'مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت مسلم اکثریتی ریاست ہونے پر ختم کی گئی'

12 اگست 2019

ای میل

پی چدم برم یونین وزیر بھی رہ چکے ہیں—فائل فوٹو: نیوز 18
پی چدم برم یونین وزیر بھی رہ چکے ہیں—فائل فوٹو: نیوز 18

بھارت کے سابق یونین وزیر اور کانگریس کے رہنما پی چدم برم نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حالیہ اقدام پر سخت تنقید کرتےہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے آرٹیکل 370 کو ختم کیا گیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کے اقدام کی مذمت کرنے کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کانگریس رہنما نے کہا کہ اگر مقبوضہ جموں و کشمیر ہندو اکثریتی ریاست ہوتی تو بی جے پی اس آرٹیکل کو ختم نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر کی کی صورتحال غیرمستحکم ہے اور بین الاقوامی خبررساں اداے اس بدامنی کو رپورٹ کر رہے لیکن بھارتی میڈیا ہاؤسز نہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی فورسز کے سامنے کشمیریوں کے آزادی کے نعرے

پی چدم برم نے کہا کہ انہوں نے 7 ریاستوں میں 7 مقامی جماعتوں کی جانب سے 'ڈر' کے باعث راجیہ سبھا میں بی جے پی کے اقدام کے خلاف تعاون نہیں کیا۔

اپوزیشن جماعتوں کے تعاون نہ کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ 'مجھے معلوم ہے کہ لوک سبھا میں ہماری اکثریت نہیں تاہم اگر ان 7 جماعتوں نے تعاون کیا ہوتا تو راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی اکثریت ہوجاتی لیکن یہ رویہ افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں ایسی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی کہ ایک ریاست کا درجہ یونین ٹیرٹری میں بدل دیا ہو۔

ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی حکومت پر اقتدار کی طاقت استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی مذمت کی۔

پی چدم برم نے یہ بھی کہا کہ 'آج جموں اینڈ کشمیر کو ایک میونسپلٹی میں تبدیل کردیا گیا ہے، آرٹیکل 371 کے تحت دیگر ریاستوں کے لیے خصوصی دفعات ہیں تو پھر صرف جموں اینڈ کشمیر ہی کیوں، یہ مذہبی جنونیت کی وجہ سے ہے'

انہوں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر ہندو اکثریت ریاست ہوتی تو بی جے پی کبھی ایسا نہیں کرتی، انہوں نے صرف اس لیے کیا کیونکہ یہ علاقہ مسلمانوں کیا اکثریت ہے۔

بھارتی وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد خطاب میں ان مخصوص قوانین کی بات کی جو جموں اینڈ کشمیر کے لیے لاگو نہیں ہوتے لیکن میں 'ایسے 90 دیگر قوانین کی فہرست نکال سکتا ہوں جو وہاں لاگو ہوتے ہیں۔

دوسری جانب کانگریس رہنما کے بیان پر بھارتیہ جتنا پارٹی کے رہنماؤں کے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 2 منٹ کی فون کال کیلئے مقبوضہ کشمیر میں طویل قطاریں

اس خصوصی آرٹیکل کو ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی، تاہم لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔

بھارت نے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کردیا جبکہ بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر فائرنگ کرکے 6مظاہرین کو شہید اور 100 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں موبائل، انٹرنیٹ سروس سمیت تمام مواصلاتی نظام تاحال معطل ہے جبکہ قابض فورسز نے وادی سے سیکڑوں حریت رہنماؤں و کرکنان کو گرفتار کرلیا تھا۔