بریتھویٹ کی شاندار سنچری بھی ویسٹ انڈیز کو شکست سے بچا نہ سکی

اپ ڈیٹ 23 جون 2019

ای میل

بریتھویٹ نے 101 رنز کی اننگز کھیلی—فوٹو:اے ایف پی
بریتھویٹ نے 101 رنز کی اننگز کھیلی—فوٹو:اے ایف پی
کین ولیمسن نے 148 رنز کی اننگز کھیلی—فوٹو:اے ایف پی
کین ولیمسن نے 148 رنز کی اننگز کھیلی—فوٹو:اے ایف پی
کوٹریل نے پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں حاصل کیں—فوٹو:رائٹرز
کوٹریل نے پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں حاصل کیں—فوٹو:رائٹرز

ورلڈ کپ 2019 کے ایک اہم میچ میں ویسٹ انڈیز کے کارلوس بریتھویٹ نے شان دار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری بنائی تاہم اختتامی لمحات میں نیوزی لینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ صرف 5 رنز سے جیت لیا۔

مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر کوٹریل نے پہلے اوور میں شان دار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں اوپنرز مارٹن گپٹل اور کولن منرو کو آؤٹ کرکے نیوزی لینڈ کو بڑے نقصان سے دوچار کردیا۔

اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان ولیمسن اور تجربہ کار بلے باز روس ٹیلر نے ٹیم کو مشکل سے نکالتے ہوئے شراکت میں ٹیم کی نصف سنچری مکمل کی اور 160 رنز کی اس شان دار شراکت کے دوران نیوزی لینڈ کا اسکور 167 رنز تک پہنچ گیا۔

روس ٹیلر نے کپتان ولیمسن کے ہمرا ہ اپنی نصف سنچری مکمل کی لیکن 69 رنز بنا کر کرس گیل کی گیند پر آؤٹ ہوگئے جس کے بعد کوٹریل نے ویسٹ انڈیز کو ایک اور کامیابی دلائی، اس مرتبہ لیتھام کو 210 کے اسکور پر آؤٹ کیا۔

ولیمسن نے نہ اپنی ذمہ دارانہ اننگز کی بدولت نہ صرف ٹیم کو مشکل سے نکالا بلکہ اپنی سنچری بھی مکمل کی جو رواں ورلڈ کپ میں ان کی دوسری سنچری ہے۔

کیوی کپتان ٹیم کو 47 ویں اوور میں 251 رنز تک پہنچایا اور 148 رنز کی بہترین اننگز کھیلنے کے بعد آوٹ ہو کر واپس چلے گئے۔

جمی نیشام اور گرینڈ ہوم نے برق رفتاری سے رنز بناتے ہوئے ٹیم کے اسکور کو مزید آگے بڑھایا اور بالترتیب 28 اور 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس کے بعد آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز سینٹنر تھے جو 5 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔

نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 291 رنز بنا کر ویسٹ انڈیز کو ایک اچھا ہدف دے دیا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کاٹریل نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، بریتھویٹ نے2 اور کرس گیل نے بھی ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔

ویسٹ انڈیز نے ہدف کا تعاقب سست روی شروع کیا اور اوپنر شے ہوپ صرف 3 رنز پر پویلین لوٹ گئے تاہم تجربہ کار کرس گیل رواں ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ فارم میں نظر آئے اور اپنے روایتی انداز میں بیٹنگ کی لیکن دوسرے اینڈ سے دیگر بلے باز ان کا بھرپور ساتھ دینے میں ناکام ہوئے۔

نیکولس پوران آؤٹ ہونے والے دوسرے بلے باز تھے جو 20 کے اسکور پر صرف ایک رن بنا کر گرینڈ ہوم کی وکٹ بنے تاہم ہٹمیئر نے نصف سنچری بناتے ہوئے کرس گیل کا ساتھ دیا اور اسکور کو 142 رنز تک پہنچایا، اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز ہدف کو باآسانی حاصل کر لے گی۔

ہٹمیئر 54 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو ویسٹ انڈیز کے دیگر بلے باز ریت دیوار ثابت ہوئے، کپتان جیسن ہولڈر صفر پر آوٹ ہوئے جس کے بعد کرس گیل 10 رنز کا اضافہ کرکے گرینڈ ڈی ہوم کی گیند پر آوٹ ہوئے، گیل نے 8 چوکوں اور 6 چھکوں کی مدد سے 87 رنز بنائے۔

کرس گیل کے بعد ایشلے نرس ایک رن اور لیوس صفر پر آوٹ ہوگئے تاہم کیماروچ نے 14 اور کوٹریل نے 15 رنز بنا کر کارلوس بریتھویٹ کا بھرپور ساتھ دیا تاہم 245 کے اسکور پر ویسٹ انڈیز کی 9 وکٹیں گر چکی تھیں۔

کارلوس بریتھویٹ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے تن تنہا ویسٹ انڈیز کی نیا پار لگانے کی شان دار کوشش کی لیکن 49 ویں اوور کی آخری گیند پر اونچا شاٹ کھیل کر میچ جیتنے کی کوشش میں باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

بریتھویٹ نے 9 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 101 رنز کی اننگز کھیلی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم 49 اوورز میں 286 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور میچ صرف 5 رنز سے ہار گئی۔

نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، فرگوسن نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو 148 رنز کی بہترین اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں، تجربہ کار بلے باز ڈیرن براوو اور فاسٹ باؤلر شینن گیبریل کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ آندرے رسل کو گھٹنے کی انجری کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

حتمی ٹیم میں کیماروچ، کارلوس بریتھویٹ اور اسپنر ایشلے نرس کو شامل کیا گیا تھا۔

نیوزی لینڈ نے گزشتہ میچ کی فاتح ٹیم کو برقرار رکھا جس نے گزشتہ میچ میں مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود جنوبی افریقہ کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی تھی۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

نیوزی لینڈ: کین ولیمسن (کپتان)، مارٹن گپٹل، ٹام لیتھام، جمی نیشام، کولن ڈی گرینڈ ہوم، مچل سینٹنر، میٹ ہنری، لوکی فرگوسن، ٹرینٹ بولٹ

ویسٹ انڈیز: جیسن ہولڈر (کپتان)، کرس گیل، ایون لیوس، شے ہوپ، نیکولس پوران، شمرن ہٹمیئر، کارلوس بریتھویٹ، ایشلے نرس، کیماروچ، شیلڈن کوٹریل، اوشانے تھامس