ایران اتنا عظیم ہے کہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوسکتا، ایرانی صدر

اپ ڈیٹ 14 مئ 2019

ای میل

حسن روحانی نے رمضان المبارک کے حوالے سے سنی علما سے ملاقات کی — فائل فوٹو/ڈان
حسن روحانی نے رمضان المبارک کے حوالے سے سنی علما سے ملاقات کی — فائل فوٹو/ڈان

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اتنا عظیم ہے کہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوسکتا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی صدر نے رمضان کے مہینے میں سنی مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کی۔

ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اللہ کے حکم سے یہ مشکل وقت عزت و وقار کے ساتھ گزار لیں گے اور ہمارے سر اونچے رہیں گے جبکہ ہمارے دشمنوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

مزید پڑھیں: ایران پر امریکی پابندیاں ‘معاشی دہشت گردی’ ہے، حسن روحانی

انہوں نے یہ بات متحدہ عرب امارات کے ساحل پر 2 سعودی تیل بردار جہازوں سمیت 4 جہازوں پر ہونے والے حملے کے بعد کی۔

ایران نے معاملے پر تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’پریشان کن‘ سانحہ قرار دیا تھا۔

واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ منسوخ کیے جانے کے بعد تہران پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئی تھیں، تاہم ایران کو معاہدے کے دو نکات پر تجارتی استثنیٰ حاصل تھا۔

اسی دوران امریکا نے ایران کی پاسداران انقلاب کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'یو اے ای میں تخریب کاری کا نشانہ بننے والے 2 جہاز سعودی عرب کے ہیں'

بعد ازاں امریکا نے تجارتی استثنیٰ میں توسیع سے بھی انکار کردیا۔

ادھر ایران نے تجارتی استثنیٰ نہ ملنے پر معاہدے کے فریقین ممالک کو 2 ماہ کی مہلت دی تھی کہ اگر وہ جوہری معاہدے سے متعلق تنازع حل کرنے میں ناکام ہوئے تو یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔

یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کی پاسداری جاری رکھے۔

چند روز قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے پر تنازع حل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’مذاکرات کے لیے ایران پہل کرے‘۔

بعد ازاں متحدہ عرب امارات میں جہاز رانی پر تخریب کاری کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

واقعے سے قبل کہ امریکا کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ 'ایران یا ان کے پروکسیز' خطے میں جہاز رانی سے متعلق ٹریفک کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے ایران پر نئی معاشی پابندیوں کے فوری بعد مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار جہاز اور بی 52 بمبار طیارے تعینات کیے تھے۔