رواں برس سندھ میں پولیو کے تیسرے کیس کی تصدیق

اپ ڈیٹ 17 مئ 2019

ای میل

پولیو کا کیس کراچی سے رپورٹ ہوا، 6 ماہ کے بچے کے والدین ویکسین پلانے پر آمادہ نہیں تھے، رپورٹ — فائل فوٹو/ اے پی
پولیو کا کیس کراچی سے رپورٹ ہوا، 6 ماہ کے بچے کے والدین ویکسین پلانے پر آمادہ نہیں تھے، رپورٹ — فائل فوٹو/ اے پی

کراچی : رواں برس صوبہ سندھ میں پولیو کا تیسرا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد ملک میں پولیو کے شکار مریضوں کی تعداد 17 ہوگئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے محکمہ صحت کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ انہیں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد سے رپورٹس موصول ہوئیں جس میں ایک اور بچے میں پولیو کی تصدیق کی گئی۔

عہدیداران کا کہنا ہے کہ 6 ماہ کے بچے کے اہلِ خانہ انسداد پولیو کی گزشتہ مہم میں ویکسین پلانے سے انکار کرتے رہے تھے۔

سندھ میں ایمرجنسی آپریشنز سینٹر( ای او سی) فار پولیو کے عہدیدار نے کہا کہ ' بچہ یونین کونسل -12 گلشن اقبال میں اپنے اہلِ خانہ کے شدید انکار کی وجہ سے پولیو کا شکار ہوا۔

مزید پڑھیں: رواں ہفتے میں پولیو کے تیسرے کیس کی تصدیق، تعداد 11 تک پہنچ گئی

انہوں نے کہا کہ ویکسین کے خلاف غلط معلومات اور قطرے پلانے سے انکار ملک میں پولیو کے ایک اور کیس کی وجہ بنا۔

عہدیدار نے کہا کہ ' ویکسینیشن کے خلاف پروپیگںڈا کی وجہ سے گمراہی پیدا ہورہی ہے اور والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی گمراہ کن اطلاعات کا شکار نہ ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرکے والدین اپنے اور دوسرے لوگوں کو بچوں کو پولیو کا شکار ہونے کے خطرات میں مبتلا کررہے ہیں۔

ای او سی حکام نے بچے کے والد، دادی اور چچا کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بچے کو 28اپریل سے معمولی بخار تھا۔

بچے کو گلبرگ میں واقع نجی ہسپتال لے جایا گیا، بخار کے ایک روز بعد بچے کے دونوں ٹانگیں کمزور ہوگئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 10 ہوگئی

ابتدائی تشخیص کے بعد بچے کے اسٹول سیمپل اسلام آباد بھیجے تھے جس میں پولیو کی تصدیق ہوئی۔

اب تک رواں برس سندھ میں پولیو کے 3 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 2 کراچی اور ایک لاڑکانہ سے رپورٹ ہوئے، ملک میں اس وقت پولیو کے کیسز کی تعداد 17 ہے۔

پنجاب میں 3 کیسز لاہور، 6 خیبرپختونخوا اور دیگر 5 قبائلی اضلاع سے رپورٹ ہوئے۔

ای او سی سندھ کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ ' اسی لیے ہم بار آگاہی پھیلا کر لوگوں سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ ہر مرتبہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں، قطرے پلانے سے انکار نہیں کریں اور اپنے بچوں کا مستقبل خطرے میں نہ ڈالیں۔