نیا پاکستان سینسرڈ پاکستان ہے، جو ہمیں منظور نہیں، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 24 جون 2019

ای میل

حکومت نیا پاکستان واپس لے اور قائد کا پاکستان ہمیں واپس دے، بلاول بھٹو
— فوٹو: ڈان نیوز
حکومت نیا پاکستان واپس لے اور قائد کا پاکستان ہمیں واپس دے، بلاول بھٹو — فوٹو: ڈان نیوز

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیا پاکستان سینسرڈ پاکستان ہے جو ہمیں منظور نہیں ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی تمام پالیسیوں پر نظر ثانی کرے، عوام دشمن بجٹ واپس لے، نیا پاکستان واپس لے اور قائد کا پاکستان ہمیں واپس دے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکرقومی اسمبلی سے محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ تمام اپوزیشن اراکین ایوان میں زیربحث بجٹ پر حصہ لے سکیں اور ووٹ بھی دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ کل تک جب اپوزیشن کو تمام اراکین کی ضرورت ہوگی، آپ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کردیں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں کیے گئے تو یہی الزامات عائد کیے جائیں گے کہ یہ بجٹ کو دھاندلی زدہ کرنے کی کوشش ہے۔

اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ انہوں نے وزارت قانون سے رائے مانگی ہے، جس پر بلاول بھٹو نے جواب دیا کہ اسپیکر کو وزارت قانون کی رائے کی ضرورت نہیں اور وہ کسی بھی رکن کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرسکتے ہیں۔

اسد قیصر نے بلاول بھٹو کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں گے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے فنڈز مختص نہیں کیے گئے اور خبردار کیا کہ ان کی جماعت حکومت کو بی آئی ایس پی ختم نہیں کرنے دے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ایوان پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، پاکستانی عوام نے ہمیشہ آمروں کو روک کر جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پارلیمنٹ کا تقدس جانتے ہیں، کچھ ارکان اسمبلی کوپارلیمنٹ کےتقدس کاعلم نہیں، پارلیمنٹ میں معاشی مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کی تنقید برداشت نہیں کرسکتے، اگر حکومت، اپوزیشن کرے گی اور اپوزیشن بھی اپوزیشن کرے گی تو حکمرانی کون کرے گا۔

مزید پڑھیں: آصف علی زرداری کا عمران خان کو مستعفی ہو کر گھر جانے کامشورہ

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں آزادی ہی نہیں ہے، نہ عوام آزاد ہیں نہ ہی سیاست آزاد ہے، سینسرشپ اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مائیک بند کردیے جاتے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اراکین کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنا بھی سینسرشپ ہوتا ہے۔

'سلیکٹڈ غیر پارلیمانی لفظ نہیں'

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ میری غیر موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی میں ’سلیکٹڈ ‘ لفظ کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، یہ انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں منتخب کیا گیا، یہ کوئی غیر پارلیمانی لفظ نہیں لیکن آپ کی مرضی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی انا کی وجہ سے قومی اسمبلی میں میرے لفظ پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن یہ تاریخی سینسرشپ ہے، یہ کس قسم کی آزادی ہے کہ اراکین قومی اسمبلی، پارلیمنٹ کے فلور پر آزاد نہیں ہیں اور بول نہیں سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کا اختیار ہے کسی بھی لفظ کو حذف کرسکتے ہیں لیکن حکومت کا کوئی لفظ حذف نہیں کیا جاتا، کسی لفظ پر پابندی عائد نہیں کی جاتی، اپوزیشن کے ہر دوسرے لفظ کو حذف کرنا بھی سینسر شپ ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جہاں تک سلیکٹڈ لفظ کی بات ہے تو پھر عمران خان نے دھاندلی کے لیے کمیشن کیوں بنایا تھا، کیوں بار بار کہتے ہیں کہ جو بھی حلقہ کھولنا چاہتے ہیں کھول دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پہلے دن میں نے اسی ایوان میں تقریر کی تو اس پر وزیراعظم نے ڈیسک بجایا اور ایک سال بعد اسی لفظ پر پابندی عائد کردی جاتی ہے یہ بہت عجیب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم 'میثاق معیشت' پر کمیٹی بنانے کیلئے آمادہ ہوگئے،اسد قیصر کا دعویٰ

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ قائداعظم نے ہمیں آزاد ملک بنا کر دیا تھا تاکہ ہم کسی کے غلام نہ ہو، قائد عوام نے ہمیں جمہوریت اس لیے دی تھی تاکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی تاکہ ہم کسی آمر کے غلام نہ بنیں تو آج ہم کیسے مان لیں کہ ہم کسی بھی کٹھ پتلی کا غلام بنیں، یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔

'سینسرڈ پاکستان'

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان، سینسرڈ پاکستان ہے، جو ہمارے لیے نامنظور ہے، جو بھی سمجھتا ہے کہ سنسر شپ سے ماحول بہتر ہوگا تو میں انہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ آپ صرف آگ پر مزید تیل ڈال رہے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ یہ فرسٹریشن سامنے آئے گی جس کے صرف منفی نتائج پیدا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینسرڈ پاکستان مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ ایک آزاد پاکستان اس کا حل ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وفاق نے سندھ کے ہسپتال لینے تھے تو بجٹ میں کچھ پیسے بھی رکھتے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ صرف صوبائی مختاری داؤ پر لگائی گئی ہے بلکہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ملکی معیشت داؤ پر لگادی گئی ہے۔

پی پی پی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان ہوگا لیکن ہم نے دیکھا کہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں، پی ٹی آئی ایم ایف کا بجٹ امیر کو ریلیف دیتا ہے اور غریب پر بوجھ ڈالتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ غریب کے لیے ٹیکسز کا طوفان، مہنگائی کی سونامی اور بے روزگاری جبکہ چور اور ڈاکوؤں کے لیے ایمنسٹی اسکیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ آج بھی ہم معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں تو امیروں کو ایمنسٹی اسکیم دیتے ہیں اور اپنے کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کا معاشی قتل کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور پرویز مشرف کی حکومت میں صرف وردی کا فرق ہے، آصف زرداری

بلاول بھٹو نے کہا کہ سادگی کے نام پر گاڑیان نیلام کی گئیں لیکن وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر کا بجٹ بڑھانا منافقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو غریب عوام کا کوئی احساس نہیں، ایک کروڑ نوکریوں کاوعدہ کرکے بجٹ میں ایک نوکری نہیں دی گئی، 50لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا لیکن لوگوں سے روزگار چھین لیا گیا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ کہتے تھے کہ جب وزیراعظم سچا ہوگا، ہینڈسم ہوگا تو پھر ٹیکسز خود بخود آجائیں گے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوجائے گا لیکن نہ زر مبادلہ نے اپنا ہدف پورا کیا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 50 فیصد کمی آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں پر عوام کا زیادہ اعتماد تھا، وہ زیادہ سچے تھے، زیادہ ایمان دار اور ہینڈسم تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مفت میں آپ صوبوں کے معاشی حقوق کو مارنا چاہتے ہیں، اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، این ایف سی ایوارڈ بھی نہیں دے رہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تجاوزات کے نام پر ان بے چاروں کا کام تڑوایا جارہا ہے جنہوں نے بہت مشکل سے خود کو غربت سے نکالا ہے، وہ چھوٹے تاجر، دکان دار ، ریڑھی والا جس کا کاروبار بلانوٹس ایک رات میں تباہ کردیا جاتا ہے، ان کا اور ان کے خاندان کا اسی وقت معاشی قتل ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے ملک میں ہزاروں کاروباری افراد کے ساتھ ایسا ہوگا تو معیشت کو نقصان ہوگا، غریب جائے تو کہاں جائے وہ نہ تو حکومت کے پاس جاسکتا ہے اور نہ ہی عدالت کے سامنے جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دوغلی پالیسی ہے، دو نہیں ایک پاکستان کی حالت دیکھیں کہ غریب کی جھونپڑی حرام اور بنی گالہ کی تجاوزات حلال ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ خوف اور عدم استحکام کسی بھی معیشت کی موت ہوتی ہیں، نیب گردی سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب گردی اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، ہرکوئی جانتا ہے کہ اس ملک میں کوئی بزنس مین اور بیوروکریٹ کام کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ کیوں کام کریں جب ملک میں 20 کروڑ آبادی میں سے صرف 2 فیصد ٹیکس فائلرز ہیں تو آپ کیسے باقی 19 کروڑ 80 لاکھ پاکستانیوں کو چور، ڈاکو، لٹیرے اور ٹیکس چور قرار دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو خوف زدہ کرکے ٹیکس اکٹھا نہیں کیا جاسکتا ، خوف سے معیشت نہیں چل سکتی، جس کے اکاؤنٹ میں 5لاکھ روپے ہیں اب اسےحساب دیناہوگا، یہ ظلم کی انتہا ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ حکومت اپنی دوغلی پالیسی بند کرے، عوام دشمن بجٹ واپس لے، کیسے پچھلے 10 سال کے قرضے کا رونا روتے ہیں جب ایک سال میں 5 ہزار ارب قرضہ لیا گیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی رفتار تو پاکستان مسلم لیگ(ن) سے بھی زیادہ تیز ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کو دنیا کی بدترین دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑا، 2 سیلاب آئے تھے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہم نے ہر دن 5 ارب روپے کا قرضہ لیا ن لیگ نے ہر دن 7 ارب روپے کا قرضہ لیا لیکن موجودہ حکومت نے ہر دن 15 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'عام آدمی پریشان ہے زرداری صاحب پکڑے جاسکتے ہیں تو اُس کا کیا ہوگا؟'

انہوں نے کہا کہ حکومت کس منہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے حساب مانگ رہی ہے پہلے خود حساب دے کہ یہ پیسہ کہاں خرچ کیا گیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمارے جمہوری، انسانی، معاشی حقوق سلب کرنے کے بعد اب ہمارے پارلیمانی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ غیرآئینی طور پر قرضے کی تحقیقات سے متعلق کمیشن کیوں بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ایوان کے اراکین سے قومی احتساب بیورو ( نیب)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری ایجنس (ایم آئی) سوالات کرے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ ادارے، ایوان کو جواب دہ ہیں، ایوان کسی ادارے کو جواب دہ نہیں ہے‘۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ کے فیصلوں پر نظرثانی کی خواہش رکھتی ہے تو اس کے لیے مناسب فورم فنانس کمیٹی اورپبلک اکاؤنٹس کمیٹی موجود ہے یا ہم کوئی نئی کمیٹی قائم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوغلا نظام نہیں چلے گا یہ کیسےہوسکتا ہے کہ امیروں کے لیے ریلیف ہو اور غریبوں کے لیے بوجھ، مسلم لیگ (ن) کی آف شور کمپنی حرام اور پی ٹی آئی یا عمران خان کی آف شور کمپنی ہو تو وہ حلال ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نےکہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ الطاف حسین کو غیرملکی فنڈنگ دی جائے تو وہ حرام ہے اور پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈز ملے تو حلال ہے، ہمارے پارٹی کے دوستوں کے بےنامی اکاؤنٹس حرام اور پی ٹی آئی کے پارٹی کے دوستوں کے بے نامی اکاؤنٹس حلال ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آخر تحریک انصاف کی حکومت میں تھوڑا تو انصاف ہونا چاہیے ، ہر ادارے پر دباؤ ہے، عدلیہ کے عزت دار ججوں کے خلاف ریفرنسز، وزیراعظم کے دفتر سے نیب کے چیئرمین کے خلاف سازش چلتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو انصاف کرنا پڑے گا، جمہوریت کے راستے پر چلنا پڑے گا، انسانی حقوق کوتحفظ دینا پڑے گا، معاشی حقوق واپس دینے ہوں گے ورنہ آپ کو گھر جانا ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم عوام دشمن بجٹ برداشت نہیں کرسکتے، عوام کا معاشی قتل برداشت نہیں کرسکتے، اپنے ہی ملک کی معاشی خودکشی نہیں دیکھ سکتے، ہم پاکستان کے عوام کو اس نئے پاکستان کے عذاب سے بچائیں گے اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

پیپلزپارٹی نے این آر او کیلئے امریکا کے پاؤں پکڑے، مراد سعید

قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے مراد سعید نے انگریزی میں تقریر کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ بلاول بھٹو نے جس زبان میں بات کی وہ عوام نہیں سمجھ سکے۔

مراد سعید نے کہا کہ جمہوری حکومت عوام کی خدمت کے لیے آئی ہے اور جمہوریت میں حکمران نہیں ہوا کرتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے کہا کہ امیروں کے لیے الگ اور غریبوں کے لیے الگ پاکستان ہے، یہ واحد بات ہے جس سے میں اتفاق کرتا ہوں کیونکہ پروڈکشن آرڈرز سے امیر پارلیمنٹ میں آرہے ہیں اور غریب جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرف اور جنرل ضیا کا ذکر کیا لیکن ایوب خان کو بھول گئے، انہوں نے ایوان میں کونڈو لیزا رائس کی کتاب دکھائی۔

مراد سعید نے کہا کہ پیپلزپارٹی این آر او کے لیے صرف مشرف نہیں بلکہ امریکا اور کونڈو لیزا کے بھی پاؤں پڑی، کتاب میں لکھا ہے کہ جب این آر او کا وقت آیا تو ان کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نےکہا کہ ان پر ان کی جماعت اور ان کےشوہر آصف زرداری پر کیسز، کرپشن، منی لانڈرنگ کے جو الزامات ہیں وہ ختم کروا دیں۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران پھر ہنگامہ آرائی، اجلاس کل تک ملتوی

وزیر مواصلات نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ کیا تیسری مرتبہ وزیراعظم بن سکتی ہوں اور کیا مشرف، انتخابات سے قبل ان کی وطن واپسی کی حمایت کریں گے، کونڈالیزارائس کی کتاب میں مشرف دور کے این آر او کی کہانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ڈیل اکتوبر میں ہوئی تھی اور 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو واپس آئی تھیں۔

مراد سعید نے اوباماز وار کتاب دکھاتے ہوئے کہا کہ جب ڈیل کی اور جھک چکے تو انہیں امریکا کی بات ماننی پڑی۔

وفاقی وزیر نےکہا کہ آصف زرداری نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے ملاقاتیں کی، جن میں حسین حقانی بھی شامل تھے اور آج وہ امریکا میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف آگ اگل رہا ہے، اسی دوران وکی لیکس بھی آیا تھا۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ آصف زرداری نے امریکی سفیر سے کہا کہ آپ ڈرون گراتے جائیں، ہم تشویش کر کے سوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ وزیرستان و دیگر قبائلی علاقوں کےحق میں بات کرتے رہے، ہم نے لانگ مارچ کی، دھرنا دیا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ یہ بار بار جب سلیکٹڈ کہتے ہیں تو دراصل یہ خود ایسے آئے تھے۔

مراد سعید نے کہا کہ بلاول کہتے ہیں کہ میں معصوم تھا مجھے کیا پتہ زرداری صاحب کہتے ہیں جعلی اکاؤنٹس سے میرا تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی: اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، ڈٹ کر مخالفت کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان آج بھی اپنے خرچ پر اپنے گھرمیں رہتے ہیں، عمران خان آج بھی اپنے اخراجات خود اٹھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے گھر کی طرف جو سڑک جاتی ہے وہ انہوں نے اپنے پیسوں سے بنوائی،ان کی سیکیورٹی کے اوپر جو خرچہ ہوا وہ پارٹی فنڈ سے ادا کیا وہ سرکار کے پیسے سے ادا نہیں ہوا۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی وزیراعظم نے عمران خان کو پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والا میچ دیکھنے کے لیے دعوت دی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں قوم کا پیسہ اور وقت برباد نہیں کرسکتا۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ مریم نواز اپنے والد سےمتعلق کہتی ہیں کہ وہ تنخواہ نہیں لیتے تھے، 5 سال میں نواز شریف اور خاندان کی سیکیورٹی پر 200 کروڑ خرچ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو 24 ہزار ارب کا حساب دینا ہوگا، مسلم لیگ (ن) نےموٹروے کےمتعدد سیکشن قرضوں کے عوض گروی رکھے، نوازشریف نے اپنے دور میں 110کروڑ روپے کے سرکاری دورے کیے۔

مزید پڑھیں: بجٹ کےخلاف حکومتی اتحادی جماعتوں سے رابطوں کیلئے اپوزیشن کی کمیٹی تشکیل

مراد سعید نے کہا کہ شہبازشریف نےقومی خزانے کے 130کروڑ روپے سے اپنے لیے ہیلی کاپٹرخریدا۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ سندھ میں غذائی قلت سے ہزاروں بچوں کی اموات ہوئیں، پانی نہ ملنے کی وجہ سے اموات ہورہی ہیں اس کا جواب دہ کون ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ کےعوام پرپیسہ لگنے کے بجائے جعلی اکاؤنٹس میں جارہا ہے ہم سب ارکان پارلیمنٹ عوام کی عدالت کے سامنےجواب دہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی کےکرپٹ حکمرانوں کوغریب عوام کےمسائل کا ادراک نہیں، اپوزیشن کو احساس تو تب ہو کہ ملکی ہسپتالوں سےعلاج کرایا ہو۔

مالی سال 20-2019 کا بجٹ حکومت کی تھرڈ کلاس کارکردگی ظاہر کرتا ہے، مریم اورنگ زیب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگ زیب نے وزیراعطم عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کےحکومت کا پیش کردہ بجٹ اس کی ’تھرڈ کلاس کارکردگی‘ ظاہر کرتا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ ان سے کیے گئے وعدے عوام بھول جائیں گے لیکن عوام کو سب یاد ہے۔

ان کا کہنا تھا پہلے خطاب میں وزیراعظم نے بچوں کے ذہنوں کی نشوونما دکھاتے ہوئے 2 تصاویر دکھائی تھیں لیکن بجٹ میں اس نشونما کے لیے کہاں پیسہ رکھا گیا، 2011 سے ایک ہی بات سن رہے کہ ہسپتال بنایا اور 1992 کا ورلڈکپ جیتا لیکن آج میں ہسپتال بنانے والوں سے پوچھتی ہوں صحت کا بجٹ کم کیوں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان 'میثاق معیشت' پر خود رابطہ کریں، اپوزیشن

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اپنے بیانیے کے مطابق کرکٹ ٹیم اس لیے ہار رہی کہ حکمران چور ہیں، میں بتادینا چاہتی ہوں کہ 1992 کا ورلڈ کپ بھی پوری ٹیم کی مشترکہ کاوش تھی اور ہسپتال بھی پوری قوم نے مل کر بنایا تھا جس کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نے زمین دی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کامیابیوں کو ذاتیات تک محدود رکھنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ذاتیات سے باالاتر نہیں ہوتے چنانچہ ان کی 'میں' کی گردان، ہم میں تبدیل نہیں ہوسکی۔

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ کنٹینر پر چڑھ کر وعدے کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کے کیے گئے وعدے عوام بھول جائیں گے لیکن عوام کو سب یاد ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت ، اپوزیشن میثاق معیشت پر دستخط کریں، وفاقی وزیر منصوبہ بندی

وزیراعظم کے ماضی میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا، میں اس معیشت کو مرغی، بھینسوں اور انڈوں سے دنیا کی بہترین معیشت بناؤں گا، گورنر ہاؤس کی دیواروں کو گرا کر میوزیم بناؤں گا، وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا، گاڑیوں اور بھینسوں کو بیچ کر حکومت کا خزانہ بھروں گا، یہ خواب بیچنے والے آج ڈرائیور بن گئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنی تیزی سے گزشتہ 10 ماہ میں معیشت کو تباہ کیا گیا ہے اس کے کچھ خدوخال یہ ہیں کہ ڈیم فنڈ کی بات ہوئی، جس کی تشہیر پر اتنی رقم خرچ ہوگئی جتنی خود اس میں جمع نہ ہوسکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 10 ماہ میں ملکی قرضی 5 ہزار ارب روپے تک جاپہنچا جو ریکارڈ ہے، مہنگائی کی شرح کو 3 فیصد سے 12 فیصد تک پہنچا دیا، ترقی کی شرح 5.8 فیصد سے کم ہوکر 3 فیصد ہوگئی، پیٹرول کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ، بجلی کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ، گیس کی قیمت میں 143 روپے اضافہ، حکومتی بجٹ خسارے میں 28 فیصد اضافہ، ٹیکس ریونیو میں 1500 ارب کا اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 5 ہزار ارب قرض لیا مگر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی، احسن اقبال

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ روٹی 11 روپے سے 25 روپے کی ہوگئی ہے، کہا گیا تھا اتنی نوکریاں ملیں گی کہ باہر سے لوگ آئیں گے لیکن 10 ماہ میں جتنی معیشت سکڑ گئی ہے اس میں پاکستان کا نوجوان ڈگریاں لے کر خودکشی پر آمادہ ہے۔

لیکن نوکریاں ملیں تو کراچی میں بیٹھےہوئے کو اسلام آباد میں نوکری ملی، ہارے ہوئے امیدواروں کو نوکری ملی اور نوکری ملی تو بنی گالہ کے حلقہ یاراں کو نوکری ملی۔

قانون سے کوئی بالاتر نہیں، شہریار آفریدی

دوسری جانب وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج مغربی ممالک مسلمانوں کو انسانوں کے حقوق کے سبق پڑھاتے ہیں جبکہ تاریخ نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب مسلمانوں کا دور ایسا تھا کہ جانور بھی کسی دوسرے جانور کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج تمام تر ترقی مغرب میں ہورہی ہے لیکن مسلمان انتہائی شان دار ماضی ہونے کے باوجود آج غیروں پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔

اپنی تقریر میں اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ اپنے لیڈرز سے پوچھیں کے ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔

مزید پڑھیں: لفظ 'سلیکٹڈ' پر قومی اسمبلی میں پابندی، زرداری کا اراکین سے مشاورت کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیوں اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں عمران خان نے ایک ایک روپے کا حساب دیا آپ کیوں نہیں دے سکتے؟

وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں نہ ہی کابینہ کا کوئی رکن نہ ہی عمران خان، آج کوئی سندھی کارڈ تو کوئی پنجابی کارڈ استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا مقصد انسان کو عزت دینا ہے، ان شا اللہ نیا پاکستان حقیقت بنے گا اور عمران خان اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔