ٹرمپ کی دعوت، آئندہ ماہ عمران خان کا دورہ امریکا متوقع

اپ ڈیٹ 29 جون 2019

ای میل

دونوں ممالک کی حکومتیں رواں برس جنوری سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے حوالے سے کوششیں کررہی ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی
دونوں ممالک کی حکومتیں رواں برس جنوری سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے حوالے سے کوششیں کررہی ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر آئندہ ماہ کے آغاز میں امریکا کا دورہ کریں گے، تاہم ابھی تک دونوں ممالک دورے کی تاریخ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ جب ایک سینئر عہدیدار سے 20 جولائی کو وزیراعظم عمران خان کے متوقع دورہ واشنگٹن کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ’حتمی نہیں ممکنہ طور پر‘ ہے۔

قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جعمرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم کو جون میں مدعو کیا تھا لیکن وہ بجٹ سیشن کے باعث اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکے‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا جلد پاکستانی قیادت سے ملاقات کا عندیہ

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں رہنما ’خطے کے اہم معاملات‘پر گفتگو کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں معاونت فراہم کی ہے جس کا ساتواں دور آج (ہفتے) کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوگا۔

تاہم اب امریکا چاہتا ہے کہ اسلام آباد، طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ بات چیت پر راضی کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

واضح رہے کہ طالبان افغان حکومت کو ’کٹھ پتلی‘ حکومت قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات نئے پاکستانی سفیر کی پہلی ترجیح

اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے بھوربن میں بین الافغان مذاکرات کی میزبانی کی تھی جسے عسکریت پسندوں کی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا پہلا قدم قرار دیا جارہا تھا۔

باوجود اس کے کہ اس اجلاس میں کابل کے نمائندے شریک تھے، طالبان نے اس میں شرکت کرنے سے گریز کیا تھا۔

دوسری جانب گزشتہ دنوں قبل افغان صدر اشرف غنی نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا تھا تا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے معاونت حاصل کی جاسکے۔

ادھر واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کا کہنا تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوششیں امریکی حکومت کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کی جارہی ہیں کہ اسلام آباد، افغانستان کا بحران حل کروانے کی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو پناہ دینے کے الزامات، ٹرمپ پاکستانی قیادت سے ملاقات کے خواہاں

چنانچہ ’واشنگٹن کو لگتا ہے کہ اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے ایک دورے سے اسلام آباد کو افغان مفاہمتی عمل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا حوصلہ ملے گا‘۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں رواں برس جنوری سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے حوالے سے کوششیں کررہی ہیں جبکہ امریکی صدر نے پاکستانی قیادت سے ملاقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’بہت جلد‘۔

دوسری جانب امریکا اور پاکستان میں موجود سفارتی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم پاکستان کا امریکا کا دورہ متوقع ہے تاہم انہوں نے اس کی تاریخ کے بارے میں متضاد معلومات دیں۔

**