آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہے گا، وزیراعظم آزاد کشمیر

اپ ڈیٹ 05 اگست 2019

ای میل

پاکستان کی تمام اکائیاں مسئلہ کشمیر پر متفق ہیں، راجہ فاروق حیدر — فوٹو: ڈان نیوز
پاکستان کی تمام اکائیاں مسئلہ کشمیر پر متفق ہیں، راجہ فاروق حیدر — فوٹو: ڈان نیوز

آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجا فاروق حیدر نے کہا کہ پاکستان کی تمام اکائیاں مسئلہ کشمیر پر متفق ہیں، بھارت تمام مظالم کے باوجود کشمیریوں کا حق خود ارادیت نہیں چھین سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے حقوق سلب کررہا ہے اور کلسٹربم کا استعمال کرکے کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی جارحیت کے نتیجے میں بچے بھی جاں بحق ہوئے جبکہ بھارت ایل او سی پر کارروائیاں کرکے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا چاہتا ہے، اس کے علاوہ بھارت راستے بند کردیتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں تجویز دی تھی کہ اس معاملے پر فوری طور پر کچھ کیا جائے ورنہ نریندر مودی کچھ اقدام اٹھائے گا اور انہوں نے یہ کردیا۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی حکومت، عوام اس قسم کی کسی چیز کو نہیں مانتے جبکہ ہم مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ہی نہیں مانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر اس کا اٹوٹ انگ بھی نہیں رہے گا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ کل کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا ہے جبکہ میں عید کے بعد امریکا جارہا ہوں اور ہم اپنے وزرا کے وفود کو جرمنی، فرانس اور برسلز بھیجیں گے تاکہ دنیا میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں افواج پاکستان پر مکمل اعتماد ہے جو لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بارڈر پر دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ اگر بھارت نے آزاد کشمیر کے خلاف کچھ کرنے کی کوشش کی تو آزاد کشمیر کا مرد و زن، بچہ بچہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہوگا، ہم نے بھارت سے 72 سال سے مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر مسلمانوں پر کیے مظالم کے کچھ حساب بھی چکانے ہیں۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت 40 کے قریب حریت پسند رہنما تہاڑ جیل میں قید ہیں، صورتحال بہت سنگین ہے، بھارت کے اس فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان جموں کے لوگوں کو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام مسترد کردیا

پریس کانفرنس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے کہا کہ ایل او سی پر کوئی مشکل پیش آئی تو ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔

راجا فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تھی، ثالثی تو بعد کی بات ہے لیکن بھارت کو پتہ ہے کہ اگر کل اس مسئلے پر بات ہونی شروع ہوئی تو بھارت کو جواب دینا پڑے گا۔

انہوں نےکہا کہ عالمی فورم پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق پوچھا جائے گا اس لیے بھارت نے سوچا کہ کشمیریوں کو طاقت کے ذریعے کچل دیا جائے تاکہ کوئی بھی کھڑا نہ ہوسکے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بھارت یہ سب 70 سال سے کررہا ہے، یہ اس کی غلط فہمی ہے کہ طاقت کے ذریعے کچل سکے گا، اسے جتنی فورسز بھیجنی ہے بھیج دے، کشمیری اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بنیے کی چال میں نہ آئیں، یہ دہلی کا بنیا انتہائی خطرناک ہے اس کی چال میں نہیں آنا اور ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرنا ہے۔