خواتین ارکان کانگریس سے متعلق بیان پر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا

15 جولائ 2019

ای میل

ان  خواتین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی صدر کے بیان رد  عمل دیا— فائل فوٹو/ رائٹرز
ان خواتین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی صدر کے بیان رد عمل دیا— فائل فوٹو/ رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی غیر سفید فام خواتین ارکان سے متعلق بیان پر تنقید کا سامنا ہے، جس میں انہوں نے خواتین ارکان کو ملک سے واپس جانے کا کہا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کانگریس کی رکن خواتین پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ یہ خواتین دراصل ان ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور پر نااہل اور تباہی کا شکار ہیں اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرپٹ ہیں‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’ یہ خواتین بہت چالاکی سے امریکا کے عوام جو کرہ ارض پر سب سے عظیم اور طاقتور قوم ہیں انہیں بتارہی ہیں کہ ہماری حکومت کو کیسے چلانا ہے‘۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’ یہ خواتین جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں اور ان مکمل طور پر تباہ حال اور جرائم سے متاثرہ علاقوں کو ٹھیک کرنے میں مدد کریں اور پھر واپس آکر ہمیں بتائیں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے‘۔

ٹرمپ نے اس بیان میں سفید فام نسل سے تعلق نہ رکھنے والے خواتین پر تنقید کرتے ہوئے دیا جن میں نیویارک کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز،الحان عمر، مشی گن کی راشدہ طلیب اور آیانا پریسلی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘ٹرمپ نے اوباما کی ضد میں ایران سے جوہری معاہدہ منسوخ کیا‘

امریکی صدر کے بیان کو ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں اور سینئر قانون سازوں کی جانب سے نسل پرست اور غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

وہ پیدائش سے متعلق تنقیدی نظریے کے اہم حصہ تھے کہ باراک اوباما امریکی سرزمین پر پیدا نہیں ہوئے اور اس لیے قانونی طور پر وہ صدر نہیں بن سکتے۔

ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں خواتین کا نام نہیں لیا تھا لیکن بعدازاں ایک اور ٹوئٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ اسرائیل سے سچے جذبےکے ساتھ نفرت کرتی ہیں۔

جس سے ظاہر ہوا کہ امریکی صدر کا اشارہ الحان عمر اور راشدہ طلیب کی جانب تھا جو حال ہی میں یہودی ریاست سے متعلق تنازعات کا شکار ہوئیں تھیں۔

راشدہ طلیب کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی نژاد خاتون ہیں جبکہ الحان عمر بچپن میں صومالیہ سے پناہ گزین کے طور پر امریکا آئی تھیں اور وہ کانگریس میں پہلی سیاہ فام مسلمان خاتون ہیں۔

الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز نیویارک میں پیدا ہوئیں تھیں ان کا تعلق پورٹو ریکو سے ہے اور آیانا پریسلی کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی افریقی نژاد امریکی خاتون ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جولین اسانج کا خود کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار

ان چاروں خواتین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی صدر کے بیان رد عمل دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر راشدہ طلیب نے ٹوئٹ کیا کہ ’ میں ہمارے ملک میں کرپشن کے لیے لڑرہی ہوں، میں یہ ہر روز کرتی ہوں جب میں بطور امریکی کانگریس خاتون آپ کی انتظامیہ کا احتساب کرتی ہوں‘۔

الحان عمر نے ٹوئٹ کیا کہ ’ امریکی صدر سفید فام قومیت کو بڑھاوا دے رہے ہیں کیونکہ وہ برہم ہیں کہ ہم جیسے لوگ کانگریس میں ہیں اور ان کے نفرت کے ایجنڈے کے خلاف لڑرہے ہیں‘۔

آیانا پریسلی نے لکھا کہ ’ نسل پرستی ایسی ہوتی ہے اور ہم وہ ہیں جیسی جمہوریت ہوتی ہے‘۔

الیگزینڈرایا اوکاسیو-کورٹیز نے ٹوئٹ کیا کہ ٹرمپ غصہ ہیں کیونکہ وہ ایک ایسا امریکا نہیں چاہتے جس میں ہم موجود ہیں‘۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں اور دیگر رہنماؤں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی۔

سابق نائب صدر جوئے بیڈن جو 2020 میں ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں، انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’ امریکا میں نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کی کوئی جگہ نہیں‘۔

اسپیکر نینسی پیلوسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی بیانات کو مسترد کرتی وں جو قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔