ہانگ کانگ میں مظاہرین کا پارلیمنٹ پر قبضہ

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2019

ای میل

مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ کیا — فوٹو:رائٹرز
مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ کیا — فوٹو:رائٹرز

ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کی 22ویں سالگرہ کے موقع پر مظاہرین نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا۔

خیال رہے کہ مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ بل کے خلاف ہانگ کانگ میں 3 ہفتوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

گزشتہ رات ماسک اور پیلی ٹوپی پہنے نوجوان پولیس سے جھڑپ کے دوران پارلیمنٹ میں گھس آئے جہاں انہوں نے عمارت میں توڑ پھوڑ کی اور اس کی دیواروں پر حکومت مخالف نعرے لکھے۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ میں مظاہرے، چیف ایگزیکٹو نے عوام سے معافی مانگ لی

پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے عمارت کو گھیرے میں لے کر اس کے مختلف راستوں سے اندر گھسنے کی کوشش کی، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج بھی کیا جس کی وجہ سے مظاہرین منتشر ہوگئے۔

مظاہرین کی جانب سے پارلیمنٹ میں برطانوی جھنڈا لہرایا گیا جبکہ دیواروں پر 'ہانگ کانگ، چین نہیں ہے' لکھا گیا تھا۔

اس سے قبل مظاہرین نے بیجنگ کے حمایت یافتہ حکمرانوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

احتجاجی مظاہرے میں شامل 26 سالہ جوئے کا کہنا تھا کہ 'ہم نے مارچ کیے، دھرنے دیے مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی، ہمیں اب دکھانا ہوگا کہ ایسا نہیں کہ ہم صرف بیٹھ کر کچھ نہیں کرتے'۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ: کئی روز کے احتجاج کےبعد ملزمان کی حوالگی کا متنازع قانون معطل

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں معلوم ہے کہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے'۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں مجرمان کی حوالگی سے متعلق پیش کیے گئے قانون کے تحت نیم خود مختار ہانگ کانگ اور چین سمیت خطے کے دیگر علاقوں میں کیس کی مناسبت سے مفرور ملزمان کو حوالے کرنے کے معاہدے کیے جائیں گے۔

مذکورہ قانون کی مخالفت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ بِل چینی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ بیجنگ اس قانون کو سماجی کارکنان، ناقدین اور دیگر سیاسی مخالفین کی چین حوالگی کے لیے استعمال کرے گا۔

دوسری جانب قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے ہانگ کانگ کو مفرور ملزمان کی پناہ گاہ بنانے سے بچایا جاسکے گا۔