ای میل

ورلڈ کپ 2019ء سے متعلق ڈان کے لکھاری کیا سوچتے ہیں؟

فہیم پٹیل

تمام تر اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے، اور کرکٹ سے لگاؤ رکھنے والوں کو اتنے بڑے اسٹیج پر مقابلے دیکھنے کے لیے 4 سال انتظار کرنا ہوگا۔

بلاگ ڈیسک کی ذمہ داری ہونے کی وجہ سے ہماری پوری ٹیم نے اس بات کی تیاری کئی ماہ پہلے ہی کرلی تھی کہ اس میگا ایونٹ کو کس طرح کور کرنا ہے۔ ہم نے یہ سوچا کہ پاکستان کے تمام راؤنڈ میچ تو کور کیے ہی جائیں، مگر اس سے پہلے بھی ورلڈ کپ کے حوالے سے کچھ اہم باتیں اپنے قارئین تک پہنچائی جائیں۔

اس مقصد کے لیے ہم نے لکھاریوں کا ایک گروپ بنایا اور پھر ان کے ساتھ اپنے ان خیالات کو شئیر کیا، اور ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے ہمارے خیالات سے اتفاق کیا اور جیسا جیسا ہم کہتے گئے، وہ ان آئیڈیاز پر ہمیں تحریریں بھیجتے رہے۔

لہٰذا ہم نے آغاز کیا ورلڈ کپ میں ہونے والے اہم ترین میچوں سے۔ اس میں پاکستان کا ہونا ضروری نہیں تھا، بلکہ کسی بھی ورلڈ کپ میں سب سے اہم ترین میچ کونسا ہوا، اس پر ہم نے روشنی ڈالی۔

پھر 1992ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے تمام ہی میچوں پر بات کی اور ایک تاریخی موقع کو دوبارہ سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔

جب پاکستان ورلڈ چیمپئن بنا
جب پاکستان ورلڈ چیمپئن بنا

فائنل میں جیت کے بعد کا منظر
فائنل میں جیت کے بعد کا منظر

اس کے بعد ہم نے ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی یادگار کارکردگیوں کا ذکر کیا۔ اسی طرح ورلڈ کپ کی تاریخ کے 5 متنازع میچ کون سے ہیں، اس بارے میں بھی بتایا، تاکہ یہ ساری یادیں قارئیں کے ذہن میں ایک بار پھر تازہ ہوجائیں۔

جب ورلڈ کپ شروع ہوا تو ابتدائی طور پر ہم نے پاکستانی ٹیم پر فوکس کیا، لیکن جیسے جیسے ایونٹ آگے کی جانب بڑھا تو پھر توجہ تمام ہی میچوں پر بڑھتی چلے گئی۔

اس وقت تمام ہی شائقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک کے بعد ایک میچ بارش کی وجہ سے متاثر ہونے لگا تو ہم نے اس پر بھی بات کی، کہ آخر کیا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے موسم کو مدنظر نہیں رکھا تھا، جو میچ منسوخ ہوئے تو کیا ان کے خریدے گئے ٹکٹ کے پیسے واپس کیے جائیں گے یا نہیں۔

غرض یہ کہ بعد میں ہر ایک میچ کی فوری رپورٹ اور تجزیے ہم آپ تک پہنچاتے رہے۔

لیکن یہ ورلڈ کپ کئی حوالوں سے شاید ہمیشہ ہی یاد رہے۔ جیسے خراب امپائرنگ کا معیار اور خصوصاً فائنل میں ہونے والے فیصلے۔ لہٰذا ہم نے سوچا کہ جن لکھاریوں نے ورلڈ کپ 2019ء میں ڈان کے لیے مستقل لکھا، تو کیوں نہ ان سے اس سارے حوالے سے رائے لی جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے ان کے سامنے کچھ سوال رکھے ہیں، دیکھتے ہیں وہ ان کا کیا جواب دیتے ہیں۔


ورلڈ کپ 2019ء کو آپ 10 میں سے کتنے نمبر دینا چاہیں گے؟


فہد کیہر

10 میں سے 8۔ کاٹے گئے 2 نمبروں میں سے ایک بارش کی وجہ سے اہم مقابلے ضائع ہونے اور ان کے اگلے مراحل پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے اور دوسرا نمبر فائنل سمیت تقریباً پورے ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے ناقص معیار کی وجہ سے کاٹا ہے۔ فائنل میں بھی ناقص امپائرنگ کا میچ کے نتیجے پر بہت بڑا اثر پڑا، ورنہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت انگلینڈ نہیں بلکہ نیوزی لینڈ ورلڈ چیمپئن ہوتا۔

خرم ضیا خان

ورلڈ کپ 2019ء کو میں 7 نمبر دینا چاہوں گا۔ مجموعی طور پر انتظامات بہت اچھے تھے لیکن 46 روز تک اس کو کھینچنا شاید کچھ زیادہ وقت تھا۔ اس لیے امید ہے کہ مستقبل میں ہونے والا یہ میگا ایونٹ 30 دن یا اس سے کم عرصے پر محیط ہوگا۔

محسن حدید

میں اس ورلڈ کپ کو 10 میں سے 8.5 نمبر دینا چاہوں گا۔ ان نمبرز کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مجموعی طور پر یہ ورلڈ کپ میرے لیے بہت اچھا رہا۔


آپ کے نزدیک اس ورلڈ کپ کے سب سے مثبت اور منفی پہلو کون سے ہیں؟


فہد کیہر

سب سے اچھی چیز تھی بیٹ اور بال کا توازن۔ بہت عرصے بعد ہم نے دیکھا کہ کسی ٹورنامنٹ میں ہمیں بیٹسمین بھی جدوجہد کرتے اور باؤلرز بھی دَم لگاتے نظر آئے ورنہ پچھلے 8، 10 سال کی کرکٹ باؤلرز کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھی۔ آسٹریلیا میں ہونے والا پچھلا ورلڈ کپ ہی دیکھ لیں کہ جس میں 17 مرتبہ ٹیموں نے 350 یا اس سے زیادہ رنز بنائے بلکہ 4 مرتبہ تو ٹوٹل 400 کا ہندسہ بھی عبور کر گیا۔

جبکہ اس مرتبہ یعنی 2019ء میں صرف 4 مرتبہ ہی ٹیمیں 350 پلس اسکور بناسکیں اور کوئی ایک ٹیم بھی 400 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کرسکی۔ بہت سے لو-اسکورنگ اور شاندار مقابلے دیکھنے کو ملے۔ سیمی فائنل اور فائنل میں کوئی ٹیم 250 رنز تک نہيں بنا پائی جو ظاہر کرتا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں بہترین وکٹیں بنائی گئیں۔ باؤلرز نے کنڈیشنز کا اچھا استعمال کیا اور بلے بازوں کی کھلی اجارہ داری نہیں تھی جو ہمیں عرصے سے دنیائے کرکٹ پر نظر آ رہی ہے۔

سب سے بُری چیز تھی فائنل میں 'باؤنڈری کاؤنٹ' کی بنیاد پر ورلڈ چیمپئن کا فیصلہ کرنا۔ سپر اوور میں بھی ٹائی ہونے پر تو ٹرافی شئیر ہی ہونی چاہیے تھی لیکن اگر کوئی چیز کاؤنٹ کرنا ہی تھی تو آخر وکٹیں کیوں نہ کاؤنٹ کی گئیں کہ جو طریقہ ماضی میں بھی رائج رہا ہے کہ میچ ٹائی ہونے پر اسے فاتح قرار دیا جاتا تھا جس کی وکٹیں کم گرتی تھیں۔

خرم ضیا خان

اس عالمی کپ میں کئی مثبت پہلو ہیں، جیسے خلافِ توقع فائنل میچ نہایت دلچسپ اور سنسنی خیز رہا اور میرے نزدیک یہ اس عالمی کپ کا سب سے اچھا پہلو تھا۔ اس کے علاوہ اس ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے انگلینڈ میں جو ایک روزہ میچ کھیلے گئے تھے ان میں بڑے بڑے اسکور دیکھنے کو ملے تھے اور اسی تناظر میں توقع تھی کے اس میگا ایونٹ میں بھی صورتحال کچھ یہی ہوگی، بلکہ کچھ کے خیال میں تو اس بار شاید پہلی مرتبہ کوئی ٹیم 500 رنز کا ہندسہ بھی عبور کرلے، لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ ایسا نہیں ہوا۔ لہٰذا خواہش تو یہی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی ہی پچوں کی تیاری کو یقینی بنایا جائے جن کا رویہ دونوں اننگز کے دوران یکساں رہے اور ٹاس کی ہار یا جیت کا میچ کے نتیجے پر کوئی اثر نہ پڑے۔

اگر منفی پہلو کی بات کی جائے تو بارش نے جس طرح ٹورنامنٹ کے ابتدائی ہفتوں میں مقابلوں کو متاثر کیا وہ ایک منفی پہلو تھا۔ پھر اس میں مزید خرابی یوں پیدا ہوئی کہ راؤنڈ میچوں کے لیے کوئی اضافی دن نہیں رکھا گیا تھا، لیکن اگر میگا ایونٹ کے لیے اس حوالے سے سوچا جائے تو یہ اچھا ہوگا۔

محسن حدید

مثبت پہلو تو اس مرتبہ رکھا گیا فارمیٹ ہے، جس نے جیسے دل ہی خوش کردیا۔ جبکہ منفی پہلو میں ظاہر ہے کہ باؤنڈریز کا قانون ہے، جس نے صرف مجھے ہی نہیں، بلکہ کرکٹ کو چاہنے والے ہر ایک فرد کو مایوس کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کمی شدت سے محسوس کی گئی، اور وہ تھی کہ راؤنڈ میچوں کے لیے بارش کی صورت اضافی دن کی۔


اس میگا ایونٹ میں کن چیزوں کی کمی لگی؟


فہد کیہر

سیدھی سی بات ہے پاکستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہوئی۔ اگر یہ بات آپ کو مذاق لگ رہی ہے تو میری ذاتی رائے میں ورلڈ کپ 2019ء ایک ’پرفیکٹ ٹورنامنٹ‘ تھا اور 1992ء کے بعد جو ورلڈ کپ سب سے زیادہ پسند آیا، وہ یہی تھا۔ اس نے ورلڈ کپ 1999ء کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور ساتھ ہی ثابت بھی کیا کہ انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس، بارش کے باوجود، بہت شاندار ہوتے ہیں۔ یعنی اس ورلڈ کپ میں بحیثیت مجموعی کوئی بڑی کمی نظر نہیں آئی۔

خرم ضیا خان

سب سے زیادہ کمی جو محسوس کی گئی وہ ڈے اینڈ نائٹ میچوں کی کمی تھی، حتیٰ کہ فائنل بھی ڈے اینڈ نائٹ نہیں کروایا گیا۔ اگر پورے ایونٹ پر نظر ڈالیں تو صرف 8 ڈے اینڈ نائٹ میچ کھیلے گئے۔ آئی سی سی کو اس حوالے سے ضرور سوچنا چاہیے۔

محسن حدید

جی کمی تھی، بالکل کمی تھی اور وہ کمی ٹیموں کی کمی تھی۔ اگر اس ورلڈ کپ میں آئرلینڈ اور زمبابوے کی ٹیموں کو بھی شامل کرلیا جاتا تو شاید یہ زیادہ بہتر ہوتا۔


امپائرنگ کے معیار پر بہت شور مچا ہوا ہے؟ آپ کی کیا رائے ہے؟


فہد کیہر

اس ورلڈ کپ میں امپائرنگ نے خاص طور پر بہت مایوس کیا، اور صرف مایوس ہی نہیں کیا بلکہ زخموں پر نمک بھی چھڑکا۔ اب دیکھیے نا کہ فائنل میں ہونے والی ناقص امپائرنگ نے تو جیسے میچ کا نتیجہ ہی تبدیل کردیا۔ اگر ٹورنامنٹ میں ہونے والے باقی تمام فیصلوں کو بھی ایک طرف رکھ دیں تو آخری لمحات میں اوور تھرو پر انگلینڈ کو 5 کے بجائے 6 رنز سے نواز دینا ایسی بھیانک غلطی تھی کہ جس کے نتیجے میں میچ بعد میں ٹائی ہوا، سپر اوور میں گیا اور وہاں فیصلہ انگلینڈ کے حق میں گیا۔ اگر یہ ایک فیصلہ امپائر ٹھیک کرلیتے تو نیوزی لینڈ ایک رن سے میچ جیت جاتا اور معاملہ سپر اوور تک جاتا ہی نہیں۔

بہرحال، اگر ایسا ہوجاتا، کاش ویسا ہوجاتا کہہ کر تو بہت سے مفروضے کھڑے کیے جاسکتے ہیں لیکن یہ بات تو بالکل ظاہر ہے کہ پورے ورلڈ کپ میں امپائرنگ اس معیار کی نظر نہیں آئی، جیسی اتنے بڑے ٹورنامنٹ میں ہونی چاہیے تھی۔

خرم ضیا خان

میری رائے میں مجموعی طور پر عالمی کپ میں امپائرنگ کا معیار ٹھیک تھا۔ کہیں کہیں امپائرز کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان اس لیے نظر آیا کہ انہوں نے بارڈر لائن کیسز میں مضبوط ٹیموں کے حق میں فیصلہ دینے کو ترجیح دی۔ امپائرز کہیں کہیں پچ میں موجود باؤنس کو بھی ٹھیک طرح سے نہیں جانچ سکے جس کی وجہ سے ان سے چند غلط فیصلے ہوئے۔ لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ٹیموں نے بھی اپنے ریویو کا درست استعمال نہیں کیا۔ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کا میچ اس کی مثال ہے کہ جب امپائر نے ایک اہم موقع پر عمران طاہر کی گیند پر نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو آؤٹ نہیں دیا تو جنوبی افریقہ کی ٹیم نے ریویو نہیں لیا، حالانکہ ری پلے میں یہ واضح طور پر دیکھا گیا کے گیند ولیمسن کے بیٹ کو چُھو کر کیپر کے گلوز میں گئی تھی۔

محسن حدید

اس میگا ایونٹ میں امپائرنگ میں ضرور کچھ گڑبڑ تھی لیکن اوور آل اتنا بُرا حال نہیں تھا۔ لیکن اس موقع پر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ کھلاڑیوں کی اس حوالے سے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ریویو کا استعمال کب اور کن کن صورتوں میں کیا جائے۔ اس کے علاوہ 50 اوور کی کرکٹ میں ایک ریویو کم ہے، اسے 2 تک بڑھانا بہت ضروری ہے۔


کن قوانین کو فوری طور پر تبدیل ہونے کی ضرورت ہے؟


فہد کیہر

2 قوانین کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ایک تو سپر اوور ٹائی ہونے پر میچ کا فیصلہ باؤنڈری کاؤنٹ پر تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ کم از کم ورلڈ کپ میں تو دونوں کو مشترکہ چیمپئن قرار دینا چاہیے اور اگر کرنا ہی ہے تو اس کے لیے دیگر عوامل کو آزمانا چاہیے۔ دوسرا نیٹ رن ریٹ کا قانون ہے۔ جب ٹورنامنٹ راؤنڈ رابن فارمیٹ میں ہو رہا ہے یعنی ہر ٹیم ایک دوسرے کے خلاف ایک میچ کھیل رہی ہے تو ایسی صورت میں جب سیمی فائنل یا فائنل تک پہنچنے کا معاملہ پھنس جائے تو 'ہیڈ ٹو ہیڈ' مقابلے کو اہمیت دینی چاہیے۔ وہاں جیتنے والے کو آگے کا ٹکٹ پکڑانا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے 1999ء کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کا مقابلہ ٹائی ہونے پر آسٹریلیا کو فائنل تک رسائی دی گئی تھی۔

خرم ضیا خان

ورلڈ کپ کے دوران چند قوانین پر بہت زیادہ تنقید ہوئی، خاص طور پر چوکوں کے فرق کی وجہ سے فائنل کا فیصلہ ہونا۔ اس فیصلے نے تو ایک نیا پینڈورا باکس ہی کھول دیا۔ اس لیے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ آئی سی سی اس قانون پر نظرثانی کرے گا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ فائنل میچ برابر ہونے کی صورت میں دونوں ٹیموں کو ہی فاتح قرار دیا جانا چاہیے۔

فائنل کے اہم ترین موقع پر جب امپائر کمار دھرماسینا نے اوور تھرو کے 6 رنز دیے تو میچ کے بعد آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سابق امپائر سائمن ٹوفل نے یہ معاملہ اٹھایا اور قانون کے بارے میں بتایا تھا کہ جس وقت فیلڈر نے باؤنڈری سے گیند پھینکی تھی اس وقت تک کریز پر موجود بیٹسمینوں نے اگر دوسرا رن لیتے ہوئے کراسنگ نہیں کی تھی تو ایسی صورت میں امپائر کو 2 کے بجائے ایک رنز دینے چاہیئے تھے۔ جب اس معاملے پر بہت شور مچا تو پھر دھرماسینا نے اپنی اس غلطی کا اعتراف کرلیا۔

لیکن دو فیلڈ اپمائرز، ایک ٹیلی وژن امپائر اور گراؤنڈ میں موجود متعدد کیمروں کے باوجود اس نوعیت کی غلطی تعجب کی بات ہے۔ میں بھی بہت عرصے سے کرکٹ دیکھ رہا ہوں اور میں نے بھی کراسنگ کی اس شرط کے بارے مین پہلے نہیں سنا اور شاید میچ میں موجود امپائر بھی اس شرط سے نابلد تھے۔

محسن حدید

بہت سارے قوانین ہیں جن کو تبدیل ہونا چاہیے۔ جیسے ڈک ورتھ لوئس کا قانون، اسی طرح رن ریٹ کی بنیاد پر کسی ٹیم کو کوارٹر فائنل، سیمی فائنل یا فائنل کے لیے اہل قرار دینا بالکل بھی ٹھیک عمل نہیں۔ جب بھی کسی 2 ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوجائیں تو اسی ٹیم کو آگے بھیجنا چاہیے جس نے راؤنڈ میچ میں اس ٹیم کے خلاف فتح حاصل کی ہو۔

ایک اہم بات یہ کہ امپائر کے غلط فیصلوں کے حساب سے مائنس پوائنٹ کا ایک انڈیکیٹر بنایا جانا چاہیے جس کو ٹچ کرنے سے امپائر کو 2 یا 3 سال کے لیے انڈر گراونڈ کرنے کی سزا ملنی چاہیے۔


فہیم پٹیل ڈان کے بلاگز ایڈیٹر ہیں۔ آپ کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔