پنجاب حکومت کی ضلعی انتظامیہ کو چینی، روٹی کی قیمتیں کم کروانے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 26 اگست 2019

ای میل

ضلعی حکام نے بتایا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے — فائل فوٹو: ڈان
ضلعی حکام نے بتایا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے — فائل فوٹو: ڈان

حکومت پنجاب نے صوبے میں چینی کی قیمت 76 روپے فی کلوگرام اور 10 روپے فی روٹی تک پہنچنے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ڈویژنل کمشنرز کو مارکیٹ میں ان اشیا کی قیمتیں کم کروانے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر نے راولپنڈی کے کمشنر ثاقب ظفر اور ڈپٹی کمشنر علی رندھاوا کو ہدایات جاری کیں۔

مذکورہ ہدایات ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت 74 روپے فی کلوگرام مقرر کردی۔

علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں کے اطلاق کے لیے چھاپے بھی ماریں گے۔

مزید پڑھیں: اشیائے خورودنوش، گیس کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا

قبل ازیں ریٹیلرز کو فی کلو چینی پر 3 روپے کا منافع حاصل کرنے کی اجازت تھی لیکن اب ضلعی انتظامیہ نے اس منافع کو 2 روپے فی کلو تک محدود کردیا ہے۔

تاہم ریٹیلز نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ہول سیل مارکیٹ میں چینی 75 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے جبکہ ریٹیلرز 78 سے 80 روپے فی کلوگرام تک چینی فروخت کر رہے ہیں۔

ادھر راولپنڈی مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پرویز نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ریٹیلرز ہول سیلرز کے زیادہ نرخ میں چینی خرید کر کم نرخ میں فروخت کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں 75 روپے فی کلو چینی حاصل ہورہی ہے اور ہم اسے 78 روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں لیکن چینی کی فروخت میں صرف 3 روپے فی کلو کا منافع ہورہا ہے جبکہ اس میں چینی لانے کے سفری اخراجات اور پیکنگ کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘چینی کی قیمتوں میں اضافے کی رقم حکومت کوملے گی مجھے نہیں‘

عوام نے بھی چینی کی قیمت میں اضافے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ رمضان کے مہینے میں چینی 54 روپے فی کلو میں حاصل ہورہی تھی تاہم اب صرف 2 ماہ کے عرصے میں اس کی قیمت 80 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔

ایک خریدار نے کہا کہ چینی کی قیمت مارکیٹ میں بڑھتی رہی لیکن حکومت نے اس مسئلے پر اپنی آنکھیں بند رکھیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی کی قیمت موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل کم رہی تھی لیکن پی ٹی آئی کے اقتدار میں آتے ہی چینی کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔

روٹی اور آٹا

اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ نے 10 روپے میں روٹی فروخت کرنے والے نان بائیوں کے خلاف بھی آپریشن کا آغاز کردیا کیونکہ حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت 8 روپے مقرر کی گئی ہے۔

بیشتر نان بائیوں نے قیمتیں کم کرنے سے انکار کردیا لیکن حکام کی جانب سے حکومتی احکامات کی پاسداری نہ کرنے پر 23 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی۔

مزید پڑھیں: نان، روٹی کی گزشتہ قیمتیں بحال کرنے کی ہدایت

نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر شفیق قریشی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روٹی کی قیمت تو 10 روپے سے کم کرکے 8 روپے کردی گئی ہے لیکن نان کی قیمت میں کمی نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہمیں فائن گندم زیادہ قیمت پر مل رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 8 سو 8 روپے مقرر کی تھی تاہم وہ مارکیٹ میں 9 سو 50 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر علی رندھاوا نے ڈان کو بتایا کہ چینی، روٹی اور آٹے کی قیمت مقرر کردی گئی ہیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔