پاکستان تحریک انصاف کا ایک سال: کھیل کے میدان میں کیا کچھ ہوا؟

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتانوں میں شمار کیے جانے والے عمران خان نے جب 18 اگست 2018ء کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیا تو عام خیال یہ تھا کہ کھیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والا وزیرِاعظم ملک میں کھیلوں کی ابتر حالت پر فوری توجہ دے گا اور ایک ایسی حکمتِ عملی مرتب کرے گا کہ پاکستان ایک بار پھر کھیلوں کی دنیا میں روشن ستارہ بن کر چمکے گا۔

لیکن آج حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر مجھے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے مایوسی ہو رہی ہے کہ وزیرِاعظم نے ماسوائے کرکٹ کے دیگر کھیلوں کے نظام میں بہتری لانے اور کھیلوں کو عام کرنے میں اب تک کچھ خاص کردار ادا نہیں کیا اور کھیلوں کے میدان میں پاکستان کا پستی کی جانب سفر بلا تعطل جاری ہے۔

کس کھیل کی اس وقت کیا صورتحال ہے، آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔

کرکٹ

یہ بات بھلا کون نہیں جانتا کہ پاکستانی عوام اگر کسی ایک معاملے پر یک زبان ہوتی ہے تو وہ محض کرکٹ ہی ہے۔ یہ کھیل یہاں رہنے والے اکثریت کا پسندیدہ کھیل ہے، اور کئی لوگ تو اب بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کرکٹ کے بجائے ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے۔

اب چونکہ ہمارے وزیرِاعظم خود کرکٹر رہے ہیں، اور سیاسی میدان میں بھی اگر ان کو کوئی بات سمجھانی ہوتی ہے تو وہ کرکٹ کی مثال کے ساتھ ہی سمجھاتے ہیں۔ صورتحال تو یہ ہے کہ ان کی کوئی بھی تقریر مکمل ہو ہی نہیں سکتی جب تک اس میں کرکٹ کی کوئی مثال نہ پیش کی جائے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ کرکٹ کے لیے ان کے خاص نظریات اور سوچ ہے اور وہ پاکستان کرکٹ کی بگڑتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ اپنے نظریات کا پرچار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب تک ہماری کرکٹ میں اس طرح کا نظام نہیں لایا جائے گا، تب تک ہم جدید کرکٹ میں اچھا کھیل پیش نہیں کرسکیں گے۔

اگر اس پہلے سال کی بات کی جائے تو کرکٹ کے میدان میں یقینی طور پر تبدیلیاں سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ جس ایڈہاک سسٹم کی وہ مخالفت کیا کرتے تھے، وہ اب ختم ہوچکا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا نیا قانون لاگو ہوچکا ہے۔

اسی طرح وہ ہمیشہ اس بات پر اعتراض کیا کرتے تھے کہ وزیرِاعظم پاکستان کو پی سی بی کا پیٹرن ان چیف نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ وزیرِاعظم اب تک پیٹرن ان چیف تو ہیں، مگر نئے قانون کے مطابق وزیرِاعظم کرکٹ کے معاملات پر بورڈ کو مشورہ تو دے سکیں گے لیکن چیئرمین کو اس کے عہدے سے ہٹا نہیں سکیں گے۔

اس نئے آئین کے تحت کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے بہت سے اختیارات چیف ایگزیکٹو کو تفویض کردیے گئے ہیں اور اب چیئرمین، چیف ایگزیکٹو اور 11 ممبران پر مشتمل بورڈ آف گورنرز پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات کو چلائیں گے۔ اس نئے آئین کو رائج کرکے پی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی اس دیرینہ خواہش کو بھی پورا کردیا ہے جس میں وہ پاکستان کرکٹ کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کا کہا کرتے تھے۔

اب چیئرمین، چیف ایگزیکٹو اور 11 ممبران پر مشتمل بورڈ آف گورنرز پی سی بی کے معاملات کو چلائیں گے
اب چیئرمین، چیف ایگزیکٹو اور 11 ممبران پر مشتمل بورڈ آف گورنرز پی سی بی کے معاملات کو چلائیں گے

پھر وزیرِاعظم کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اداروں کے بجائے علاقائی ٹیمیں کھیلیں اور سال 20ء-2019ء کا ڈومیسٹک سیزن وہ پہلا سیزن ہوگا جس میں صرف علاقائی ٹیمیں شرکت کریں گی۔ ۔

ہاکی

سال 2018ء کے آخر میں بھارت کے شہر بھوونیشور میں ہاکی کا 14واں عالمی کپ ٹورنامنٹ کھیلا گیا۔ 16 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں 4 مرتبہ کی عالمی چیمپئن پاکستان کی ہاکی ٹیم نے نہایت خراب کارکردگی پیش کی اور ٹورنامنٹ میں 12ویں پوزیشن حاصل کی۔

وہ وقت بھلا کون بھول سکتا ہے جب پاکستانی ٹیم کی تمام ہی ٹورنامنٹ میں صرف شرکت ہی یقینی نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ مضبوط پوزیشن بھی ہوتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اپنے نظام کی خرابی کی وجہ سے آج قومی ٹیم کو کسی بھی عالمی سطح کے ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔

4 مرتبہ کی عالمی چیمپئن ٹیم کو اب اکثر کوالیفائنگ راؤنڈ سے گزرنا ہوتا ہے
4 مرتبہ کی عالمی چیمپئن ٹیم کو اب اکثر کوالیفائنگ راؤنڈ سے گزرنا ہوتا ہے

پاکستان ہاکی کی دگرگوں حالت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مالی مسائل کی خراب صورتحال کی وجہ سے قومی ٹیم انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے زیرِ انتظام کھیلی جانے والی اولین Pro League سے آخری لمحات میں دستبردار ہوگئی۔ پاکستان کے اس رویے کی وجہ سے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے قومی ہاکی ٹیم پر بھارتی جرمانہ عائد کیا اور یہ خوف پیدا ہوگیا کہ شاید قومی ٹیم پر 2 سال کے لیے پابندی لگادی جائے۔

اس بات کا فیصلہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے گزشتہ ماہ کرنا تھا، مگر وہاں سے کسی حد تک اچھی خبر یہ موصول ہوئی کہ پاکستان کی جانب سے بیک ڈور ڈپلومیسی کی وجہ سے 1 لاکھ 90 ہزار ڈالر کے بجائے 80 ہزار ڈالر جرمانہ ہوا ہے، جبکہ 2020ء میں ٹوکیو اولمپکس کھیلنے کی راہیں بھی بہت حد تک ہموار ہوچکی ہیں۔

اس کھیل میں ایسی شرمناک صورتحال پہلی مرتبہ نہیں آئی۔ ورلڈ کپ سے پہلے آنے والی نازک صورتحال بھلا کون کرسکتا ہے جب ایونٹ شروع ہونے سے 7 دن پہلے تک ہمارے پاس فنڈز کا انتظام نہیں ہوا تھا اور پھر نجی کمپنی نے آگے بڑھ کر پوری قوم کو شرمندگی سے بچایا تھا۔

اگر 2020ء میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کھیلنے کی اجازت ہمیں مل جاتی ہے تو اس کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم کو کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا ہوگا۔ اولمپکس کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی شرمندگی اپنی جگہ، لیکن صورتحال اس وقت یہ ہے کہ ملک میں نصب 12 یا 15 آسٹرو ٹرف کے ساتھ دنیا کے ان ممالک کا مقابلہ کرنا اب ہمارے لیے تقریبآٓ ناممکن ہوچکا ہے۔

جن ممالک سے ہم مقابلہ کرنے کا سوچ رہے ہیں وہاں اسکول کی سطح سے ہی کھلاڑی آسٹرو ٹرف پر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ ہمارے مقامی کھلاڑیوں کو قومی سطح پر بھی آسٹرو ٹرف پر کھیلنا کم ہی نصیب ہوتا ہے۔

لہٰذا اس قومی کھیل کی عظمت کو بچانے کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ضرورت ہے کہ ملک میں جنگی بنیادوں پر آسٹرو ٹرف کا جال بچھایا جائے، کھلاڑیوں کا خیال رکھا جائے، ان کے مالی معاملات کو پورا کیا جائے اور پوری ایمانداری کے ساتھ قومی کھیل کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

وزیرِاعظم عمران خان کو اس بات کا ثبوت دینا ہوگا کہ جتنا لگاؤ وہ کرکٹ سے رکھتے ہیں اتنا ہی لگاؤ قومی کھیل ہاکی سے بھی رکھتے ہیں۔

اسکواش

پاکستان ماضی میں اسکواش کے کھیل میں بھی سرِفہرست تھا لیکن آج اس کھیل میں ہم ایشیائی سطح پر بھی بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔ اسکواش کے کھیل میں پاکستان کو جو بھی کامیابیاں ملیں ان میں فیڈریشن سے زیادہ کھلاڑیوں کی ذاتی کارکردگی کا بہت کردار تھا۔ اب جبکہ نوجوان کھلاڑی ابھر کر سامنے نہیں آ رہے تو میری وزیرِاعظم صاحب سے یہ گزارش ہے کہ وہ اسکواش فیڈریشن کو از سرِ نو مرتب کرنے کے لیے اقدامات کریں اور اس میں ان لوگوں کو شامل کریں جو ملک کے طول و عرض میں سفر کرکے نوجوان اور ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کو تلاش کریں، ان کی تربیت کریں اور ان کو ملک کی نمائندگی کا موقع فراہم کریں۔

پاکستان کو جو بھی کامیابیاں ملیں ان میں فیڈریشن سے زیادہ کھلاڑیوں کی ذاتی کارکردگی کا بہت کردار تھا
پاکستان کو جو بھی کامیابیاں ملیں ان میں فیڈریشن سے زیادہ کھلاڑیوں کی ذاتی کارکردگی کا بہت کردار تھا

فٹبال

فٹبال کو دنیا کا مقبول ترین کھیل مانا جاتا ہے لیکن اس کھیل کو بھی پاکستان میں سیاست کی بھینٹ چڑھا کر نقصان پہنچایا گیا۔ فٹبال کے ایک شائق کی حیثیت سے میرا مشاہدہ یہ ہے کہ اگر دل جمعی اور ایمانداری کے ساتھ کام کیا جائے تو اگلے 5 سے 10 سال کے عرصے میں ٹیم کو اس قابل ضرور بنایا جاسکتا ہے کہ وہ عالمی کپ اور اولمپک ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرسکے۔

اگر دل جمعی کے ساتھ کام کیا جائے تو اگلے 10 سال میں ہم اچھی پوزیشن پر آسکتے ہیں
اگر دل جمعی کے ساتھ کام کیا جائے تو اگلے 10 سال میں ہم اچھی پوزیشن پر آسکتے ہیں

ٹینس

اب جبکہ کرکٹ کے سوا کسی بھی کھیل پر توجہ نہیں دی گئی ہو، پھر چاہے بات ہو قومی کھیل ہاکی کی، دنیا میں مقبول ترین کھیل فٹ بال کی، طویل عرصے تک چیمپئن رہنے والے اسکواش کی تھی تو بھلا ٹینس جیسے کھیل پر کوئی حکومت کیسے کام کرسکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اعصام الحق نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان ایک مرتبہ پھر کھیلوں کے میدان میں ایک روشن ستارہ بن کر ابھرے گا۔

جب کرکٹ کے سوا باقی کھیلوں میں کام نہیں ہوا تو ٹینس پر کیسے ہوسکتا ہے؟
جب کرکٹ کے سوا باقی کھیلوں میں کام نہیں ہوا تو ٹینس پر کیسے ہوسکتا ہے؟

اسنوکر

پاکستان کا کمال یہ ہے کہ یہاں تقریباً تمام ہی کھیلوں میں بے پناہ ٹیلنٹ پایا جاتا ہے، مگر ہم نے اپنی انتظامی خامیوں کی وجہ سے ہر جگہ رسوائی سمیٹی ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی ایک مثال اسنوکر کا کھیل ہے جہاں کھلاڑی بغیر کسی باقاعدہ تربیت کے اپنے محلوں میں قائم اسنوکر کلبز سے کھیل کر قومی سطح پر ابھر رہے ہیں اور قومی سطح پر ابھرنے والے یہ کھلاڑی تسلسل کے ساتھ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔

ابھی یہ پچھلے مہینے کی ہی بات ہے جب پورا پاکستان کرکٹ ورلڈ کپ میں مصروف تھا، عین انہی دنوں قومی اسنوکر کھلاڑیوں نے دوحہ میں یکے بعد دیگرے 4 اسنوکر مقابلوں میں حصہ لے کر 16 تمغوں میں سے نصف درجن تمغے جیت کر ہمارا سر فخر سے بلند کیا، لیکن سچ بتائیے کہ ہم میں سے کتنے لوگوں کو اس کا علم ہے۔

قومی اسنوکر کھلاڑیوں نے 16 تمغوںمیں سے نصف درجن تمغے جیت کر ہمارا سر فخر سے بلند کیا
قومی اسنوکر کھلاڑیوں نے 16 تمغوںمیں سے نصف درجن تمغے جیت کر ہمارا سر فخر سے بلند کیا

المیہ یہ تھا کہ جب ہمارے کھلاڑی یہ اعزازات لے کر وطن واپس پہنچے ہیں تو ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کرنے کے لیے وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

تجزیہ

میں یہ مانتا ہوں کہ بطورِ وزیرِاعظم عمران خان صاحب کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی حالات کے تناظر میں ان پر دباؤ بھی بہت زیادہ ہوگا لیکن اس کے باوجود ان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کھیلوں سے منسلک بہت سے مسائل کا خود تجربہ کرچکے ہوں گے اور ان سے بہتر پاکستان میں کھیلوں کو درپیش مسائل کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

عمران خان اپنی حکومت کے پہلے سال میں تو کرکٹ کے علاوہ کسی اور کھیل پر توجہ نہیں دے سکے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ وہ آنے والے وقت میں دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دیں گے، خاص کر ہاکی پر، کیونکہ یوں قومی کھیل کی تذلیل اب زیادہ برداشت نہیں ہوتی۔