بھارت چاند کی جانب دوسری بار مشن بھیجنے میں کامیاب

22 جولائ 2019

ای میل

چندریان ٹو کو 22 جولائی کی دوپہر کو خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے
چندریان ٹو کو 22 جولائی کی دوپہر کو خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے

بھارت نے ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد چاند پر اپنا دوسرا مشن ’چندریان ٹو‘ 22 جولائی کی دوپہر کو بھیج دیا۔

ابتدائی طور پر بھارت کو ’چندریان ٹو‘ کو گزشتہ ہفتے 15 جولائی کو بھیجنا تھا، تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس مشن کو نہیں بھیجا جا سکا تھا۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت نے اپنا خلائی مشن چاند پر بھیجا ہے اور اگر اس بار انڈیا کا خلائی مشن کامیابی سے چاند پراتر گیا تو بھارت چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔

اس سے بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

اس بار بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے، حکومت اور سائنس دانوں کو یقین ہے کہ انہیں کامیابی ملے گی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق خلائی مشن ’چندریان ٹو‘ کو ریاست آندرا پردیش کے شہر نیلور کے سری ہری کوٹا کے مقام پر قائم ستیش دھون اسپیس اسٹیشن سے تاریخی مشن پر بھیجا گیا۔

’چندریان ٹو‘ کو 22 جولائی بروز پیر کی دوپہر 2 بج کر 43 منٹ پر خلا میں چھوڑا گیا اور اس تاریخی لمحے کو بھارت کے متعدد ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا۔

’چندریان ٹو‘ نامی مشن کو بھارت میں تیار کردہ دیسی ساخت کے راکٹ میزائل جی ایس ایل وی ایم مارک تھری کے ذریعے بھیجا گیا۔

اس مشن میں ایک چانڈ گاڑی، لونر لینڈر اور روور سمیت 13 سائنسی مشینیں، کیمرے اور آلات بھیجے گئے ہیں جو چاند کے تاریک حصے پر تحقیقات کریں گے۔

چاند مشن کو ریاست آندھرا پردیش سے خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: اسرو
چاند مشن کو ریاست آندھرا پردیش سے خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: اسرو

بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائیزیشن (اسرو) کے مطابق کھدائی مشین، لینڈنگ مشین اور موبائل مشین سمیت اعلیٰ درجے کی کوالٹی کا کیمرا بھی چاند پر بھیجا گیا ہے جو چاند کے تاریک حصے پر پانی اور زندگی کی تلاش سمیت دیگر معاملات کی تحقیق کریں گے۔

اسرو کے مطابق چاند پر بھیجا گیا خلائی مشن 23 دن تک زمین کے مدار میں ہی رہے گا اور 30 کے بعد وہ چاند کے مدار میں شامل ہوجائے گا۔

’چندریان ٹو‘ 30 سے 47 ویں دن تک چاند کے مدار میں ہی سفر کرے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ 48 ویں دن مشن چاند کے تاریک ترین جنوبی قطب حصے میں اترے گا۔

چاند پر بھیجے گئے مشن کو جس میزائل جی ایس ایل وی ایم مارک تھری راکٹ سے بھیجا گیا ہے اس میں 110 ٹن سے زائد ایندھن بھرا گیا ہے اور مجموعی طور پر اس راکٹ کا وزن 600 ٹن سے زائد ہے۔

یہ راکٹ تین حصوں ’آربیٹر، لینڈر اور روور‘ پر مشتمل ہے اور ان تینوں حصوں کو الگ الگ نام دیے گیے ہیں۔

آربیٹر کا نام ’وکرم‘ رکھا گیا ہے، اس حصے کا کام چاند کے گرد چکر لگانا اور چاند کی سطح کی جانچ کرنا ہے، دوسرے حصے ’لینڈر‘ کا نام ’وکرم سارا بھائی‘ رکھا گیا ہے اس حصے کا کام مشن کی چاند پر لینڈنگ ہے۔

راکٹ کے تیسرے حصے ’روور‘ کو نام ’پرگیان‘ رکھا گیا ہے اور اس حصے کا کام مشن میں بھیجے گئے سائنسی آلات کو باہر نکالنا، انہیں تحقیق میں مدد دینا اور چاند کی سطح کے 500 میٹر کے گرد چکر لگانے سمیت کئی طرح کی تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے۔

اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس خلائی مشن کے حوالے سے بھارتی حکومت اور بھارتی خلائی تحقیقی ادارے کو امید ہے کہ وہ چاند پر کامیابی سے اتر جائے گا۔

اگر بھارت کا یہ مشن چاند پر کامیابی سے اتر جاتا ہے تو انڈیا امریکا، روس اور چین کے بعد چاند پر پہنچنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔

بھارت نے چاند مشن کو ایک ایسے وقت میں بھیجا ہے جب کہ دنیا بھر میں 2 دن قبل ہی چاند پر انسان کے جانے کا 50 سالہ جشن منایا گیا تھا۔

چاند پر دنیا میں پہلی بار 20 جولائی 1969 کو امریکی خلاباز نیل آرم اسٹرانگ پہنچے تھے۔