'پاکستان نے 15اگست کو یوم سیاہ منا کر بھارت کی بربادی کی بنیاد رکھ دی'

اپ ڈیٹ 15 اگست 2019

ای میل

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان کے کونے کونے ، چپے چپے میں مودی کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور پاکستان نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کی شکل میں منا کر اس کی بربادی کی بنیاد رکھی ہے۔

پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آج پوری قوم یوم سیاہ منارہی ہے اور یہ صرف پاکستان نہیں عالمی سطح پر بھی منایا جارہا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم نے 14 اگست کو وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں یوم آزادی کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جبکہ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں اور جلوس اور ریلیاں نکالی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے مطالبے پر سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کشمیر تنازع پر غور کا امکان

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کل یہ ثابت کردیا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کی آزادی کی خوشیاں ادھوری ہیں، ہمیں کشمیر کے اس نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنا ہے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطابق کشمیر کو پاکستان کے ساتھ جڑنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کو الگ شناخت دینا تھا، قائداعظم اور ان کے رفقا کی لازوال قربانیوں کی بدولت یہ ملک وجود میں آیا تھا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قائد اعظم نے برصغیر میں دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی کیونکہ وہاں دو نظریات کا ٹکراؤ چل رہا تھا.

معاون خصوصی نے کہا کہ بھارت نے سیکولر ریاست ہونے کا دعویٰ کیا تھا لیکن آج وہاں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اس کی وجہ سے جو مسلمان یا اقلیتیں اس وقت اکھنڈ بھارت کے نعرے کی حمایت کرتے تھے وہ شرمندہ اور مایوس ہیں، وہ سمجھ گئے ہیں کہ ہندو مت، ہندو برتری اور آر ایس ایس کی نظریاتی غنڈہ گردی کے علاوہ کسی شخص یا اقلیت کے لیے بھارت میں ایک انچ جگہ باقی نہیں رہی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بھارت میں سب سے زیادہ استحصال کشمیریوں کا ہورہا ہے جس کے خلاف آج یوم سیاہ منایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، چیئرمین کشمیر کمیٹی

معاون خصوصی نے کہا کہ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مودی کی تقریر سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جس میں مودی نے خطے میں موجود ممالک کے سامنے اپنے عزائم کی نشاندہی کی ہے، وہ خطے میں سپر مین کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام آزاد و مقبوضہ کشمیر اور بیرون ملک موجود وہ تمام لوگ جو سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم اور ان کا استحصال ہورہا ہے وہ آج یوم سیاہ منارہے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے کل آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر کھڑے ہو کر پیغام دیا کہ مودی ذہن میں رکھنا ہم جنگ کے قائل نہیں لیکن اگر تم نے ہماری غیرت کو للکارا تو ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم جس شخص کو شیطان سمجھتے ہیں، اسے کنکریاں مار کر تسکین محسوس کرتے ہیں، ہمارے مذہبی فریضے میں شیطان کو کنکریاں مارنا باعث ثواب ہے، لہٰذا جب دنیا کے سب سے بڑے شیطان مودی کو یہ قوم کنکریاں مار کر اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی تو اسے دنیا میں کہیں جگہ نہیں ملے گی۔

مزید پڑھیں: کیا دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑنے کی جدوجہد کے تحت اس مسئلے کو سلامتی کونسل لے جانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ گزشتہ 5 دہائیوں میں سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر اجلاس نہیں بلایا گیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ دنیا میں فلسطین ایک مظلوم خطہ رہا لیکن وہاں بھی 11، 11 دن لوگوں کو بھوکا پیاسا نہیں رکھا گیا، لیکن مقبوضہ کشمیر میں آج 12واں دن ہوگیا، نریندر مودی نے ان مظلوم مسلمانوں کو نہ نمازِ عید ادا کرنے دی نہ ہی انہیں قربانی جیسے دینی فرض سے سرخرو ہونے دیا گیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم بھارت کی سیاہ کاری اور مکروہ عمل کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کی شکل میں منا کر اس کی بربادی کی بنیاد رکھی ہے کیونکہ اب بھارت خود تمام اقلیتوں کو دیوار سے لگا کر انتہا پسندی کی سوچ کو ہوا دے کر اس آگ میں جلنے اور بھسم ہونے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم دنیا کو مجبور کردے گی کہ وہ کشمیر کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کونے کونے، چپے چپے میں مودی کے پُتلے جلائے جارہے ہیں، اس کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے، بھارت کا یوم آزادی پاکستان یوم سیاہ کے طور پر منارہا ہے تو انتہا پسند ہندوؤں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ پاکستان، کشمیری عوام کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔