بھارت کشمیر سے متعلق اقدام کو اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے، امریکا

اپ ڈیٹ 06 اگست 2019

ای میل

واشنگٹن نے دونوں ممالک سے لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام قائم کرنے پر بھی زور دیا — فائل فوٹو/رائٹرز
واشنگٹن نے دونوں ممالک سے لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام قائم کرنے پر بھی زور دیا — فائل فوٹو/رائٹرز

واشنگٹن: امریکا نے بھارتی کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے فیصلے سے متاثر ہونے والے افراد سے بات چیت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ان اقدامات کو اندرونی معاملات قرار دیتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مورگس اورٹاگس کا کہنا تھا کہ 'جموں اور کشمیر میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ہم بھارت کی جانب سے جموں اور کشمیر سے اس کی آئینی حیثیت واپس لینے کے فیصلے اور بھارت کے اس ریاست کو وفاق کے زیرِ انتظام 2 علاقوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں'۔

خیال رہے کہ واشنگٹن سے جاری بیان میں معاملے پر بھارت کے موقف کا حوالہ دیا گیا جبکہ اس میں پاکستان کے موقف کی کوئی بات نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

امریکا کا کہنا تھا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے ان اقدامات کو اندرونی معاملہ قرار دیا ہے'۔

امریکی حکام نے مقبوضہ وادی میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 'حراست میں لیے جانے کی رپورٹس پر ہمیں تشویش ہے اور ہم انفرادی حقوق کی عزت کرنے اور متاثرہ برادری سے بات چیت کرنے پر زور دیتے ہیں'۔

امریکا نے دونوں ممالک کو لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم تمام جماعتوں سے لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے بیان پر بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ 22 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے کشمیر تنازع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے تاہم بھارت نے ان کے اس بیان کو مسترد کردیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو وہ ان کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔