سوڈان: فوج اور مظاہرین کے درمیان حکومت سازی کے آئینی معاہدے پر دستخط

اپ ڈیٹ 04 اگست 2019

ای میل

17 اگست کو غیر ملکی حکام  کی موجودگی میں اس معاہدے  پر باضابطہ دستخط ہوں گے — فوٹو: رائٹرز
17 اگست کو غیر ملکی حکام کی موجودگی میں اس معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے — فوٹو: رائٹرز

سوڈان میں 7 ماہ سے جاری احتجاج کے بعد فوجی حکمرانوں اور مظاہرین کے درمیان آئینی معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں منعقدہ تقریب میں معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت 17 جولائی کو مشترکہ سول و ملٹری قیادت کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے تاریخی معاہدے اور سول حکومت کے قیام کے لیے سول و ملٹری مشترکہ حکمران کونسل کا قیام ممکن ہوسکے گا۔

احتجاجی تحریک کے سربراہ احمد رابی اور ملٹری کونسل کے نائب سربراہ جنرل محمد ہمدان داغالو نے آئینی معاہدے پر دستخط کیے جس میں افریقی یونین اور ایتھیوپیا کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے نمائندے بھی موجود تھے۔

جنرل محمد ہمدان داغالو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے اس معاہدے پر دستخط کرکے سوڈان کی تاریخ کے مشکل وقت کو پلٹ دیا ہے'۔

مزید پڑھیں: سوڈان: فوج اور مظاہرین کے درمیان حکومت سازی کے معاہدے پر دستخط

دونوں فریقین کے نمائندگان کی جانب سے مصافحے کے بعد آئینی معاہدے پر دستخط پر جوش تالیوں کے ساتھ ہوئے اس دوران احتجاجی تنظیم دی الائنس فار فریڈم اینڈ چینج کے اراکین کی آنکھیں نم تھیں۔

سوڈانی عوام کے مجمع نے ہال کے باہر 'خون کے بدلے خون، ہماری حکومت سویلین ہے'، انقلاب ،انقلاب' کے نعرے بلند کیے۔

احتجاجی تنظیم کے رہنما منظر ابوالمالی نے بتایا کہ 17 اگست کو غیر ملکی حکام کی موجودگی میں اس معاہدے پر باضابطہ دستخط ہوں گے۔

خیال رہے کہ جس دن سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر کے خلاف کرپشن الزامات پر ٹرائل کا آغاز ہوگا اور اس کے اگلے روز جنرلز اور احتجاجی رہنما نئی عبوری سول حکمران کونسل کے قیام کا اعلان کریں گے۔

منظر ابوالمالی نے کہا کہ 'خود مختار حکمران کونسل کے اراکین کے ناموں کا اعلان 18 اگست کو کیا جائے گا جبکہ وزیراعظم 20 اگست کو اور کابینہ ارکان 28 اگست کو نامزد کیے جائیں گے'۔

4 اگست کو طے پایا جانے والا آئینی معاہدہ فوجی قیادت اور مظاہرین کے درمیان مشکل مذاکرات کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان: فوج اور مظاہرین کے درمیان تاریخی معاہدہ طے

واضح رہے کہ افریقی یونین اور ایتھوپیا کی ثالثی میں حکومت سازی کے معاہدے پر اصولی اتفاق 5 جولائی کو ہوا تھا۔

معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ نئی حکمران تنظیم تشکیل دی جائے گی جس میں 6 سویلین اور 5 ملٹری کے نمائندے شامل ہوں گے۔

معاہدے کے مطابق سویلین نمائندوں میں 5 رہنما الائنس فار فریڈم اینڈ چینج سے شامل ہوں گے۔

دونوں فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ سوڈان کی نئی حکمران تنظیم کی سربراہی ابتدائی 21 مہینوں تک ایک جنرل کریں گے اور بقیہ 18 ماہ سویلین رہنما سربراہ ہوں گے۔

گورننگ کونسل، سویلین انتظامیہ کی تشکیل کی نگرانی کرے گی جو صرف تین برس تک فعال ہوگی جس کے بعد انتخابات ہوں گے۔