پاکستان کا کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان

19 جولائ 2019

ای میل

کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی دینے کیلئے طریقہ کا روضع کیا جارہا  ہے، ترجمان — فائل فوٹو
کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی دینے کیلئے طریقہ کا روضع کیا جارہا ہے، ترجمان — فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کر دیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے کے مطابق کمانڈر کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے پیراگراف 'ون بی' کے تحت حاصل حقوق سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بطور ذمہ دار ریاست، پاکستان کلبھوشن کو ملکی قوانین کے تحت قونصلر تک رسائی دے گا جس کے لیے طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے گزشتہ روز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔

کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبد القوی احمد یوسف نے سنایا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا عدالتی نظام کلبھوشن یادیو کیس کا جائزہ لے گا، وزیر خارجہ

جج عبدالقوی احمد یوسف نے کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ کرنے اور حوالگی کی بھارتی استدعا بھی مسترد کردی اور حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو بھی اصلی قرار دیا۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن، جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا جبکہ پاکستان نے کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا، لہٰذا پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے۔

عالمی عدالت نے پاکستان سے کلبھوشن کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: آج کا دن بھارت کیلئے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا، ڈی جی آئی ایس پی آر

عالمی عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان اب اس کیس پر قانون کے مطابق آگے بڑھے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد کمانڈر کلبھوشن پر کیس کیسے چلانا ہے اس کا اختیار پاکستان کو مل گیا ہے اور پاکستان کا عدالتی نظام کلبھوشن یادیو کیس کا جائزہ لے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے ردعمل میں کہا کہ 'آج کا دن بھارت کے لیے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا، عالمی عدالت میں بھارت کے جھوٹے بیانیے کی شکست ہوئی اور اسے کلبھوشن فیصلے کی شکل میں آج بھی بڑا سرپرائز ملا۔'

ان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت نے نظرثانی کا معاملہ پاکستان پر چھوڑ دیا ہے، قانون کے مطابق کلبھوشن سے متعلق حکومت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے جبکہ آرمی چیف کا کہنا ہے قانون کےمطابق ہی فیصلہ ہوگا۔