایف پی

صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل ’پرل کانٹیننٹل‘ پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں نیوی کا ایک اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈز شہید جبکہ 6 افراد زخمی ہوگئے تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور سیکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس تھے، جنہوں نے پہلے مرکزی گیٹ پر موجود سیکیورٹی گارڈ کو فائرنگ کرکے قتل کیا، پھر ہوٹل میں داخل ہوئے اور وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنالیا۔

دریں اثنا ہوٹل کی سیکیورٹی پر مامور گارڈز کی جانب سے مزاحمت دیکھنے میں آئی اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں مزید 2 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے 4 سیکیورٹی گارڈز میں سے 2 کی شناخت رشید اور ظہور کے نام سے ہوئی ہے۔

اس کے علاہ انور، علی رضا اور جاوید نامی افراد کے ساتھ ساتھ ایک نامعلوم شخص زخمی بھی ہوا، جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

دہشتگرد مہمانوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کی جانب سے آج (اتوار کو) جاری بیان کے مطابق ہوٹل کا سرچ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے تنیوں دہشت گردوں کو شناخت کے لیے لاشوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔

پاک فوج کا کہنا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں میں فوج کے 2 کیپٹن، 2 نیوی اہلکار اور ہوٹل کے 2 ملازمین شامل ہیں۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کا مقصد ہوٹل میں موجود مہمانوں کو یرغمال بنانا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے نیوی کے اہلکار کی شناخت عباس خان کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنے پر تمام میڈیا کے کردار کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ لائیو اپ ڈیٹ کی وجہ سے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور آپریشن میں رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔

ہفتے کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 4 دہشت گردوں نے زبردستی پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، ہوٹل کے مرکزی گیٹ پر گارڈ نے دہشت گردوں کو روکا تو انہوں نے فائرنگ کرکے گارڈ کو شہید کردیا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ فورسز نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر اندر موجود افراد کو باحفاظت باہر نکال لیا، دہشت گردوں کی ہوٹل کی بالائی منزل پر جانے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

ہوٹل میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں، پولیس

واقعے کے دوران ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایچ او گوادر اسلم بنگلزئی کا کہنا تھا کہ 'ہمیں 4 بج کر 50 منٹ پر یہ اطلاع ملی کہ 3 سے 4 دہشت گرد پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں داخل ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے'۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’اس وقت نجی ہوٹل میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں تھا‘۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے بتایا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں ایف سی، پولیس اور لیویز فورس نے حصہ لیا جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہوٹل میں موجود کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔

انہوں نے ہوٹل میں موجود اسٹاف کی تعداد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا جبکہ یہ کہا تھا کہ ریسکیو کیے گئے افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق

پولیس کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے آپریشن میں نیول کمانڈوز اور تھرٹی ون بریگیڈ بھی شامل تھی جبکہ اس دوران پاک بحریہ کا ہیلی کاپٹر عمارت کا فضائی جائزہ لیتا رہا۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ نے بھی ہوٹل میں کسی غیر ملکی کے موجود نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ '2 سے 3 حملہ آروں نے پہلے فائرنگ کی اور پھر ہوٹل کے اندر داخل ہوئے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں پاک فوج کو طلب کیا گیا جبکہ ہوٹل سے لوگوں کا انخلا 95 فیصد مکمل ہوگیا اور صرف ہوٹل کا عملہ اندر موجود تھا'۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں حملہ آور سمندر کے راستے کشتی کے ذریعے ہوٹل میں حملے کے لیے آئے تھے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گوادر کے ہوٹل میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہوٹل میں موجود تمام افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دہشت گردوں کے خلاف بہترین حکمت عملی کے ساتھ پوری قوت سے کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

چین کا اظہار مذمت

چین نے گوادر میں ہوٹل پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاک-فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دلیرانہ کارروائی قابل تحسین ہے۔

ترجمان چینی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ پاک-فوج اور سیکیورٹی اداروں کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہیں اور حملے میں شہید سیکیورٹی گارڈ کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

گوادر میں پرل کانٹیننٹل ہوٹل مغربی خلیج کے جنوب میں فِش ہاربر روڈ پر کوہ باطل پہاڑی پر واقع ہے جبکہ ہوٹل میں اکثر کاروباری افراد اور سیر و تفریح کے غرض سے گوادر آنے والے افراد قیام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ حملہ 8 اپریل کو گوادر میں اورماڑہ کے قریب پاک-بحریہ، فضائیہ اور کوسٹ گارڈ کے 14 اہلکاروں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد کیا گیا۔

آئی جی بلوچستان محسن حسن بٹ نے بتایا تھا کہ بزی ٹاپ کے علاقے میں رات 12.30 سے ایک بجے کے درمیان تقریباً 15 سے 20 مسلح افراد نے کراچی سے گوادر آنے اور جانے والی متعدد بسوں کو روک کر اس میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر قتل کردیا۔

ابتدا میں شہید ہونے والے مسافروں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی تاہم بعد ازاں حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا تمام شہید افراد کا تعلق سیکیورٹی اداروں سے تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں 2 دھماکے، سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی

چین، دیگر ممالک سے روابط بڑھانے اور تجارتی مقاصد کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر گوادر کی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے، اس مقصد کے لیے وہ 2015 میں پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے نام سے سامنے آنے والے میگا منصوبے کے تحت پاکستان میں تقریباً 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کررہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت چین کے دور دراز مغربی صوبے سنکیانگ کو بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سے جوڑا جائے گا جبکہ اس میں انفرااسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘، افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

گزشتہ برس بھی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں حملوں کی تعداد 99 رہی، جس کے نتیجے میں 354 افراد جاں بحق ہوئے اور زخمیوں کی کثیر تعداد یعنی 570 رہی، اس طرح ملک میں ہونے والے مجموعی حملوں میں سے 61 فیصد حملے بلوچستان میں ہوئے جبکہ اموات کی تعداد پورے ملک کے مقابلے میں 59 فیصد رہی۔