افسانہ: ڈولی، خواہش اور شیطان

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2019

ای میل

میں ایک شریف آدمی ہوں۔ کم از کم میرے بیوی بچے، باقی رشتے دار اور میرے جاننے والے مجھے شریف ہی سمجھتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھتا ہوں اور کام دھندے میں لگ جاتا ہوں۔ شام کو یا رات گئے واپس لوٹتا ہوں اور پھر تھک ہار کر سو جاتا ہوں۔ بہت ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر کہیں سیر پر نکل جاتا ہوں۔ والدین کا ادب کرتا ہوں اور ان کا خیال رکھتا ہوں۔ خیرات زكوٰة بھی باقاعدگی سے دیتا ہوں۔ اب بھلا شریف آدمی کس کو کہتے ہیں؟

لیکن یہ سب وہ ہے جو لوگ میرے بارے میں جانتے ہیں۔ میں اپنے بارے میں کچھ مزید بھی جانتا ہوں۔ مثال کے طور پر یہ کہ میری واحد کمزوری ڈولی ہے۔ یہ ڈولی کون ہے؟ اب یہ میں آپ کو کیسے بتاؤں؟

ڈولی دشمنِ جان ہے اور زہرِ قاتل ہے لیکن اس کی چاہ میری رگ رگ میں نشہ بن کر دوڑتی ہے۔ دس بیس دن تو گزر ہی جاتے ہیں کسی نا کسی طرح لیکن پھر جسم ٹوٹنے لگتا ہے۔ ہر چہرے میں ڈولی نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر اس کی کال آجاتی ہے اور میں بے اختیار ہو کر گاڑی باہر نکالتا ہوں اور اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں۔ پانچ، چھ گھنٹے اس کی مہکتی قربت میں گزرتے ہیں تو دل کو قرار آتا ہے۔

میں ایک شریف آدمی ہوں لیکن ڈولی کے معاملے میں میری ساری شرافت طاق پر دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ شیطان ایسا بہکاتا ہے کہ پھر نا کردار اور شرافت یاد رہتی ہے اور نا بیوی بچے اور ان کے سامنے میری نام نہاد شرافت کا کھڑا اونچا بت، صرف ڈولی اعصاب پر سوار ہوتی ہے۔


وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا۔ آسمان پر سویرے سے ہی گہرے کالے بادلوں نے ڈیرا ڈال رکھا تھا۔ پھر دوپہر تک تیز بارش بھی شروع ہوگئی۔ اب اس ظالم موسم میں ڈولی کا فون نا آتا تو اور کس کا آتا؟ اُدھر ڈولی نے حکم صادر کیا اور اِدھر ڈولی کے غلام نے گاڑی نکالی اور اس کے پاس پہنچ گیا۔

پہلے کی طرح پانچ، چھ گھنٹے اس کی قربت میں سب کچھ بھول کر گزرے۔ لیکن جب واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھا تو اپنی دنیا میں ایک جھٹکے کے ساتھ واپس آگیا۔


ماڈل ٹاؤن سے باہر فیروزپور روڈ پر نکلتے نکلتے میرے دل میں پچھتاوے کی ٹھنڈی آگ خوب اچھی طرح بھڑک چکی تھی۔ ضمیر نے گن گن کر ایسے کچوکے لگائے کہ میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ توبہ کرنے کا بھی سوچا لیکن پھر خیال آیا کہ کیا فائدہ؟ پندرہ، بیس دن گزریں گے، ڈولی پھر پیار سے بلائے گی، شیطان پھر بہکائے گا اور میں پھر اپنا گناہ ہمیشہ کی طرح دوہرا دوں گا۔


کلمہ چوک کے سگنل پر گاڑی کچھ دیر کو کھڑی کی تو اچانک ایک عجیب و غریب بابے نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اچک کر اگلی سیٹ پر میرے برابر بیٹھ گیا۔

'ارے! ارے! کیا کر رہے ہو؟ کون ہو تم؟' میں نے بوکھلا کر پوچھا۔

مجھے پورا یقین تھا کہ وہ کوئی راہزن تھا اور میرے موبائل اور بٹوے اور شاید گاڑی پر بھی ہاتھ صاف کرنا چاہتا تھا۔ اب میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ کب پستول نکالتا ہے اور اپنی ڈیمانڈ میرے سامنے رکھتا ہے۔

مگر ویسا کچھ نہیں ہوا جیسا میں سوچ رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ گورا چٹا رنگ، کالا لباس اور بڑی بڑی کالی آنکھیں۔ اس کے وجود سے صندل کی خوشبو پھوٹ رہی تھی جو باوجود تیز ہونے کے، بُری نہیں محسوس ہورہی تھی۔

'گھبراؤ نہیں عبیداللہ! نا میں ڈاکو ہوں اور نا ہی کوئی مانگنے والا۔' اس نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔

'تو پھر کون ہو؟ اس طرح میری گاڑی میں بلا اجازت کیوں گھسے ہو؟ اور تمہیں میرا نام کیسے معلوم ہے؟' میں نے گھبرا کر پوچھا۔

'میں؟' اس نے میری آنکھوں میں جھانک کر کہا۔

'میں شیطان ہوں۔'

اس کے سنجیدہ انداز اور اس کی آنکھوں سے کسی بھڑکتے الاؤ کی روشنی جھلکنے پر، ایک لمحے کے لیے تو میری روح ہی کانپ گئی۔ پھر میں نے اس کے الفاظ پر غور کیا تو بے اختیار ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔

'شیطان؟ تم شیطان ہو؟'

'ہاں بالکل!' اس نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ 'اسی لیے مجھے سب معلوم ہے۔ مجھے تمہارے نام کا علم ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت تم ڈولی سے مل کر آ رہے ہو اور تمہاری روح اور ضمیر ندامت کے بھاری بوجھ تلے دبے ہیں۔'

'اس کے ذمے دار بھی تم ہو۔ نا تم مجھے بہکاتے اور نا میں ڈولی کے پاس جاتا۔' ظاہر ہے کہ مجھے اس کی بات کا یقین نہیں آیا تھا لیکن بات جاری رکھنے کے علاوہ اس وقت اور کچھ میری سمجھ میں نہیں آیا۔

'میں نے تمہیں نہیں بہکایا۔ میں کبھی کسی کو نہیں بہکاتا۔ تمہیں تمہاری خواہش مجبور کرتی ہے ڈولی کے پاس جانے کے لیے۔' شیطان، بلکہ معاف کیجئے گا، بابے نے وضاحت سے کہا۔

'اور میرے دل میں خواہش کس نے ڈالی؟' میں نے پوچھا۔ 'خواہش بھی تو تم نے ہی ڈالی نا آخر؟'

'چلو ایک لمحے کے لیے مان لیا کہ میں نے ڈالی۔' اس نے سر ہلا کر کہا۔ 'مگر خواہش کے راستے پر چلنا، تمہارا اپنا فیصلہ تھا۔ تم نے فیصلہ کیا اور اب تم اس فیصلے کی قیمت، پچھتاوے کی صورت ادا کر رہے ہو۔'

'یہ سب کچھ مجھے کیوں بتا رہے ہو؟' میں نے ندامت سے سر جھکا کر پوچھا۔ کمبخت کی بات میں بہت وزن تھا۔

'اس لیے کہ جب تک تم مجھے اپنے گناہوں کا الزام دیتے رہو گے، گناہ کرتے رہو گے۔ گناہ کرنے سے بچنا ہے تو اپنی خواہشوں کو پہچانو اور ذمے داری لو اپنے فیصلوں کی۔'

'تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔' میں نے تھوڑی دیر کے بعد اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ فرنٹ سیٹ بالکل خالی پڑی تھی۔


میں اپنے تخیّل کی طاقت کو کوستا گھر پہنچا۔ گیراج میں گاڑی کھڑی کرکے ابھی اترنے ہی لگا تھا کہ بیوی باہر آگئی۔

'آج کس کو گاڑی میں لفٹ دی تھی؟' اس نے کھڑکی سے چہرہ اندر کرکے پوچھا۔

'کیوں؟' میں چونک گیا۔

'گاڑی میں سے صندل کی تیز خوشبو آ رہی ہے۔'