’مسلح تنظیموں کے خلاف پالیسی تبدیل کردی‘

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2019

ای میل

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ گورنر ہاؤس سندھ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں — فوٹو/اے پی پی
وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ گورنر ہاؤس سندھ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں — فوٹو/اے پی پی

وفاقی وزیر داخلہ بریگڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ مسلح تنظیموں کے خلاف پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے اور اس کا سہرا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو جاتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے گورنر ہاﺅس سندھ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب وزیر اعظم نہیں تھے تو انہوں نے بارہا یہ بات کہی تھی کہ ملک میں کوئی جہادی گروپس نہیں ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عمران خان نے واضح کردیا تھا کہ وہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے جن میں 'مسلح تنظیمیں' بھی شامل تھیں۔

قبل ازیں وزیر داخلہ نے گورنر سندھ عمران اسمعیٰل کے ہمراہ کراچی میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز، سندھ پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی)، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان رینجرز (سندھ) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی تھی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی بہتری آئی ہے جس کی ذمہ دار قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کو احتجاج کرنے کا حق ہے مگر اس کے احتجاج سے دوسرے شخص کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے کیونکہ ملک کی بقا کے لیے قانون کی بالادستی ناگزیر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ سیاسی انتقامی کارروائی نہیں ہو رہی ہے، کرپشن کے خلاف نیب کی کارروائی ملکی قوانین کے مطابق ہے، وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنے عزم میں پختہ ہیں اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ کراچی کے حالیہ دورے کا مقصد صوبے اور اس کے دارالحکومت میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے وہ مطمئن ہیں، تاہم اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پولیس کے محکمہ کو غیر سیاسی بنانے کے لیے بھی مخلص ہے جبکہ ملک میں اسمگلنگ کے خلاف آپریشن کو فول پروف بنایا جا رہا ہے تاکہ مقامی صنعتوں کو فعال بنا کر ملک کو معاشی مسائل سے نکالا جا سکے۔