چیئرمین سینیٹ کے خلاف ریکوزیشن پر اعتراضات درست نہیں، مسلم لیگ (ن)

15 جولائ 2019

ای میل

مشاہد حسین سید نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ لائحہ عمل ہوگا—فائل/فوٹو:ڈان
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ لائحہ عمل ہوگا—فائل/فوٹو:ڈان

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے اپنے ناراض اراکین کو منانے کے بعد سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی ریکوزیشن پر اٹھائے گئے اعتراضات کو غلط قرار دے دیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف ریکوزیشن کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سینیٹ سیکریٹریٹ کے ریکوزیشن کے حوالے سے اعتراضات درست نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں ایک اجلاس کی ریکوزیشن جمع کروائی ہے اور دوسری قرارداد ہے اور دونوں ریکوزیشن اور قرارداد ہم نے آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کے مطابق جمع کی ہے۔

جاوید عباسی نے کہا کہ سینٹ سیکریٹریٹ کو کوئی کنفیوژن ہوئی ہے لیکن جس دن سے ہم نے ریکوزیشن دی ہے اسی دن سے اس پر غور کیا جائے اور ہم اس حوالے سے اپنا جواب جمع کرانے جا رہے ہے۔

مزید پڑھیں:تحریک عدم اعتماد: سینیٹ سیکریٹریٹ کا اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اعتراض

انہوں نے کہا کہ ہمیں متحدہ اپوزیشن پر اعتماد ہے کہ ہماری قرارداد کامیاب ہوگی۔

مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر نے کہا کہ چئیرمین سینیٹ کی تبدیلی ایک آئینی معاملہ ہے، اس کو متنازع نہیں بنانا چاہیے اور حکومت کو اس معاملے پر مداخلت بھی نہیں کرنی چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے قیادت نے ناراض سینیٹرز کو منالیا اور سینیٹر صابر شاہ کو راضی کر کے رابطہ کمیٹی کا سربراہ بھی بنالیا۔

صابر شاہ کو منانے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے پریس کانفرنس کی اور انہیں رابطہ کمیٹی کا سربراہ بنانے کا بھیی اعلان کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا کہ چئیرمین سینیٹ سے متعلق میرا اصولی موقف تھا کہ چئیرمین سینیٹ چھوٹے صوبے سے لیا جائے اور میرا مدعا صرف خیبر پختون خوا نہیں تھا بلکہ چھوٹا صوبہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کروادی

انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے چئیرمین سینیٹ سے متعلق بہترین اقدام لیا ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ اجلاس میں چئیرمین سینیٹ پر عدم اعتماد کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر صابر شاہ کی قیادت میں 6 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو رابطہ کاری کا کام کرے گی۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ 6 سینیٹرز ملک سے باہر ہیں اور کامران مائیکل قید ناحق میں ہیں لیکن 30 سینیٹر مکمل طور پر پارٹی کو ووٹ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماضی کی طرح کا کام کررہی ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ لائحہ عمل ہوگا۔

یاد رہے کہ 9 جولائی کو سینیٹ کے اپوزیشن اراکین نے ایوان بالا میں چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ سینیٹ میں کام کے طریقہ کار کے رولز میں (چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے) کے لیے شامل رول 12 کے تحت صادق سنجرانی کو ہٹایا جائے۔

بعد ازاں سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اعتراض لگا دیا تھا۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس کے لیے 2 ریکوزیشن جمع کرائی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ قانون میں دو ریکوزیشن پر اجلاس طلب کرنے کی تشریح نہیں کی گئی ہے، لہٰذا اپوزیشن واضح کرے کہ کون سی ریکوزیشن پر اجلاس طلب کرنا ہے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق اپوزیشن کی اس وضاحت کے بعد ایوان بالا کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔