فورسز میں کمی کے فیصلے کے باوجود امارات کا یمن نہ چھوڑنے کا اعلان

اپ ڈیٹ جولائ 24 2019

ای میل

یو اے ای نے یمن میں اپنی فورسز کی کمی کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
یو اے ای نے یمن میں اپنی فورسز کی کمی کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

دبئی: جنگ زدہ ملک یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے تیار ہونے کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کہا ہے کہ وہ اس ملک میں تعینات اپنی فورسز کی واپسی کے باوجود یمن کو نہیں چھوڑے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای سعودی اتحادی فوج کا اہم شراکت دار ہے، جس نے 2015 میں یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف صدر عبدربہ منصور ہادی کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔

اس سے قبل امارات کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ وہ یمن بھر سے اپنی فورسز کو کم اور دوبارہ تعینات کر رہا ہے جبکہ وہ ’فوج پہلے‘ سے ’امن پہلے‘ کے منصوبے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا یمن میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ

تاہم اب اس معاملے پر یو اے ای کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں کہا کہ ’میں واضح کردوں کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحاد یمن کو نہیں چھوڑ رہا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جب ہم الگ آپریٹ کریں گے تو ہماری فوج کی موجودگی رہے گی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہم یمن کی مقامی فورسز کی مدد اور مشورہ جاری رکھیں گے‘۔

انور قرقاش نے کہا کہ حوثی یو اے ای کے اقدام کو ’اس تنازع کے خاتمے میں نئے عزم کے لیے اعتماد سازی اقدام ‘ کے طور پر دیکھیں گے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ’چونکہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنے فورسز کی کمی اور دوبارہ تعیناتی کا کہا لہٰذا ہم اس طرح کریں گے جیسا ہم نے آغاز کیا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا ’یہاں جیت آسان نہیں اور یہاں امن بھی آسان نہیں ہوگا لیکن یہی وقت ہے کہ سیاسی عمل کو دوگنا کیا جائے‘۔

واضح رہے کہ متحارب قریقین کے درمیان تعطل پیدا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون سے مذاکرات کے مختلف دور ہوئے، جس کا آخری دور دسمبر میں سویڈن میں ہوا لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر عملدرآمد میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ: یمن جنگ بندی کی نگرانی کیلئے کمیشن کی منظوری

سال 2015 سے شروع ہونے والے اس تنازع میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس تنازع کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں کے بڑے سیاسی رہنما مہدی المشاط کا کہنا تھا کہ ان کا گروپ سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے اور مخصوص شرائط پر مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔

حوثیوں کی سبا نیوز ایجنسی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’(ہم) میزائل اور فضائی حملے روکنے کے لیے مکمل تیار ہیں اگر دشمن کی جانب سے بھی یہی اقدامات اٹھائے جائیں اور بندرگاہوں کے ذریعے بنیادی امداد کی بحالی میں مدد کی جائے تو پھر ہم سیاسی عمل شروع کرسکتے ہیں‘۔