آرمی چیف نے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور سول افسر کو سزائے موت کی توثیق کردی

اپ ڈیٹ 30 مئ 2019

ای میل

تینوں ملزمان کو غیرملکی ایجنسیوں کوحساس معلومات فراہم کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سزائیں سنائی گئی تھیں۔ — فائل فوٹو/ڈان
تینوں ملزمان کو غیرملکی ایجنسیوں کوحساس معلومات فراہم کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سزائیں سنائی گئی تھیں۔ — فائل فوٹو/ڈان

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2 سابق فوجی افسران اور ایک سول افسر کی سزاؤں کی توثیق کردی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سزا پانے والے افسران میں بریگیڈیئر (ر) راجا رضوان اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اور سول افسر ڈاکٹر وسیم اکرم شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بریگیڈیئر (ر) راجا رضوان کو سزائے موت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ سول افسر ڈاکٹر وسیم اکرم کو بھی سزائے موت کی توثیق کی گئی۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف کی 22 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق

آئی ایس پی آر کے مطابق تینوں مجرمان کو غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کرنے پر پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے میجر جنرل آصف غفور کا ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں وہ دو فوجی افسران کی گرفتاری اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی تصدیق کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'دونوں افسران بغاوت کے مقدمات میں فوج کی کسٹڈی میں موجود ہیں، آرمی چیف نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے احکامات جاری کیے ہیں جن پر کارروائی ہورہی ہے'۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ دونوں علیحدہ کیسز ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، اور اس طرح کا کوئی نیٹ ورک بھی موجود نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں، کورٹ مارشل کا عمل جب مکمل ہوجائے گا تو میں آپ سے اس کے نتائج شیئر کروں گا'۔