برطانوی لڑکی کے قتل کے جرم میں بھارتی شہری کو 10 سال قید

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2019

ای میل

ممبئی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا—فوٹو:اے ایف پی
ممبئی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا—فوٹو:اے ایف پی

بھارت کی ساحلی ریاست گووا میں 2008 میں 15 سالہ برطانوی لڑکی کو منشیات دینے اور قتل کے جرم میں عدالت نے ایک شہری کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس آر دی دھنوکا اور پرتھوی راج چاوان نے بھارتی شہری سیمسن ڈی سوزا کو برطانوی لڑکی اسکار لیٹ کیلنگ پر حملے کے مقدمے میں بریت کے خاتمے کے دوسرے روز ہی سزا سنا دی۔

عدالت نے مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے بریت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

برطانوی لڑکی کی والدہ فیونا میک کیوآن کے وکیل وکرم ورما کا ریاست گووا کے دارالحکومت پانجی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں عدالت کے اس فیصلے سے خوش ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے زیادہ وقت لیا لیکن انصاف ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ 2008 میں 15 سالہ برطانوی لڑکی کی لاش گووا کے ساحل سے برآمد ہوئی تھی جس کے بعد لاکھوں سیاحوں کی جانب سے غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

مزید پرھیں:بھارت میں آسٹریلوی سیاح کی پھندا لگی لاش برآمد

پولیس نے ابتدائی طور پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسکار لیٹ کیلنگ نے منشیات کا استعمال کیا تھا اور اس کے بعد ڈوب گئی تھیں لیکن لڑکی کی والدہ کے بیان کے بعد پولیس نے اپنے بیان کو بھی تبدیل کردیا تھا۔

برطانوی لڑکی کی ماں 11 سال تک انصاف کے لیے بھارتی عدالتوں میں لڑتی رہیں اور بالآخر انہیں انصاف مل گیا۔

قبل ازیں ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو 2016 میں بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان کو سزا دینے کے لیے ثبوت ناکافی ہیں۔

اسکارلیٹ کیلنگ کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف بھارت کے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن اور بھارتی ایف بی آئی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جہاں 2017 میں اس کی سماعت شروع ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: کشمیر میں بچی کا ریپ اور قتل مذہبی رنگ اختیار کرگیا

خیال رہے کہ بھارتی قوانین کے مطابق ملزم اور پراسیکیوٹر دونوں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں۔

قانون کے مطابق ملزم اور پراسکیوٹر دونوں کے پاس سزا کے خلاف سپریم کورٹ جا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی پراسیکیوٹر دوسرے ملزم کی بریت کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے۔

بھارت میں گزشتہ کئی برسوں سے سیاحوں کے ساتھ مختلف اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جبکہ غیرملکی سیاحوں کو ریپ کا نشانہ بنانے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے تھے۔