ایران 'یقیناً' یو اے ای میں تیل بردار جہاز پر حملوں میں ملوث ہے، مشیر ٹرمپ

اپ ڈیٹ 30 مئ 2019

ای میل

امریکا کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن یو اے ای میں موجود ہیں — فائل فوٹو/رائٹرز
امریکا کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن یو اے ای میں موجود ہیں — فائل فوٹو/رائٹرز

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ خلیجی کشیدگی میں اضافہ کرنے والے آئل ٹینکر حملے میں ایران 'یقیناً' ملوث ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق تہران نے ان کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔

نئی لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے حریف سعودی عرب کی جانب سے عرب اور خلیجی ممالک کی کانفرنس بلائی گئی ہے، تاکہ تہران کو تنہا کرنے کے لیے اقدامات پر بحث کی جاسکے۔

اس سے قبل امریکا کی جانب سے بحری بیڑے، بی 52 بمبار اور 1500 سے زائد فوجی خطے میں تعینات کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ڈرون حملہ

متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے دورے کے دوران جان بولٹن کا کہنا تھا کہ اضافی امریکی فورسز کو مشرق وسطیٰ بھیج دیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل پر 12 مئی کو 2 سعودی آئل ٹینکروں سمیت 4 جہازوں پر نیول مائنز کے ذریعے تخریب کاری کی گئی تھی، جو 'یقیناً' ایرانی ساختہ تھے۔

انہوں نے ایران کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'واشنگٹن میں کسی کو بھی اس بات پر شک نہیں کہ حملے کا ذمہ دار کون تھا'۔

یہ بھی پڑھیں: 'یو اے ای میں تخریب کاری کا نشانہ بننے والے 2 جہاز سعودی عرب کے ہیں'

تاہم جان بولٹن نے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کرنے سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'معاملے کی باریکی میں نہیں جاؤں گا، یہ چیزیں جہازوں کے مالک اور ملوث ممالک اپنی مرضی سے جاری کریں گے مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ ایرانی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جان لیں کہ ہمیں معلوم ہے'۔

ایران کی تردید

ایران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا تھا کہ 'امریکا کی جانب سے اس طرح کے مضحکہ خیز دعوے کوئی نئی بات نہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں اسلحہ ڈپو پر حوثیوں کا ڈرون حملہ

ان کا کہنا تھا کہ 'جان بولٹن اور تشدد پسند افراد اور کشیدگی کے متلاشیوں کو جان لینا چاہیے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور آئندہ بھی خطے میں ان کی کشیدگی کی گھناؤنی خواہشات کو پورا ہونے سے روکے گا'۔

واضح ر ہے کہ حملوں کی تحقیقات کرنے والی 5 ممالک کی ٹیم میں امریکی ماہرین بھی شامل ہیں۔

حملوں کے 2 روز بعد یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل کی پائپ لائن پر بھی 2 ڈرون سے حملے کیے تھے۔